سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. باب : التزويج على العتق
باب: غلامی سے آزادی کے بدلے شادی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3345
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ. ح وَأَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسٍ،" أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا مَهْرَهَا" , وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غزوہ خیبر کے موقع پر قید ہو کر آنے والی یہودی سردار حي بن اخطب کی بیٹی) صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا، اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا، حدیث کے الفاظ راوی حدیث محمد کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3345]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدتنا صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد (فرما کر ان سے نکاح) فرمایا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا، یہ لفظ محمد (بن رافع) کے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3345]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 68 (5169)، صحیح مسلم/النکاح 14 (1365)، (تحفة الأشراف: 912)، مسند احمد (3/181، 280)، سنن الدارمی/النکاح 45 (2288) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 3344
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ يعني ابن صهيب , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، وَشُعَيْبٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَهُ صَدَاقَهَا".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3344]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدتنا صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد فرمایا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3344]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ صلاة الخوف 6 (947) مطولا، المغازي 38 (4200)، النکاح 13 (5086)، 68 (5169)، صحیح مسلم/النکاح 14 (1365)، سنن ابی داود/النکاح 6 (2054)، سنن الترمذی/النکاح 24 (1115)، سنن ابن ماجہ/النکاح 42 (1957)، (تحفة الأشراف: 291، 1067)، مسند احمد (3/99، 138، 165، 170، 181، 186، 203، 239، 242، 280، 282، 291) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3383
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا، يَقُولُ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَامَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيِّ بْنِ أَخْطَبَ بِطَرِيقِ خَيْبَرَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ حِينَ عَرَّسَ بِهَا، ثُمَّ كَانَتْ فِيمَنْ ضُرِبَ عَلَيْهَا الْحِجَابُ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کے ساتھ خیبر کے راستے میں تین دن گزارے، پھر ان کا شمار ان عورتوں میں ہو گیا جن پر پردہ فرض ہو گیا یعنی صفیہ آپ کی ازواج مطہرات میں ہو گئیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3383]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر کے راستے میں حضرت صفیہ بنت حیی بن اخطب رضی اللہ عنہا کے ساتھ تین دن (خصوصی طور پر) ٹھہرے جب آپ نے انہیں اپنے گھر بسایا، پھر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ان عورتوں میں شامل تھیں جنہیں پردے میں رکھا جاتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3383]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 38 (4212)، (تحفة الأشراف: 796) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 3384
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثًا، يَبْنِي بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ أَمَرَ بِالْأَنْطَاعِ، وَأَلْقَى عَلَيْهَا مِنَ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ، فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ؟ فَقَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ، وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ طیبہ کے درمیان صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کے ساتھ تین (عروسی) دن گزارے، میں نے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمے کے لیے بلایا، اس ولیمے میں روٹی گوشت نہیں تھا، آپ نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس (چمڑے کے) دستر خوان پر کھجوریں، پنیر اور گھی ڈالے گئے (اور انہیں ملا کر پیش کر دیا گیا) یہی آپ کا ولیمہ تھا۔ لوگوں نے کہا: صفیہ امہات المؤمنین میں سے ایک ہو گئیں یا ابھی آپ کی لونڈی ہی رہیں؟ پھر لوگ کہنے لگے: اگر آپ نے انہیں پردے میں رکھا تو سمجھو کہ یہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر آپ نے انہیں پردے میں نہ بٹھایا تو سمجھو کہ یہ آپ کی باندی ہیں۔ پھر جب آپ نے کوچ فرمایا تو ان کے لیے کجاوے پر آپ کے پیچھے بچھونا بچھایا گیا اور ان کے اور لوگوں کے درمیان پردہ تان دیا گیا (کہ دوسرے لوگ انہیں نہ دیکھ سکیں)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3384]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر اور مدینہ منورہ کے درمیان تین دن حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ ٹھہرے اور شب بسری فرماتے تھے۔ میں نے مسلمانوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمے کی دعوت دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ولیمے میں گوشت تھا نہ روٹی، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس پر کچھ کھجوریں، پنیر اور گھی ڈالا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔ مسلمان آپس میں کہنے لگے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی؟ پھر وہ خود ہی کہنے لگے: اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پردے میں رکھا تو پھر وہ ام المومنین (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ) ہوں گی اور اگر پردے میں نہ رکھا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی ہوں گی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر شروع فرمایا تو (اپنی سواری پر) اپنے پیچھے ان کے لیے جگہ تیار کی اور ان کے اور لوگوں کے درمیان پردہ لٹکا لیا (تاکہ لوگ انہیں نہ دیکھ سکیں)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3384]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 13 (5085)، 60 (1559)، (تحفة الأشراف: 577)، مسند احمد (3/264) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري