سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. باب : تفسير ذلك
باب: ملامسہ اور منابذہ کی شرح و تفسیر۔
حدیث نمبر: 4518
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ صَالِحٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُلَامَسَةِ , وَالْمُلَامَسَةُ: لَمْسُ الثَّوْبِ لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ , وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ , وَالْمُنَابَذَةُ: طَرْحُ الرَّجُلِ ثَوْبَهُ إِلَى الرَّجُلِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملامسہ سے منع فرمایا۔ اور ملامسہ یہ ہے کہ کپڑے کو چھولے اس کی طرف دیکھے نہیں، اور منابذہ سے منع فرمایا، منابذہ یہ ہے کہ آدمی کپڑا دوسرے آدمی کی طرف پھینکے اور وہ اسے الٹ کر نہ دیکھے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4518]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا۔“ ملامسہ یہ ہے کہ کپڑے کو صرف چھوا جائے (اچھی طرح کھول کر) دیکھا نہ جائے، اور منابذہ یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کی طرف کپڑا وغیرہ پھینکے لیکن الٹ پلٹ کرنے کی اجازت نہ ہو۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4518]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4514 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4514
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاق , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ عُقَيْلٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ الْمُلَامَسَةِ لَمْسِ الثَّوْبِ لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ , وَعَنِ الْمُنَابَذَةِ وَهِيَ طَرْحُ الرَّجُلِ ثَوْبَهُ إِلَى الرَّجُلِ بِالْبَيْعِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ أَوْ يَنْظُرَ إِلَيْهِ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامسہ سے منع فرمایا، اور وہ یہ ہے کہ آدمی کپڑے کو چھو لے اسے اندر سے دیکھے بغیر (اور بیع ہو جائے) اور منابذہ سے منع فرمایا، اور منابذہ یہ ہے کہ آدمی اپنا کپڑا دوسرے کی طرف بیع کے ساتھ پھینکے اس سے پہلے کہ وہ اسے الٹ پلٹ کر دیکھے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4514]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «الْمُلَامَسَةِ» ”ملامسہ“ اور «الْمُنَابَذَةِ» ”منابذہ“ سے منع فرمایا۔ «الْمُلَامَسَةُ» یہ ہے کہ کپڑے کو چھوا جائے، کھول کر نہ دیکھا جائے، اور «الْمُنَابَذَةُ» یہ ہے کہ بیچنے والا کپڑے کو خریدار کی طرف پھینک دے اور سودا ہو جائے بغیر اس کے کہ وہ اس کپڑے کو الٹ پلٹ کر دیکھے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/البیوع 63 (2144)، اللباس 20 (5820)، 21(5822)، صحیح مسلم/البیوع 1 (1512)، سنن ابی داود/البیوع 25 (3379)، (تحفة الأشراف: 4087)، مسند احمد (3/6، 59، 66، 68، 71، 95)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 4518 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دور جاہلیت میں اس طرح کپڑا چھو کر یا پھینک کر بغیر دیکھے بیع کر لیتے اور ایجاب و قبول نہ ہوتا، اس سے منع کیا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه