🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
218. باب : من أين يلتقط الحصى
باب: کنکریاں کہاں سے چنی جائیں؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3060
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا عَشِيَّةَ عَرَفَةَ وَغَدَاةَ:" جَمْعٍ عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ"، وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ مِنًى فَهَبَطَ حِينَ هَبَطَ مُحَسِّرًا، قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي تُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ"، قَالَ: وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ.
فضل بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے جس وقت وہ عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح کو چلے تو اپنی اونٹنی کو روک کر فرمایا: تم لوگ سکون و وقار کو لازم پکڑو یہاں تک کہ جب آپ منیٰ میں داخل ہوئے تو جس وقت اترے وادی محسر میں اترے، اور آپ نے فرمایا: چھوٹی کنکریوں کو جسے چٹکی میں رکھ کر تم مار سکو لازم پکڑو، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے تھے، جیسے آدمی کنکری کو چٹکی میں رکھ کر مارتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3060]
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عرفات سے شام کو چلتے وقت اور مزدلفہ کی صبح فرمایا: سکون و اطمینان اختیار کرو۔ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹنی کی مہار کھینچ رکھی تھی، حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں داخل ہوئے اور وادی محسر میں اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خذف کی کنکریوں جیسی کنکریاں چننا جن سے جمرات کی رمی کی جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے اشارہ بھی فرما رہے تھے جس طرح کوئی شخص کنکری پھینکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3060]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3023 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3020
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَجَالَتْ بِهِ النَّاقَةُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ، لَا تُجَاوِزَانِ رَأْسَهُ، فَمَا زَالَ يَسِيرُ عَلَى هِينَتِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى جَمْعٍ".
فضل بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس ہوئے، اور آپ کے پیچھے سواری پر اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سوار تھے، تو اونٹنی آپ کو لیے ہوئے گھومی، اور آپ اپنے دونوں ہاتھ (دعا کے لیے) اٹھائے ہوئے تھے لیکن وہ آپ کے سر سے اونچے نہ تھے تو برابر آپ اسی حالت پر چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3020]
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ہاتھ اٹھائے دعا فرما رہے تھے کہ آپ کی اونٹنی بدک گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک آپ کے سر سے اونچے نہیں ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں چلتے رہے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3020]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11053)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج47 (1286)، مسند احمد (1/212، 226) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3023
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ , وَكَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ، وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ حِينَ دَفَعُوا عَلَيْكُمُ السَّكِينَةَ، وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ حَتَّى إِذَا دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى , قَالَ:" عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ" , فَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ.
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹنی پر سوار تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اور مزدلفہ کی صبح کو اپنی اونٹنی روک کر لوگوں سے فرمایا: اطمینان و وقار کو لازم پکڑو یہاں تک کہ جب آپ وادی محسر میں داخل ہوئے، اور وہ منیٰ کا ایک حصہ ہے، تو فرمایا: چھوٹی چھوٹی کنکریاں چن لو جسے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کے درمیان رکھ کر مارا جا سکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر تلبیہ پکارتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3023]
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے، جو کہ آپ کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے، روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (عرفہ سے مزدلفہ کی طرف) لوٹے تو عرفے کی شام اور مزدلفہ کی صبح لوگوں کو فرماتے رہے: سکون و وقار اختیار کرو۔ خود آپ نے اپنی اونٹنی کی مہار کھینچ رکھی تھی، حتیٰ کہ جب آپ وادیٔ محسر میں داخل ہوئے جو کہ منیٰ کا حصہ ہے تو آپ نے فرمایا: رمی کے لیے خذف کی کنکریوں جیسی (چھوٹی چھوٹی) کنکریاں اٹھانا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں کہتے رہے، حتیٰ کہ آپ نے جمرۂ عقبہ کو رمی کرنا شروع کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3023]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 45 (1282)، (تحفة الأشراف: 11057)، مسند احمد (1/210، 211، 313)، سنن الدارمی/المناسک 56 (1933)، ویأتی عند المؤلف برقم: 3060 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3055
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِّرٍ".
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محسر میں اونٹ کو تیز دوڑایا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3055]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محسر میں اونٹنی کو بہت تیز کر دیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3055]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 55 (886)، (تحفة الأشراف: 2751) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3057
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ جُرَيْجٍ، وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ , عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ".
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے، تو برابر تلبیہ پکارتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ کی رمی کی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3057]
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا (یعنی مزدلفہ سے منیٰ تک)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم «لَبَّيْكَ» لبیک کہتے رہے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرے کی رمی شروع کی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3057]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 22 (1543)، 93 (1670)، 101 (1685)، صحیح مسلم/الحج 45 (1281)، دالحج 28 (1815)، سنن الترمذی/الحج 78 (918)، (تحفة الأشراف: 11050)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الحج 69 (3040)، مسند احمد (1/210-214)، سنن الدارمی/المناسک 60 (1943) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3081
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَرَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ".
عبداللہ بن عباس اپنے بھائی فضل بن عباس (رضی الله عنہم) سے روایت کرتے ہیں، فضل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا آپ برابر لبیک کہتے رہے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری کے ساتھ آپ اللہ اکبر کہہ رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3081]
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم «لَبَّيْكَ» لبیک کہتے رہے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی شروع کر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ «اللهُ أَكْبَرُ» اللہ اکبر کہتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3081]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 11054)، مسند احمد (1/212) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3082
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ:" كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا زِلْتُ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَلَمَّا رَمَى قَطَعَ التَّلْبِيَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھا تو میں برابر آپ کو لبیک پکارتے ہوئے سن رہا تھا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی تو جب رمی کر لی تو آپ نے تلبیہ پکارنا بند کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3082]
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلسل «لَبَّيْكَ» لبیک پکارتے سنتا رہا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی شروع کی، جب رمی شروع کی تو «لَبَّيْكَ» لبیک کہنا بند کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3082]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المناسک 69 (3040)، (تحفة الأشراف: 11056)، مسند احمد (1/214) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3083
أَخْبَرَنَا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، وَعَطَاءٍ , وسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ الْفَضْلَ أَخْبَرَهُ ," أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ فضل (فضل بن عباس رضی اللہ عنہما) نے انہیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے اور آپ برابر تلبیہ پکار رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3083]
حضرت فضل رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں فرماتے رہے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی شروع کی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3083]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3082 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3084
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مَعْبَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ،" أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ".
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، اور آپ برابر لبیک پکار رہے تھے یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3084]
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر بیٹھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم «لَبَّيْكَ» میں حاضر ہوں پکارتے رہے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کی رمی کی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3084]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10046)، مسند احمد (1/214)، سنن الدارمی/المناسک 60 (1943) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں