سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب : ثواب من رمى بسهم في سبيل الله عز وجل
باب: اللہ کے راستے (جہاد) میں تیر اندازی کرنے والے کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 3147
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ خَالِدًا يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّامِيّ يُحَدِّثُ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا عَمْرُو بْنَ عَبَسَةَ، حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْسَ فِيهِ نِسْيَانٌ وَلَا تَنَقُّصٌ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَبَلَغَ الْعَدُوَّ، أَخْطَأَ أَوْ أَصَابَ، كَانَ لَهُ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ، وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً، كَانَ فِدَاءُ كُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ، عُضْوًا مِنْهُ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
شرحبیل بن سمط کہتے ہیں کہ میں نے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ اور اس میں بھول چوک اور کمی و بیشی کا شائبہ تک نہ ہو۔ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا، دشمن کے قریب پہنچا، قطع نظر اس کے کہ تیر دشمن کو لگایا نشانہ خطا کر گیا، تو اسے ایک غلام آزاد کرنے کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا، اور جس نے ایک مسلمان غلام آزاد کیا تو غلام کا ہر عضو (آزاد کرنے والے کے) ہر عضو کے لیے جہنم کی آگ سے نجات کا فدیہ بن جائے گا، اور جو شخص اللہ کی راہ میں (لڑتے لڑتے) بوڑھا ہو گیا، تو یہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3147]
حضرت شرجیل بن سمط رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (حضرت عمرو رضی اللہ عنہ) سے کہا: اے عمرو! ہمیں کوئی حدیث بیان فرمائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، اس میں کوئی بھول چوک یا کمی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں تیر چلایا اور دشمن تک پہنچا دیا، (وہ تیر دشمن کو) لگا یا نہ لگا، وہ اس کے لیے ایک غلام کی آزادی کی طرح ہوگا۔ اور جس شخص نے کوئی مسلمان غلام آزاد کیا تو اس کا ہر عضو اس کے ہر عضو کے بدلے میں جہنم کی آگ سے آزاد ہوگا۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں (کام کرتے کرتے) بوڑھا ہو گیا تو اس کے سفید بال قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3147]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10754)، مسند احمد (4/113) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3144
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ صَفْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ، أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ: يَا عَمْرُو: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى، كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى بَلَغَ الْعَدُوَّ، أَوْ لَمْ يَبْلُغْ كَانَ لَهُ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ، وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً، كَانَتْ لَهُ فِدَاءَهُ مِنَ النَّارِ، عُضْوًا بِعُضْوٍ".
عمرو بن عبسہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کے راستے میں (جہاد کرتے کرتے) بوڑھا ہو گیا، تو یہ چیز قیامت کے دن اس کے لیے نور بن جائے گی، اور جس نے اللہ کے راستے میں ایک تیر بھی چلایا خواہ دشمن کو لگا ہو یا نہ لگا ہو تو یہ چیز اس کے لیے ایک غلام آزاد کرنے کے درجہ میں ہو گی۔ اور جس نے ایک مومن غلام آزاد کیا تو یہ آزاد کرنا اس کے ہر عضو کے لیے جہنم کی آگ سے نجات دلانے کا فدیہ بنے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3144]
حضرت شرجیل بن سمط نے حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عمرو! ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان فرمائیں جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس شخص کے بال اللہ تعالیٰ کے راستے میں سفید ہو گئے تو وہ سفید بال اس کے لیے قیامت کے دن نور کا ذریعہ بن جائیں گے۔ اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں تیر پھینکا، وہ دشمن تک پہنچے یا نہ پہنچے، اس کے لیے غلام آزاد کرنے کے برابر ہوگا۔ اور جو شخص مومن غلام آزاد کرے تو اس کا ہر عضو اس کے ہر عضو کے لیے آگ سے آزادی کا سبب بن جائے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3144]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10756)، سنن ابی داود/العتق 14 (3966) (قولہ ’’من أعتق‘‘ الخ فحسب)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 9 (1635) (إلی قولہ: ’’نورا یوم القیامة‘‘)، مسند احمد (4/112، 386) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3145
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السَّلَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ بَلَغَ بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهُوَ لَهُ دَرَجَةٌ فِي الْجَنَّةِ" , فَبَلَّغْتُ يَوْمَئِذٍ سِتَّةَ عَشَرَ سَهْمًا، قَالَ: وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهُوَ عِدْلُ مُحَرَّرٍ".
ابونجیح سلمی (عمرو بن عبسہ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کے راستے میں ایک تیر لے کر پہنچا، تو وہ اس کے لیے جنت میں ایک درجہ کا باعث بنا“ تو اس دن میں نے سولہ تیر پہنچائے، راوی کہتے ہیں اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلایا تو (اس کا) یہ تیر چلانا ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3145]
حضرت ابو نجیح سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جس نے اللہ کے راستے میں ایک تیر (دشمن تک) پہنچایا، اسے جنت میں ایک درجہ حاصل ہو جائے گا۔“ میں نے اس دن سولہ تیر دشمنوں تک پہنچائے، نیز میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں تیر چلائے تو اسے غلام کے آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3145]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/العتق 14 (3965) مطولا، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 11 (1638) مختصراً، (تحفة الأشراف: 10768)، مسند احمد (4/113، 384) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح