🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب : لبس خاتم صفر
باب: پیتل کی انگوٹھی پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5209
أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمَصِّيصِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مَنْصُورٍ مِنْ أَهْلِ ثَغْرٍ ثِقَةٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي النَّجِيبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ الْبَحْرَيْنِ , إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلَّمَ فَلَمْ يُرَدَّ عَلَيْهِ، وَكَانَ فِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ وَجُبَّةُ حَرِيرٍ فَأَلْقَاهُمَا، ثُمَّ سَلَّمَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتَيْتُكَ آنِفًا فَأَعْرَضْتَ عَنِّي، فَقَالَ:" إِنَّهُ كَانَ فِي يَدِكَ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ" , قَالَ: لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ , قَالَ:" إِنَّ مَا جِئْتَ بِهِ لَيْسَ بِأَجْزَأَ عَنَّا مِنْ حِجَارَةِ الْحَرَّةِ، وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا"، قَالَ: فَمَاذَا أَتَخَتَّمُ؟ قَالَ:" حَلْقَةً مِنْ حَدِيدٍ، أَوْ وَرِقٍ، أَوْ صُفْرٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بحرین (احساء) سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سلام کیا، آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، اس کے ہاتھ میں سونے کی ایک انگوٹھی تھی اور ریشم کا جبہ، اس نے وہ دونوں اتار کر پھینک دیے اور پھر سلام کیا، تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا، اب اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں تو سیدھا آپ کے پاس آیا ہوں اور آپ نے مجھ سے رخ پھیر لیا؟ آپ نے فرمایا: تمہارے ہاتھ میں جہنم کی آگ کا انگارہ تھا، وہ بولا: تب تو اس میں سے بہت سارے انگارے لے کر آیا ہوں، آپ نے فرمایا: تم جو کچھ بھی لے کر آئے ہو وہ ہمارے لیے اس حرہ کے پتھروں سے زیادہ فائدہ مند نہیں ہے، البتہ وہ دنیا کی زندگی کی متاع ہے، وہ بولا: تو پھر میں کس چیز کی انگوٹھی بنواؤں؟ آپ نے فرمایا: لوہے کا یا چاندی کا یا پیتل کا ایک چھلا بنا لو۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5209]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بحرین سے ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب نہ دیا۔ اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی اور اس نے ریشمی قمیص پہن رکھی تھی، اس نے وہ دونوں چیزیں اتارنے کے بعد پھر سلام عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دیا، پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ابھی آپ کے پاس حاضر ہوا تھا تو آپ نے مجھ سے اعراض فرمایا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے ہاتھ میں آگ کا انگارہ تھا۔ اس نے کہا: پھر تو میں بہت سے انگارے لایا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تو لے کر آیا تھا ہمارے نزدیک اس کی حیثیت حرہ کے پتھروں سے زیادہ نہیں، البتہ دنیوی زندگی میں اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ اس نے عرض کی: میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوہے، چاندی یا پیتل کی انگوٹھی۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5209]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5191 (ضعیف) (اس کے راوی ”داود بن منصور“ حافظے کے کمزور ہیں، اور ان کی اس روایت میں حدیث نمبر 5191 سے متن میں جو اضافہ ہے وہ منکر ہے۔ مذکورہ روایت صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5191
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، أَنَّ أَبَا النَّجِيبِ حَدَّثَهُ , أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ , أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" إِنَّكَ جِئْتَنِي وَفِي يَدِكَ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نجران سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ سونے کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھا، آپ نے اس سے منہ پھیر لیا اور فرمایا: تم میرے پاس اپنے ہاتھ میں جہنم کی آگ کا انگارہ لے کر آئے ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5191]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ نجران کے علاقے سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ اس نے سونے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا اور فرمایا: تو میرے پاس اس حالت میں آیا ہے کہ تیرے ہاتھ میں آگ کا انگارہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5191]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 4042 ألف)، مسند احمد (3/14)، ویأتي عند المؤلف برقم: 5209 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں