سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
46. باب : ذكر حديث عمرو بن حزم في العقول واختلاف الناقلين له
باب: دیت کے سلسلے میں عمرو بن حزم کی حدیث کا ذکر اور اس کے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 4860
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: جَاءَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَزْمٍ بِكِتَابٍ فِي رُقْعَةٍ مِنْ أَدَمٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا بَيَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ سورة المائدة آية 1" , فَتَلَا مِنْهَا آيَاتٍ، ثُمَّ قَالَ:" فِي النَّفْسِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ، وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ، وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ فَرِيضَةً، وَفِي الْأَصَابِعِ عَشْرٌ عَشْرٌ، وَفِي الْأَسْنَانِ خَمْسٌ خَمْسٌ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ".
زہری کہتے ہیں کہ ابوبکر بن حزم میرے پاس ایک تحریر لے آئے جو چمڑے کے ایک ٹکڑے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لکھی ہوئی تھی: یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیان ہے: اے ایمان والو! عہد و پیمان پورے کرو، پھر انہوں نے اس میں سے بعض آیات تلاوت کیں، پھر کہا: جان میں دیت سو اونٹ ہیں، آنکھ میں پچاس، ہاتھ میں پچاس، پیر میں پچاس، مغز تک پہنچنے والے زخم میں تہائی دیت، پیٹ کے اندر تک پہنچی چوٹ میں تہائی دیت اور ہڈی سرک جانے میں پندرہ اونٹنیاں ہیں۔ انگلیوں میں دس دس، دانتوں میں پانچ پانچ اور اس زخم میں جس میں ہڈی نظر آئے پانچ پانچ اونٹ ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4860]
حضرت زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میرے پاس حضرت ابوبکر بن حزم رحمہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریر لے کر آئے جو چمڑے کے ٹکڑے پر لکھی ہوئی تھی کہ یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے (احکام کا) بیان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ﴾ [سورة المائدة: 1] ”اے ایمان والو! عہد پورے کرو۔“ پھر اس کے بعد کئی آیتیں پڑھیں۔ پھر کہا: (پھر لکھا تھا) ”کسی جان کو ختم کر دینے کی صورت میں دیت سو اونٹ ہوگی۔ ایک ہاتھ میں پچاس اونٹ ہیں۔ ایک آنکھ میں (آنکھ کی دیت) پچاس اونٹ ہیں اور ایک پاؤں کی دیت بھی پچاس اونٹ ہیں۔ دماغ تک پہنچ جانے والے زخم میں تہائی دیت ہے۔ اور پیٹ کے اندر تک پہنچ جانے والے زخم کی دیت بھی ایک تہائی ہے۔ ہڈی کو توڑ دینے والے زخم میں پندرہ اونٹ دیت ہے۔ انگلیوں کی دیت دس دس اونٹ ہے۔ دانتوں کی دیت پانچ پانچ اونٹ ہے۔ اور ہڈی کو ننگا کرنے والے زخم میں پانچ اونٹ دیت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4860]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4850 (ضعیف) (مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4850
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ لَمَّا وُجِدَ الْكِتَابُ الَّذِي عِنْدَ آلِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الَّذِي ذَكَرُوا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ لَهُمْ , وَجَدُوا فِيهِ:" وَفِيمَا هُنَالِكَ مِنْ الْأَصَابِعِ عَشْرًا عَشْرًا".
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ انہیں جب وہ کتاب ملی جو عمرو بن حزم کی اولاد کے پاس تھی، جس کے بارے میں ان لوگوں نے بتایا کہ وہ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی تھی تو انہوں نے اس میں لکھا ہوا پایا کہ ”انگلیوں میں دیت دس دس اونٹ ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4850]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب میں نے وہ دستاویز دیکھی جو عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی اولاد کے پاس تھی اور جس کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تحریر خود لکھوا کر ان کو دی، اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ: ”انگلیوں کی دیت دس دس اونٹ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4850]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 10726)، وانظرأرقام: 4857-4861 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 4859
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: قَرَأْتُ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَتَبَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ حِينَ بَعَثَهُ عَلَى نَجْرَانَ , وَكَانَ الْكِتَابُ عِنْدَ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، فَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا بَيَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ وَكَتَبَ الْآيَاتِ مِنْهَا حَتَّى بَلَغَ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ سورة المائدة آية 1 - 4" , ثُمَّ كَتَبَ:" هَذَا كِتَابُ الْجِرَاحِ , فِي النَّفْسِ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ" , نَحْوَهُ.
محمد بن شہاب زہری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کتاب پڑھی جو آپ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے لکھی جب انہیں نجران کا والی بنا کر بھیجا، کتاب ابوبکر بن حزم کے پاس تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا تھا: یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیان ہے: «يا أيها الذين آمنوا أوفوا بالعقود» ”اے ایمان والو! عہد و پیماں پورے کرو“ (المائدہ: ۱) اور اس کے بعد کی آیات لکھیں یہاں تک کہ آپ «إن اللہ سريع الحساب» ”اللہ جلد حساب لینے والا ہے“ (المائدہ: ۴) تک پہنچے۔ پھر لکھا تھا: یہ زخموں کی کتاب ہے، ایک جان کی دیت سو اونٹ ہیں، پھر آگے اسی طرح ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4859]
حضرت ابن شہاب (زہری) رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ تحریر پڑھی ہے جو آپ نے حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو نجران کا حاکم بناتے وقت لکھ کر دی تھی۔ یہ تحریر حضرت ابوبکر بن حزم رحمہ اللہ کے پاس تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا تھا کہ ”یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے (احکام کا) بیان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ﴾ [سورة المائدة: 1] ”اے ایمان والو! عہد پورے کرو۔“”پھر آپ نے چند آیات لکھیں، حتیٰ کہ یہاں تک پہنچے: ﴿إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ [سورة المائدة: 4] ”بے شک اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔“ پھر آپ نے تحریر فرمایا تھا کہ ”یہ زخموں وغیرہ (کی دیت) کے بارے میں ایک تحریر ہے، جان (ختم کر دینے کی صورت) میں دیت سو اونٹ ہوگی۔“ باقی روایت حسب سابق ہے۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4850 (ضعیف) (یہ روایت مرسل ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4861
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: الْكِتَابُ الَّذِي كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي الْعُقُولِ:" إِنَّ فِي النَّفْسِ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِيَ جَدْعًا مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ النَّفْسِ، وَفِي الْجَائِفَةِ مِثْلُهَا، وَفِي الْيَدِ خَمْسُونَ، وَفِي الْعَيْنِ خَمْسُونَ، وَفِي الرِّجْلِ خَمْسُونَ، وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ مِمَّا هُنَالِكَ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ".
محمد بن عمرو بن حزم کہتے ہیں کہ وہ تحریر جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کے لیے دیتوں کے سلسلے میں لکھی، یہ تھی: جان میں سو اونٹ ہیں، ناک میں جب وہ جڑ سے کاٹ لی گئی ہو، سو اونٹ ہیں، مغز (گودے) تک پہنچنے والے زخم میں جان کی دیت کے اونٹوں کے تہائی ہیں۔ اسی قدر اس زخم میں ہیں جو پیٹ کے اندر تک پہنچ جائے، ہاتھ میں پچاس اونٹ ہیں۔ آنکھ میں پچاس اونٹ ہیں، پیر میں پچاس اونٹ ہیں، اور ہر ایک انگلی میں دس دس اونٹ ہیں۔ دانت میں پانچ اونٹ ہیں، اس زخم میں جس میں ہڈی کھل جائے پانچ اونٹ ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4861]
حضرت ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ تحریر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کے مسائل کے بارے میں حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھ کر دی تھی (وہ یوں ہے کہ): ”جان (ختم کر دینے کی صورت) میں سو اونٹ دیت ہے۔ اور ناک میں، جب وہ جڑ سے کاٹ دی جائے، بھی سو اونٹ دیت ہے۔ اور دماغ تک پہنچ جانے والے زخم میں کل دیت کا ایک تہائی ہے۔ اور پیٹ کے اندر پہنچ جانے والے زخم میں بھی تہائی دیت ہی ہے۔ ایک ہاتھ میں پچاس اونٹ دیت ہے۔ اور ایک آنکھ میں بھی پچاس اونٹ ہیں اور ایک پاؤں میں بھی پچاس اونٹ ہیں۔ اور (ہاتھ پاؤں کی) ہر انگلی میں دس اونٹ دیت ہے۔ ہر دانت میں پانچ اونٹ ہیں اور ہڈی کو ننگا کر دینے والے زخم میں بھی پانچ اونٹ دیت ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4861]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4850 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح