🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب : تطويل الجمة
باب: لمبے بال رکھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5069
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَاسِمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي جُمَّةٌ، قَالَ:" ذُبَابٌ" , وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِينِي، فَانْطَلَقْتُ فَأَخَذْتُ مِنْ شَعْرِي، فَقَالَ:" إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ , وَهَذَا أَحْسَنُ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میرے سر پر لمبے بال تھے، آپ نے فرمایا: نحوست ہے، میں سمجھا کہ آپ کی مراد میں ہی ہوں۔ میں گیا اور اپنے بال کتروا دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری مراد تم نہیں تھے، ویسے یہ زیادہ اچھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5069]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو میرے لمبے لمبے بال تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (یہ) منحوس چیز ہے۔ میں نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کہہ رہے ہیں۔ میں اٹھا اور اپنے بال کاٹ کر پھر حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے نہیں کہا تھا۔ ویسے یہ زیادہ اچھی حالت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5069]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5055 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5055
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ أَخُو قَبِيصَةَ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِي شَعْرٌ، فَقَالَ: ذُبَابٌ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِينِي، فَأَخَذْتُ مِنْ شَعْرِي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ , فَقَالَ لِي:" لَمْ أَعْنِكَ , وَهَذَا أَحْسَنُ".
وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میرے سر پر (لمبے) بال تھے، آپ نے فرمایا: نحوست ہے، میں نے سمجھا کہ آپ مجھے کہہ رہے ہیں، چنانچہ میں نے اپنے سر کے بال کٹوا دیے پھر میں آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: میں نے تم سے نہیں کہا تھا، لیکن یہ بہتر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5055]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو میرے لمبے لمبے بال تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ذُبَابٌ ذُبَابٌ» نحوست ہے (یہ بری چیز ہے)۔ میں نے سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ میری طرف ہے، میں نے اپنے بال کاٹ دیے، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إِنِّي لَمْ أَعْنِكَ وَهَذَا أَحْسَنُ» میرا اشارہ تیری طرف نہیں تھا۔ ویسے یہ تیری زیادہ اچھی حالت ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5055]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الترجل 11 (4190)، سنن ابن ماجہ/اللباس 37 (3636)، (تحفة الأشراف: 11782)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5069) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: اکثر نسخوں میں یہ تبویب ہے، بعض نسخوں میں «الأخذ من الشعر» ہے جو احادیث کے سیاق کے مناسب ہے، کیونکہ ان میں صرف بال کاٹنے کا تذکرہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں