🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
127. باب : موضع الصلاة في البيت
باب: بیت اللہ (کعبہ) میں نماز پڑھنے کی جگہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2912
أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَنْبِجِيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي رَوَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ:" دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ، فَسَبَّحَ فِي نَوَاحِيهَا، وَكَبَّرَ، وَلَمْ يُصَلِّ، ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ:" هَذِهِ الْقِبْلَةُ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے، تو اس کے کناروں میں آپ نے تسبیح پڑھی اور تکبیر کہی اور نماز نہیں پڑھی ۱؎، پھر آپ باہر نکلے، اور مقام ابراہیم کے پیچھے آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: یہ قبلہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2912]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اطراف (کونوں) میں تسبیحات و تکبیرات کہیں، نماز نہیں پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو مقامِ ابراہیم کے پیچھے (کعبہ رخ ہو کر) دو رکعات پڑھیں، پھر فرمایا: یہ قبلہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 110)، مسند احمد (5/209، 210) (منکر) (اسامہ کی اس روایت میں صرف ”خلف المقام‘‘ کا ذکر منکر ہے (جو کسی کے نزدیک نہیں ہے) باقی باتیں سنداً صحیح ہیں)»
وضاحت: ۱؎: اسامہ کی یہ نفی ان کے اپنے علم کی بنیاد پر ہے، وہ کسی کام میں مشغول رہے ہوں گے جس کی وجہ سے انہیں آپ کے نماز پڑھنے کا علم نہیں ہو سکا ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: منكر بذكر المقام
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، عبدالمجيد بن عبدالعزيز بن أبى رواد: ضعفه الجمهور (الفتح المبين: 82/ 3 ص 101) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 343

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2917
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَجَافَ الْبَاب، وَالْبَيْتُ إِذْ ذَاكَ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ، فَمَضَى، حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الْأُسْطُوَانَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ بَاب الْكَعْبَةِ، جَلَسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَسَأَلَهُ وَاسْتَغْفَرَهُ، ثُمَّ قَامَ، حَتَّى أَتَى مَا اسْتَقْبَلَ مِنْ دُبُرِ الْكَعْبَةِ، فَوَضَعَ وَجْهَهُ وَخَدَّهُ عَلَيْهِ، وَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَسَأَلَهُ، وَاسْتَغْفَرَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى كُلِّ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْكَعْبَةِ، فَاسْتَقْبَلَهُ بِالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ، وَالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ، وَالْمَسْأَلَةِ، وَالِاسْتِغْفَارِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ وَجْهِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ:" هَذِهِ الْقِبْلَةُ، هَذِهِ الْقِبْلَةُ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر گئے، تو آپ نے بلال کو حکم دیا، انہوں نے دروازہ بند کر دیا۔ اس وقت خانہ کعبہ چھ ستونوں پر قائم تھا، جب آپ اندر بڑھتے گئے یہاں تک کہ ان دونوں ستونوں کے درمیان پہنچ گئے جو کعبہ کے دروازے کے متصل ہیں، تو بیٹھے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس سے خیر کا سوال کیا اور مغفرت طلب کی، پھر کھڑے ہوئے یہاں تک کہ کعبہ کی پشت کی طرف آئے جو سامنے تھی، اس پر اپنا چہرہ اور رخسار رکھا، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس سے خیر کا سوال کیا، اور مغفرت طلب کی۔ پھر کعبہ کے ستونوں میں سے ہر ستون کے پاس آئے اور اس کی طرف منہ کر کے تکبیر، تہلیل، تسبیح کی، اور اللہ کی ثنا بیان کی، خیر کا سوال کیا اور گناہوں سے مغفرت طلب کی، پھر باہر آئے، اور کعبہ کی طرف رخ کر کے دو رکعت نماز پڑھی، پھر پلٹے تو فرمایا: یہی قبلہ ہے یہی قبلہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2917]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے دروازہ بند کر دیا۔ بیت اللہ ان دنوں چھ ستونوں پر قائم تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (دروازے سے) سیدھے گئے حتیٰ کہ جب ان دو ستونوں کے درمیان پہنچے جو بیت اللہ کے دروازے کے سامنے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے رہے، دعائیں کرتے رہے اور بخشش طلب فرماتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور کعبے کی پچھلی دیوار (دروازے والی) کے مقابل سامنے والی دیوار کی طرف گئے، اپنا چہرہ اور رخسار دیوار سے لگائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا فرمائی، اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں اور بخشش طلب فرماتے رہے، پھر کعبے کے تمام کونوں میں تشریف لے گئے اور ہر کونے میں تکبیر، تہلیل، تسبیح، ثنا، دعا اور استغفار فرماتے رہے، پھر باہر تشریف لائے اور کعبے کے دروازے کے عین سامنے دو رکعتیں پڑھیں، پھر فارغ ہوئے تو فرمایا: یہ قبلہ ہے، یہ قبلہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2917]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2912 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2918
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، فَجَلَسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَكَبَّرَ، وَهَلَّلَ ثُمَّ مَالَ إِلَى مَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ الْبَيْتِ، فَوَضَعَ صَدْرَهُ عَلَيْهِ، وَخَدَّهُ وَيَدَيْهِ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَهَلَّلَ، وَدَعَا، فَعَلَ ذَلِكَ بِالْأَرْكَانِ كُلِّهَا، ثُمَّ خَرَجَ، فَأَقْبَلَ عَلَى الْقِبْلَةِ وَهُوَ عَلَى الْبَاب:، فَقَالَ:" هَذِهِ الْقِبْلَةُ، هَذِهِ الْقِبْلَةُ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر گیا۔ آپ بیٹھے پھر آپ نے اللہ کی حمد و ثنا اور تکبیر و تہلیل کی، پھر آپ بیت اللہ کے اس حصہ کی طرف جھکے جو آپ کے سامنے تھا، اور آپ نے اس پر اپنا سینہ، رخسار اور اپنے دونوں ہاتھ رکھے، پھر تکبیر و تہلیل کی، اور دعا مانگی، آپ نے اسی طرح خانہ کعبہ کے سبھی ستونوں پر کیا، پھر باہر نکلے دروازے کے پاس آئے، اور قبلہ رخ ہو کر فرمایا: یہی قبلہ ہے یہی قبلہ ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2918]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ کے اندر داخل ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور تکبیر و تہلیل کرتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے والی کعبے کی دیوار کی طرف جھکے، اپنا سینہ، رخسار اور ہاتھ اس پر لگائے، پھر تکبیر اور تہلیل کرتے رہے، دعا مانگتے رہے اور یہ کام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام کونوں میں کیا، پھر باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی دروازے پر تھے کہ قبلے کی طرف منہ کیا اور فرمایا: «هٰذِهِ الْقِبْلَةُ، هٰذِهِ الْقِبْلَةُ» یہ قبلہ ہے، یہ قبلہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2918]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2912 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نماز اسی طرف منہ کر کے پڑھی جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2919
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْبَيْتِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ فِي قُبُلِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ قَالَ:" هَذِهِ الْقِبْلَةُ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ سے باہر آئے، اور کعبہ کے سامنے آپ نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: یہی قبلہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2919]
حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ سے باہر تشریف لائے تو کعبے کے سامنے دو رکعات پڑھیں، پھر فرمایا: یہ قبلہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2919]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2912 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2920
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ النَّسَائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْبَيْتَ، فَدَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا، وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ، حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قُبُلِ الْكَعْبَةِ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر گئے اور اس کے سبھی گوشوں میں (جا جا کر) دعا کی، اور اس میں نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ اس سے باہر آ گئے، اور باہر آ کر آپ نے کعبہ کے سامنے دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2920]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے اندر داخل ہوئے تو اس کے تمام اطراف (چاروں کونوں) میں دعائیں کیں، مگر نماز نہیں پڑھی حتیٰ کہ باہر تشریف لے آئے اور کعبے کے عین سامنے دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2920]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 68 (1330)، (تحفة الأشراف: 96)، مسند احمد (5/201، 208) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں