🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. باب : تقليد الإبل
باب: اونٹ کے گلے میں قلادہ (پٹہ) ڈالنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2786
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَمْ يُحْرِمْ وَلَمْ يَتْرُكْ شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کے ہار بٹے (جو آپ نے پہنائے) پھر آپ محرم نہیں ہوئے، اور نہ آپ نے کپڑوں میں سے کوئی چیز پہننی چھوڑی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2786]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی والے اونٹوں کے قلادے تیار کیے، پھر آپ (انہیں حرم میں بھیجنے کے باوجود) نہ تو محرم بنے اور نہ کسی قسم کے کپڑے پہننے ترک کیے (جو محرم کو ترک کرنے پڑتے ہیں)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2786]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 70 (908)، (تحفة الأشراف: 17513) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2777
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهْدِي مِنْ الْمَدِينَةِ، فَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِهِ، ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے ہدی (قربانی کے جانور) بھیجتے تھے تو میں آپ کی ہدی کے ہار بٹتی تھی پھر آپ ان چیزوں میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہ کرتے تھے جن چیزوں سے محرم اجتناب کرتا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2777]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے قربانی کے جانور مکہ مکرمہ کو بھیجا کرتے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے (رسیاں) بٹتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان چیزوں سے پرہیز نہیں فرماتے تھے جن سے ایک محرم پرہیز کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2777]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 106 (1698)، 107 (1699)، 108 (1700)، 109 (1702)، 110 (1703)، الوکالة 14 (2317)، الأضاحي 15 (5566)، صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، سنن ابی داود/الحج 17 (1758)، سنن الترمذی/الحج 70 (909)، سنن ابن ماجہ/الحج 94 (1094)، (تحفة الأشراف: 16582، 17923)، مسند احمد (6/35، 36، 78، 82، 85، 91، 102، 127، 174، 180، 185، 190، 191، 200، 208، 213، 216، 218، 225، 236، 253، 262) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لیے کہ محض ہدی بھیجنے سے آدمی محرم نہیں ہوتا جب تک کہ وہ خود ہدی کے ساتھ نہ جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2778
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَبْعَثُ بِهَا، ثُمَّ يَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے ہار (قلادے) بٹا کرتی تھی، آپ انہیں پہنا کر بھیجتے پھر آپ وہ سب کرتے جو غیر محرم کرتا ہے اس سے پہلے کہ ہدی اپنے مقام پر (یعنی قربان گاہ پر) پہنچے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2778]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے لیے قلادے بٹتی (تیار کرتی) تھی، پھر آپ انہیں (حرم کے لیے) بھیج دیتے، پھر وہ سب کام کرتے جو ایک حلال شخص کرتا ہے، حالانکہ وہ جانور ابھی تک اپنی جگہ نہیں پہنچے ہوتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2778]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17530)، مسند احمد (6/183، 238) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2779
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل , قَالَ: حَدَّثَنَا عَامِرٌ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" إِنْ كُنْتُ لَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يُقِيمُ وَلَا يُحْرِمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے ہار (قلادے) بٹتی تھی، پھر آپ مقیم ہوتے اور احرام نہیں باندھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2779]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یقینا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم کو بھیجے جانے والے جانوروں کے قلادے تیار کرتی تھی، پھر (انھیں بھیجنے کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ ہی میں ٹھہرتے اور محرم نہیں بنتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2779]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 111 (1704)، الأضاحي 15 (5566)، صحیح مسلم/الحج 64 (1312)، (تحفة الأشراف: 17616)، مسند احمد (6/30، 35، 127، 190، 191، 208)، سنن الدارمی/المناسک 86 (1979) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ خود احرام کو نہیں بلکہ حج مر جانے والے کسی حاجی کے ساتھ ہدی بھیج دیتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2780
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الضَّعِيفُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا، ثُمَّ يُقِيمُ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے ہار (قلادے) بٹتی تھی، آپ اسے اپنے ہدی کے جانور کو پہناتے تھے پھر اسے روانہ فرماتے تھے۔ اور آپ خود مقیم رہتے، اور جن چیزوں سے محرم بچتا ہے ان چیزوں سے آپ نہیں بچتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2780]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے لیے قلادے بٹتی (تیار کیا کرتی) تھی۔ آپ وہ قلادے ان جانوروں کو پہناتے، پھر انھیں حرم کے لیے بھیج کر خود مدینہ منورہ ہی میں رہتے اور کسی ایسی چیز سے اجتناب نہیں فرماتے تھے جس سے محرم اجتناب کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2780]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 119 (1702)، صحیح مسلم/الحج 14 (1321)، سنن ابن ماجہ/الحج 94 (3095)، (تحفة الأشراف: 15947)، مسند احمد (6/233) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2781
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ قَلَائِدَ الْغَنَمِ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ يَمْكُثُ حَلَالًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے ہار (قلادے) بٹا کرتی تھی پھر آپ حلال (غیر محرم) ہی رہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2781]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، فرماتی ہیں کہ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرم کو بھیجی جانے والی بکریوں کے لیے قلادے تیار کرتی تھی، پھر آپ (انھیں حرم کی طرف بھیجنے کے بعد) حلال رہتے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2781]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 110 (1703)، صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، سنن الترمذی/الحج 70 (909)، (تحفة الأشراف: 15985)، مسند احمد (6/91، 174، 191، 253، 262)، ویأتي عند المؤلف: 2787، 2791، 2799) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2782
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَنٍ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ:" أَنَا فَتَلْتُ تِلْكَ الْقَلَائِدَ مِنْ عِهْنٍ كَانَ عِنْدَنَا، ثُمَّ أَصْبَحَ فِينَا، فَيَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ مِنْ أَهْلِهِ، وَمَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ".
ام المؤمنین (عائشہ رضی الله عنہا) کہتی ہیں کہ میں نے ان ہاروں (قلادوں) کو اس رنگین اون سے بٹا جو ہمارے پاس تھے پھر ہم میں موجود رہ کر آپ نے صبح کی اور وہ سب کام کرتے رہے جو غیر محرم اپنی بیوی سے کرتا ہے اور جو عام آدمی اپنی بیوی سے کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2782]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے وہ قلادے اون سے بٹے تھے جو ہمارے پاس تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (قلادے والے جانوروں کو حرم بھیجنے کے بعد) ہم میں رہے، وہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام کام کرتے تھے جو ایک حلال شخص یا عام آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2782]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 112 (1705)، صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، سنن الدارمی/المناسک 17 (1759)، (تحفة الأشراف: 17466) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2785
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَفْلَحُ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ قَلَّدَهَا وَأَشْعَرَهَا وَوَجَّهَهَا إِلَى الْبَيْتِ، وَبَعَثَ بِهَا وَأَقَامَ، فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْءٌ كَانَ لَهُ حَلَالًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے اونٹوں کے ہار میں نے اپنے ہاتھوں سے بٹے، پھر آپ نے اسے ان کے گلوں میں لٹکایا، اور ان کا اشعار کیا، اور بیت اللہ کی طرف ان کا رخ کر کے روانہ فرمایا، اور خود آپ مقیم رہے اور کوئی چیز جو آپ کے لیے حلال تھی آپ پر حرام نہیں ہوئی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2785]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی والے اونٹوں کے قلادے اپنے ہاتھوں سے بُنے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قلادے ان کے گلوں میں لٹکائے اور انہیں شعار کیا اور انہیں بیت اللہ کی طرف بھیجا مگر خود (مدینہ منورہ میں) تشریف فرما رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی ایسی چیز حرام نہ ہوئی جو پہلے حلال تھی (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر احرام کی پابندیاں لاگو نہ ہوئیں)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2785]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2774و2777 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2787
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے ہار بٹتی تھی (جو قربانی کے لیے مکہ بھیجی جاتی تھیں)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2787]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی والے جانوروں کے قلادے تیار کیا کرتی تھی جبکہ وہ جانور بکرے بکریاں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2787]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2781 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2788
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُهْدِي الْغَنَمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کو بطور ہدی (مکہ) بھیجتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2788]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکریاں بھی حرم کو بھیجا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2788]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2787 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2790
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا ثُمَّ لَا يُحْرِمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے ہار بٹتی تھی (اور آپ انہیں مکہ بھیجتے) پھر بھی آپ (حلال ہی رہتے تھے) محرم نہیں ہوتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2790]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کی بکریوں کے قلادے تیار کیا کرتی تھی، پھر (انہیں حرم میں بھیجنے کے باوجود) آپ محرم نہیں ہوتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2790]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2781 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2791
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا ثُمَّ لَا يُحْرِمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے قلادے (ہار) بٹا کرتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام نہیں باندھتے تھے (یعنی حلال رہتے تھے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2791]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی (کی حرم) والی بکریوں کے لیے قلادے بٹا کرتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں (حرم کی طرف بھیجنے کے بعد) محرم نہیں ہوتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2791]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، (تحفة الأشراف: 15931)، مسند احمد (6/250) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2795
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ، ثُمَّ يُقَلِّدُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا مَعَ أَبِي، فَلَا يَدَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا أَحَلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَتَّى يَنْحَرَ الْهَدْيَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے ہار اپنے ہاتھوں سے بٹتی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اسے ہدی کے گلے میں ڈالتے تھے اور اسے میرے والد کے ساتھ بھیجتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بھی ایسی چیز کا استعمال ترک نہیں کرتے تھے جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کر رکھی ہے یہاں تک کہ ہدی کو نحر کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2795]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے اپنے ہاتھوں سے بٹا کرتی تھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دست مبارک سے وہ قلادے ان کے گلوں میں ڈالتے تھے، پھر انہیں میرے والد محترم رضی اللہ عنہ کے ساتھ حرم کی طرف بھیجتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ایسی چیز ترک نہیں فرماتے تھے جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کر رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کا جانور ذبح ہونے کا انتظار نہیں فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2795]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2777 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2796
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَقُتَيْبَةُ , عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُهُ الْمُحْرِمُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے تھے جس سے محرم پرہیز کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2796]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم جانے والے جانوروں کے لیے قلادے بٹا کرتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ایسی چیز سے پرہیز نہیں فرماتے تھے جس سے محرم پرہیز کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2796]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 108 (1700)، الوکالة 14 (2317)، صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، (تحفة الأشراف: 17899)، موطا امام مالک/الحج 15 (51)، مسند احمد (6/180) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2797
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا، وَلَا نَعْلَمُ الْحَجَّ، يُحِلُّهُ إِلَّا الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے ہار بٹتی تھی تو آپ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے تھے، اور ہم نہیں جانتے کہ حج سے (حاجی کو) بیت اللہ کے طواف ۱؎ کے علاوہ بھی کوئی چیز حلال کرتی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2797]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حرم کو جانے والے قربانی کے جانوروں کے قلادے خود بٹا کرتی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (انہیں حرم بھیجنے کے بعد) کسی چیز سے اجتناب نہیں فرماتے تھے۔ وہ فرماتی ہیں: ہمیں معلوم ہے کہ حاجی کو بیت اللہ کا طواف ہی حلال کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2797]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 64 (1321)، (تحفة الأشراف: 17487) (صحیح) (حدیث کا آخری ٹکڑا ’’لانعلم‘‘صحیح مسلم میں نہیں ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی طواف زیارت کے بعد ہی حاجی پورے طور سے حلال ہوتا ہے، رہا حلق تو اس سے کلی طور پر حلال نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2798
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" إِنْ كُنْتُ لَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيُخْرَجُ بِالْهَدْيِ مُقَلَّدًا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقِيمٌ مَا يَمْتَنِعُ مِنْ نِسَائِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کے جانور کے ہار بٹتی تھی، وہ ہار پہنا کر روانہ کر دیئے جاتے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقیم ہی رہتے اور اپنی بیویوں سے پرہیز نہیں کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2798]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: بلاشبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے حرم جانے والے جانوروں کے قلادے خود بٹا کرتی تھی، پھر انہیں قلادے ڈال کر حرم کی طرف روانہ کیا جاتا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منورہ ہی میں) مقیم رہتے تھے اور اپنی عورتوں (کے ساتھ جماع) سے پرہیز نہیں فرماتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2798]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16036) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2799
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائَشَةَ، قَالَتْ:" لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ، فَيَبْعَثُ بِهَا، ثُمَّ يُقِيمُ فِينَا حَلَالًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کی بکریوں کے ہار بٹتے دیکھا، آپ انہیں پہنا کر بھیج دیتے تھے، پھر ہمارے درمیان حلال شخص کی حیثیت سے رہتے تھے (کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتے تھے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2799]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں، یعنی بکریوں کے لیے قلادے بٹا کرتی تھی، پھر آپ انھیں حرم کی طرف بھیجتے، پھر آپ ہم میں حلال شخص کی طرح رہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2799]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2781 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں