سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب : تخليق المساجد
باب: مساجد کو خوشبو میں بسانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 729
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَقَامَتِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا وَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَحْسَنَ هَذَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو غضبناک ہو گئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، انصار کی ایک عورت نے اٹھ کر اسے کھرچ کر صاف کر دیا، اور اس جگہ پر خلوق خوشبو مل دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے کیا ہی اچھا کیا“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 729]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی سامنے والی دیوار پر کھنکھار لگا دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آگئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور سرخ ہوگیا۔ انصار کی ایک عورت اٹھی، اس نے کھنکھار کو کھرچا اور اس کی جگہ خوشبو لگا دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیا ہی خوب ہے!“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المساجد 10 (762)، (تحفة الأشراف: 698)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 39 (417)، مسند احمد 3/188، 199، 200 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 309
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ فَرَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کا کنارہ پکڑا، اس میں تھوکا، اور اسے مل دیا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 309]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کا ایک کنارہ پکڑا، اس میں تھوکا، پھر کپڑے کو آپس میں مل دیا۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف 591)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 33 (405)، 39 (417)، سنن ابی داود/الطھارة 143 (390)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 61 (1024) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ تھوک پاک ہے، ورنہ آپ صلی الله علیہ وسلم ایسا نہ کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 310
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مِهْرَانَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ، وَإِلَّا فَبَزَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَكَذَا فِي ثَوْبِهِ وَدَلَكَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے یا اپنے دائیں طرف نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں طرف تھوکے، یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوک لے“ نہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے میں اس طرح تھوکا ہے اور اسے مل دیا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 310]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہو تو وہ اپنے آگے اور دائیں نہ تھوکے بلکہ اپنے بائیں یا پاؤں کے نیچے تھوکے۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس طرح اپنے کپڑے میں تھوک کر کپڑے کو آپس میں مل لیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 13 (550)، سنن ابن ماجہ/إقامة 61 (1022)، (تحفة الأشراف 14669)، مسند احمد 2/250، 415 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 725
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بُصَاقًا فِي جِدَارِ الْقِبْلَةِ فَحَكَّهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ:" إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قِبَلَ وَجْهِهِ إِذَا صَلَّى".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ والی دیوار پر تھوک دیکھا تو اسے رگڑ دیا، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے چہرہ کی جانب ہرگز نہ تھوکے، کیونکہ جب وہ نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے چہرہ کے سامنے ہوتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 725]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلے والی دیوار پر تھوک لگا ہوا دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو وہ اپنے سامنے نہ تھوکے، کیونکہ جب انسان نماز پڑھتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے سامنے ہوتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 725]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 33 (406)، الأذان 94 (753)، العمل في الصلاة 12 (1213)، الأدب 75 (6111)، صحیح مسلم/المساجد 13 (547)، وقد أخرجہ: (تحفة الأشراف: 8366)، موطا امام مالک/القبلة 3 (4)، مسند احمد 2/32، 66، سنن الدارمی/الصلاة 116 (1437) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 726
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِحَصَاةٍ وَنَهَى أَنْ يَبْصُقَ الرَّجُلُ بَيْنَ يَدَيْهِ أَوْ عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ:" يَبْصُقُ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی قبلہ (والی دیوار پر) بلغم دیکھا تو اسے کنکری سے کھرچ دیا، اور لوگوں کو اپنے سامنے اور دائیں طرف تھوکنے سے روکا، اور فرمایا: ”(جنہیں ضرورت ہو) وہ اپنے بائیں تھوکے یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے“۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 726]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی قبلے والی دیوار پر تھوک لگا دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کنکری سے کھرچ دیا اور منع فرمایا کہ ”نمازی اپنے سامنے یا دائیں تھوکے“ بلکہ فرمایا: ”وہ اپنے بائیں جانب تھوکے یا بائیں قدم کے نیچے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 726]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 34 (408)، 35 (410)، 36 (414)، صحیح مسلم/المساجد 13 (547)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/المساجد 10 (761)، (تحفة الأشراف: 3997)، مسند احمد 3/6، 24، 58، 88، 93، سنن الدارمی/الصلاة 116 (1438) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 727
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كُنْتَ تُصَلِّي، فَلَا تَبْزُقَنَّ بَيْنَ يَدَيْكَ وَلَا عَنْ يَمِينِكَ، وَابْصُقْ خَلْفَكَ أَوْ تِلْقَاءَ شِمَالِكَ إِنْ كَانَ فَارِغًا، وَإِلَّا فَهَكَذَا: وَبَزَقَ تَحْتَ رِجْلِهِ وَدَلَكَهُ".
طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھ رہے ہو تو اپنے سامنے اور اپنے داہنے ہرگز نہ تھوکو، بلکہ اپنے پیچھے تھوکو، یا اپنے بائیں تھوکو، بشرطیکہ بائیں طرف کوئی نہ ہو، ورنہ اس طرح کرو“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیر کے نیچے تھوک کر اسے مل دیا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 727]
حضرت طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نماز پڑھتا ہو تو اپنے سامنے یا دائیں جانب نہ تھوک۔ اگر خالی جگہ ہو (نمازی نہ ہوں) تو اپنے پیچھے یا بائیں طرف تھوک ورنہ ایسے کر۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پاؤں کے نیچے تھوکا اور اسے مل دیا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 727]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة22 (478)، سنن الترمذی/الصلاة 284، الجمعة 49 (571) مختصراً، سنن ابن ماجہ/إقامة 61 (1021) مختصراً، (تحفة الأشراف: 4987)، مسند احمد 6/396 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 728
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَنَخَّعَ فَدَلَكَهُ بِرِجْلِهِ الْيُسْرَى".
شخیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ نے کھکھار کر تھوکا، پھر اسے اپنے بائیں پیر سے رگڑ دیا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 728]
حضرت شِخیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھنکھار پھینکا اور اسے بائیں پاؤں سے مٹی میں مل دیا۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 728]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 13 (554)، سنن ابی داود/الصلاة 22 (482، 483)، مسند احمد 4/25، 26، (تحفة الأشراف: 5348) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم