🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب : ذكر اختلاف الناقلين لخبر علقمة بن وائل فيه
باب: اس سلسلہ میں علقمہ بن وائل کی حدیث میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4730
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ وَهُوَ الْحَوْضِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ مَطَرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , جَاءَ رَجُلٌ فِي عُنُقِهِ نِسْعَةٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفِرَانِهَا , فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَ صَاحِبِهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْفُ عَنْهُ"، فَأَبَى وَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفِرَانِهَا فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَ صَاحِبِهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ:" اعْفُ عَنْهُ"، فَأَبَى، ثُمَّ قَامَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا وَأَخِي كَانَا فِي جُبٍّ يَحْفِرَانِهَا فَرَفَعَ الْمِنْقَارَ أُرَاهُ، قَالَ: فَضَرَبَ رَأْسَ صَاحِبِهِ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ:" اعْفُ عَنْهُ"، فَأَبَى، قَالَ:" اذْهَبْ , إِنْ قَتَلْتَهُ كُنْتَ مِثْلَهُ"، فَخَرَجَ بِهِ حَتَّى جَاوَزَ، فَنَادَيْنَاهُ أَمَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَرَجَعَ، فَقَالَ: إِنْ قَتَلْتُهُ كُنْتُ مِثْلَهُ، قَالَ: نَعَمْ، أَعْفُ , فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَةٌ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْنَا.
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا، اس کی گردن میں رسی پڑی تھی، اور بولا: اللہ کے رسول! یہ اور میرا بھائی دونوں ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، اتنے میں اس نے کدال اٹھائی اور اپنے ساتھی یعنی میرے بھائی کے سر پر ماری، جس سے وہ مر گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے معاف کر دو، اس نے انکار کیا، اور کہا: اللہ کے نبی! یہ اور میرا بھائی ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، پھر اس نے کدال اٹھائی، اور اپنے ساتھی کے سر پر ماری، جس سے وہ مر گیا، آپ نے فرمایا: اسے معاف کر دو، تو اس نے انکار کیا، پھر وہ کھڑا ہوا اور بولا: اللہ کے رسول! یہ اور میرا بھائی ایک کنویں پر تھے، اسے کھود رہے تھے، اس نے کدال اٹھائی، اور اپنے ساتھی کے سر پر ماری، جس سے وہ مر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے معاف کر دو، اس نے انکار کیا، آپ نے فرمایا: جاؤ، اگر تم نے اسے قتل کیا تو تم بھی اسی جیسے ہو گے ۱؎، وہ اسے لے کر نکل گیا، جب دور نکل گیا تو ہم نے اسے پکارا، کیا تم نہیں سن رہے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرما رہے ہیں؟ وہ واپس آیا تو آپ نے فرمایا: اگر تم نے اسے قتل کیا تو تم بھی اسی جیسے ہو گے، اس نے کہا: ہاں، میں اسے معاف کرتا ہوں، چنانچہ وہ نکلا، وہ اپنی رسی گھسیٹ رہا تھا یہاں تک کہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4730]
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص آیا جس کی گردن میں رسی تھی (مطلب یہ کہ ایک شخص دوسرے آدمی کو گلے میں تندی ڈال کر لایا)۔ اور (وہی لانے والا شخص) کہنے لگا: یہ اور میرا بھائی ایک کنواں کھود رہے تھے کہ اس نے کدال اٹھائی اور میرے بھائی کے سر پر دے ماری اور اسے مار دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے معاف کر دے۔ اس نے انکار کر دیا۔ اور پھر کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! یہ اور میرا بھائی ایک کنویں میں کھدائی کر رہے تھے تو اس نے کدال اٹھا کر اپنے ساتھی کے سر پر دے ماری اور اسے قتل کر دیا۔ آپ نے فرمایا: اسے معاف کر دے۔ اس نے پھر انکار کیا۔ کچھ دیر بعد پھر اٹھا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! یہ اور میرا بھائی دونوں ایک کنویں کی کھدائی کر رہے تھے۔ اس نے کدال اٹھائی اور اپنے ساتھی کے سر پر مار دی اور اس کی جان نکال دی۔ آپ نے فرمایا: اسے معاف کر دے۔ اس نے پھر انکار کیا۔ آپ نے فرمایا: پھر جا (لیکن یاد رکھ کہ) اگر تو نے اسے قتل کر دیا تو تو بھی اس جیسا ہی ہوگا۔ وہ اسے لے کر چلا گیا حتیٰ کہ کافی دور نکل گیا۔ تو ہم نے اسے آواز دی کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہیں سنتا؟ وہ واپس آیا اور کہنے لگا: اگر میں نے اسے قتل کر دیا تو اس جیسا ہو جاؤں گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اسے معاف کر دے۔ پھر (اس نے قاتل کو چھوڑ دیا تو) قاتل اپنی تندی سمیت نکل بھاگا حتیٰ کہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4730]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4827 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: کسی جان کو مارنے میں تم اور وہ ایک ہی طرح ہو گے، تمہاری اس پر کوئی فضیلت باقی نہیں رہ جائے گی، اور اگر معاف کر دو گے تو فضل و احسان میں تم کو اس پر فضیلت حاصل ہو جائے گی، خاص طور پر جب اس نے یہ قتل جان بوجھ کر نہیں کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4726
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ , وَأَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ , وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قُتِلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرُفِعَ الْقَاتِلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَفَعَهُ إِلَى وَلِيِّ الْمَقْتُولِ، فَقَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ:" أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا ثُمَّ قَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ"، فَخَلَّى سَبِيلَهُ، قَالَ: وَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ , فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ فَسُمِّيَ ذَا النِّسْعَةِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قتل کر دیا گیا، قاتل کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ نے اسے مقتول کے ولی کے حوالے کر دیا ۱؎، قاتل نے کہا: اللہ کے رسول! میرا ارادہ قتل کا نہ تھا، آپ نے مقتول کے ولی سے فرمایا: سنو! اگر وہ سچ کہہ رہا ہے اور تم نے اسے قتل کر دیا تو تم بھی جہنم میں جاؤ گے، تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ شخص رسی سے بندھا ہوا تھا، وہ اپنی رسی گھسیٹتا ہوا نکلا تو اس کا نام ذوالنسعۃ (رسی والا) پڑ گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4726]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک آدمی قتل ہو گیا۔ قاتل کو پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ آپ نے اسے مقتول کے وارث کے سپرد کر دیا۔ قاتل کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میرا ارادہ اسے قتل کرنے کا نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے وارث سے فرمایا: اگر یہ سچا ہوا اور تو نے اسے قتل کر دیا تو تو آگ میں جائے گا۔ اس نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ قاتل چمڑے کی رسی سے بندھا ہوا تھا۔ وہ اسی طرح اپنی رسی کو گھسیٹتا ہوا نکلا تو اس کا نام ہی «ذُو النِّسْعَةِ» تندی یا رسی والا پڑ گیا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4726]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الدیات 3 (4498)، سنن الترمذی/الدیات 13 (1407)، سنن ابن ماجہ/الدیات 34 (2690)، (تحفة الأشراف: 12507) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: اس لیے حوالہ کر دیا کہ وہ اس کو قصاص میں قتل کر دیں، اسی سے قصاص کی مشروعیت ثابت ہوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4727
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق، عَنْ عَوْفٍ الْأَعْرَابِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جِيءَ بِالْقَاتِلِ الَّذِي قَتَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ بِهِ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَعْفُو؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" أَتَقْتُلُ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ"، فَلَمَّا ذَهَبَ دَعَاهُ، قَالَ:" أَتَعْفُو؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" أَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" أَتَقْتُلُ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ" , فَلَمَّا ذَهَبَ، قَالَ:" أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَبُوءُ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ"، فَعَفَا عَنْهُ فَأَرْسَلَهُ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.
وائل حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس قاتل کو جس نے قتل کیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، اسے مقتول کا ولی پکڑ کر لایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم معاف کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا قتل کرو گے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: جاؤ (قتل کرو)، جب وہ (قتل کرنے) چلا تو آپ نے اسے بلا کر کہا: کیا تم معاف کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا دیت لو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو کیا قتل کرو گے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: جاؤ (قتل کرو)، جب وہ (قتل کرنے) چلا، تو آپ نے فرمایا: اگر تم اسے معاف کر دو تو تمہارا گناہ اور تمہارے (مقتول) آدمی کا گناہ اسی پر ہو گا ۱؎، چنانچہ اس نے اسے معاف کر دیا اور اسے چھوڑ دیا، میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی رسی گھسیٹتا جا رہا تھا ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4727]
حضرت وائل حضرمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قاتل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش کیا گیا، اسے مقتول کا وارث لے کر آیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو اسے معاف کرتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اسے قتل کرے گا؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ۔ جب وہ چل پڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: کیا تو معاف کرتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو دیت لے گا؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر کیا تو اسے قتل کرے گا؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ۔ جب وہ چل پڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اسے معاف کر دے تو وہ تیرے اور تیرے مقتول کے گناہ کا ذمہ دار ہوگا۔ اس نے اسے معاف کر دیا اور چھوڑ دیا۔ میں نے قاتل کو دیکھا، وہ اپنی تندی (یا رسی) کو گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4727]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/القسامة 10 (الحدود10) (1680)، سنن ابی داود/الدیات 3 (4499، 4500، 4501)، (تحفة الأشراف: 11769)، سنن الدارمی/الدیات 8 (2404) وأعادہ المؤلف في القضاء 26 (برقم5417)، وانظرالأرقام التالیة: 4728-4733 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ بلا کچھ لیے دئیے ولی کے معاف کر دینے کی صورت میں ولی اور مقتول دونوں کے گناہ کا حامل قاتل ہو گا، لیکن اس میں اشکال ہے کہ ولی کے گناہ کا حامل کیونکر ہو گا، اس لیے حدیث کے اس ظاہری مفہوم کی توجیہ کچھ اس طرح کی گئی ہے کہ ولی کے معاف کر دینے کے سبب رب العالمین ولی اور مقتول دونوں کو مغفرت سے نوازے گا اور قاتل اس حال میں لوٹے گا کہ مغفرت کے سبب ان دونوں کے گناہ زائل ہو چکے ہوں گے۔ ۲؎: یہ وہی آدمی ہے جس کا تذکرہ پچھلی حدیث میں گزرا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4728
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلٍ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جِيءَ بِالْقَاتِلِ يَقُودُهُ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ فِي نِسْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ:" أَتَعْفُو؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" أَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَقْتُلُهُ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ بِهِ"، فَلَمَّا ذَهَبَ بِهِ، فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ:" أَتَعْفُو؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" أَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟"، قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَقْتُلُهُ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ بِهِ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:" أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ"، فَعَفَا عَنْهُ وَتَرَكَهُ , فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب قاتل کو لایا گیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، مقتول کا ولی اسے رسی میں کھینچ کر لا رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی سے فرمایا: کیا تم معاف کرو گے؟ وہ بولا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا دیت لو گے؟ وہ بولا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو کیا تم قتل کرو گے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: لے جاؤ اسے، چنانچہ جب وہ لے کر چلا اور رخ پھیرا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: کیا تم معاف کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا دیت لو گے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو قتل ہی کرو گے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: لے جاؤ اسے، اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: سنو! اگر اسے معاف کرتے ہو تو وہ اپنا گناہ اور تمہارے (مقتول) آدمی کا گناہ سمیٹ لے گا ۱؎، چنانچہ اس نے اسے معاف کر دیا، اور اسے چھوڑ دیا، پھر میں نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی رسی گھسیٹ رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4728]
حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں موقع پر موجود تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قاتل لایا گیا جسے مقتول کا ولی ایک تندی (چمڑے کی رسی) کے ساتھ کھینچے لا رہا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی سے فرمایا: کیا تو معاف کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو دیت لے گا؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتل کرے گا؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا لے جا۔ جب وہ اس کو لے جانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور فرمایا: کیا تو معاف کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا دیت لے گا؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر قتل کرے گا؟ اس نے کہا: ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! اگر تو اسے معاف کر دے تو یہ اپنے اور تیرے مقتول کے گناہوں کا بوجھ اٹھائے گا۔ اس نے اسے معاف کر کے چھوڑ دیا۔ میں نے اسے دیکھا کہ وہ (قاتل) اپنی تندی کو گھسیٹتے ہوئے جا رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4728]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ قتل سے پہلے جو گناہ اس کے سر تھا اور قتل کے بعد جس گناہ کا وہ مرتکب ہوا ہے ان دونوں کو وہ سمیٹ لے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4734
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى بِقَاتِلِ وَلِيِّهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اعْفُ عَنْهُ"، فَأَبَى، فَقَالَ:" خُذْ الدِّيَةَ"، فَأَبَى، قَالَ:" اذْهَبْ فَاقْتُلْهُ , فَإِنَّكَ مِثْلُهُ"، فَذَهَبَ فَلُحِقَ الرَّجُلُ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اقْتُلْهُ فَإِنَّكَ مِثْلُهُ"، فَخَلَّى سَبِيلَهُ فَمَرَّ بِي الرَّجُلُ وَهُوَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنے آدمی کے قاتل کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے اس سے فرمایا: اسے معاف کر دو، اس نے انکار کیا، تو آپ نے فرمایا: دیت لے لو، اس نے انکار کیا تو آپ نے فرمایا: جاؤ، اسے قتل کر دو، تم بھی اسی جیسے ہو جاؤ گے (گناہ میں)، جب وہ قتل کرنے چلا تو کوئی اس شخص سے ملا اور اس سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، (اگر) اسے قتل کر دو، تم بھی اسی طرح ہو جاؤ گے، چنانچہ اس نے اسے چھوڑ دیا، تو وہ شخص (یعنی قاتل جسے معاف کیا گیا) میرے پاس سے اپنی رسی گھسیٹتے ہوئے گزرا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4734]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنے رشتہ دار کے قاتل کو پکڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے معاف کر دے۔ اس نے انکار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیت لے لو۔ اس نے پھر انکار کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا پھر اسے قتل کر دے، تو بھی اس جیسا ہی ہے۔ وہ اسے لے گیا۔ پیچھے سے کوئی آدمی اسے جا کر ملا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اسے قتل کر دے، تو تو بھی اس جیسا ہی ہو گا۔ تو اس نے اسے چھوڑ دیا۔ وہ آدمی (قاتل) میرے پاس سے گزرا اس حال میں کہ وہ رسی گھسیٹتا ہوا بھاگا جا رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4734]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «قش/الدیات 34 (2691)، (تحفة الأشراف: 451) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5417
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلٍ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ بِالْقَاتِلِ يَقُودُهُ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ فِي نِسْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ:" أَتَعْفُو؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَقْتُلُهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ بِهِ" , فَلَمَّا ذَهَبَ فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ، فَقَالَ:" أَتَعْفُو" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَقْتُلُهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ بِهِ" , فَلَمَّا ذَهَبَ فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ، فَقَالَ:" أَتَعْفُو؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَتَقْتُلُهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" اذْهَبْ بِهِ"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ:" أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ"، فَعَفَا عَنْهُ وَتَرَكَهُ فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا جب قاتل کو مقتول کا ولی ایک رسی میں باندھ کر گھسیٹتا ہوا لایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی سے فرمایا: کیا تم معاف کر دو گے؟ وہ بولا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا دیت لو گے؟ وہ بولا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسے قتل کرو گے؟ کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے لے جاؤ (اور قتل کرو) جب وہ چلا اور آپ کے پاس سے چلا گیا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: کیا معاف کر دو گے؟ کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیت لو گے؟ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو اسے قتل کرو گے؟ کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: لے جاؤ اسے (اور قتل کرو) جب وہ چلا اور آپ کے پاس سے چلا گیا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا: کیا معاف کر دو گے؟ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: دیت لو گے؟ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو اسے قتل کرو گے؟ کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: لے جاؤ اسے (اور قتل کرو) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا: اگر تم اسے معاف کر دو تو یہ اپنے گناہ اور تمہارے (مقتول) ساتھی کے گناہ سمیٹ لے گا، یہ سن کر اس نے معاف کر دیا اور اسے چھوڑ دیا، میں نے دیکھا کہ وہ اپنی رسی کھینچ رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 5417]
حضرت وائل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھا جب ایک مقتول کا ولی قاتل کو چمڑے کی تندی کے ساتھ جکڑ کر لایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتول کے ولی سے فرمایا: کیا تو معاف کرتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیت لے گا؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر قتل کرے گا؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تو اس کو لے جا۔ جب وہ اس کو لے کر چل پڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: معاف کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیت لے گا؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر قتل ہی کرے گا؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اسے لے جا۔ جب وہ لے چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اسے بلایا اور فرمایا: معاف کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ضرور قتل ہی کرے گا؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اسے معاف کر دے تو وہ اپنے گناہ اور تیرے مقتول کے گناہ کا ذمہ دار ہو گا۔ یہ سن کر اس نے اسے معاف کر دیا اور چھوڑ دیا۔ میں نے دیکھا، وہ اپنی تندی (رسی) کو اسی طرح گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 5417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4727 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں