🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. باب : الرخصة في الجلوس فيه والخروج منه بغير صلاة
باب: بغیر نماز پڑھے مسجد میں بیٹھنے اور اس سے نکلنے کی رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 732
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، قال ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قال: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ، حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، قَالَ: وَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَادِمًا، وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ جَاءَهُ الْمُخَلَّفُونَ فَطَفِقُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ وَيَحْلِفُونَ لَهُ وَكَانُوا بِضْعًا وَثَمَانِينَ رَجُلًا، فَقَبِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَانِيَتَهُمْ وَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ وَوَكَلَ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، حَتَّى جِئْتُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ، ثُمَّ قَالَ: تَعَالَ، فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ لِي: مَا خَلَّفَكَ؟ أَلَمْ تَكُنِ ابْتَعْتَ ظَهْرَكَ؟ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا لَرَأَيْتُ أَنِّي سَأَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ وَلَقَدْ أُعْطِيتُ جَدَلًا وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ حَدِيثَ كَذِبٍ لِتَرْضَى بِهِ عَنِّي لَيُوشَكُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُسْخِطُكَ عَلَيَّ وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ حَدِيثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَيَّ فِيهِ إِنِّي لَأَرْجُو فِيهِ عَفْوَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَقْوَى وَلَا أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ، فَقُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيكَ"، فَقُمْتُ فَمَضَيْتُ. مُخْتَصَرٌ.
عبداللہ بن کعب کہتے ہیں کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اپنا وہ واقعہ بیان کر رہے تھے جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو تشریف لائے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھتے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کر لیا تو جنگ سے پیچھے رہ جانے والے لوگ آپ کے پاس آئے، آپ سے معذرت کرنے لگے، اور آپ کے سامنے قسمیں کھانے لگے، وہ اسّی سے کچھ زائد لوگ تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہری بیان کو قبول کر لیا، اور ان سے بیعت کر لی، اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی، اور ان کے دلوں کے راز کو اللہ عزوجل کے سپرد کر دیا، یہاں تک کہ میں آیا تو جب میں نے سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھ کر مسکرائے جیسے کوئی غصہ میں مسکراتا ہے، پھر فرمایا: آ جاؤ! چنانچہ میں آ کر آپ کے سامنے بیٹھ گیا ۱؎، تو آپ نے مجھ سے پوچھا: تم کیوں پیچھے رہ گئے تھے؟ کیا تم نے اپنی سواری خرید نہیں لی تھی؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم اگر میں آپ کے علاوہ کسی اور کے پاس ہوتا تو میں اس کے غصہ سے اپنے آپ کو یقیناً بچا لیتا، مجھے باتیں بنانی خوب آتی ہے لیکن اللہ کی قسم، میں جانتا ہوں کہ اگر آپ کو خوش کرنے کے لیے میں آج آپ سے جھوٹ موٹ کہہ دوں تو قریب ہے کہ جلد ہی اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے، اور اگر میں آپ سے سچ سچ کہہ دوں تو آپ مجھ پر ناراض تو ہوں گے لیکن مجھے امید ہے کہ اللہ مجھے معاف کر دے گا، اللہ کی قسم جب میں آپ سے پیچھے رہ گیا تھا تو اس وقت میں زیادہ طاقتور اور زیادہ مال والا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رہا یہ شخص تو اس نے سچ کہا، اٹھو چلے جاؤ یہاں تک کہ اللہ آپ کے بارے میں کوئی فیصلہ کر دے، چنانچہ میں اٹھ کر چلا آیا، یہ حدیث لمبی ہے یہاں مختصراً منقول ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 732]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا، جب وہ غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت تشریف لائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس آتے تھے تو سب سے پہلے مسجد میں آتے اور دو رکعتیں پڑھتے، پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھ جاتے۔ (اس دن بھی) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کچھ کر لیا تو جو لوگ اس غزوے سے پیچھے رہ گئے تھے آکر اپنا اپنا عذر پیش کرنے لگے اور (یقین دلانے کے لیے) قسمیں کھانے لگے۔ یہ اسی سے زائد آدمی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہری عذر کو قبول فرمایا اور ان سے بیعتِ اطاعت لے لی اور ان کے لیے بخشش طلب فرمائی اور ان کی باطنی حقیقت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد فرما دیا حتیٰ کہ میں بھی آیا۔ جب میں نے سلام کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض شخص کی طرح مسکرائے، پھر فرمایا: آگے آؤ۔ میں آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم کیسے پیچھے رہے؟ کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! اگر میں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے) کسی دنیا دار (سردار) کے پاس بیٹھا ہوتا تو میں جانتا ہوں کہ یقیناً میں اس کی ناراضی اور غصے سے نکل جاتا کیونکہ مجھے بات کرنے کا طریقہ (خوب) عنایت ہوا ہے۔ لیکن واللہ! مجھے یقین ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو راضی کرنے کے لیے اگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ کہہ دیا تو اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے ناراض کر دے گا اور اگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچ سچ کہہ دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (وقتی طور پر) مجھ سے ناراض ہو جائیں گے، لیکن مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا۔ واللہ! میں کبھی بھی اس قدر صاحبِ استطاعت و سہولت نہیں ہوا جس قدر اب تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے سچ کہا ہے (پھر مجھ سے فرمایا:) تم اٹھ جاؤ، حتیٰ کہ تمہارے بارے میں اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ فرمائے۔ میں اٹھ کے چلا آیا۔ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 198 (3088)، صحیح مسلم/المسافرین 12 (716)، سنن ابی داود/الجہاد 173 (2773)، 178 (2781)، (تحفة الأشراف: 11132)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/التفسیر 10 (3102)، مسند احمد 3/455، 457، 459 و 6/388 (کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث کی مفصل تخریج کے لیے حدیث رقم: (3451) کی تخریج دیکھئے، یہاں باب کی مناسبت سے متن اور تخریج میں اختصار سے کام لیا گیا ہے) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مؤلف نے اسی سے باب پر استدلال کیا ہے، یعنی: کعب رضی اللہ عنہ بغیر تحیۃ المسجد پڑھے بیٹھ گئے، پھر اٹھ کر چلے گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو تحیۃ المسجد پڑھنے کا حکم نہیں دیا، لیکن یہ بعض حالات کے لیے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3854
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تِيبَ عَلَيْهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ الزُّهْرِيُّ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , وَمِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ الطَّوِيلِ تَوْبَةُ كَعْبٍ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اللہ اور اس کے رسول کے نام پر صدقہ کر کے اپنے مال سے علیحدہ ہو جاتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنا کچھ مال روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا ۱؎۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: ہو سکتا ہے کہ زہری نے اس حدیث کو عبداللہ بن کعب اور عبدالرحمٰن دونوں سے سنا ہو اور انہوں نے ان (کعب رضی اللہ عنہ) سے روایت کی ہو ۲؎۔ اسی لمبی حدیث میں کعب رضی اللہ عنہ کی توبہ کا بھی ذکر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 3854]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کی توبہ قبول ہوئی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اپنے کل مال کو اللہ اور اس کے رسول کی مرضی کے مطابق صدقہ کرتے ہوئے اس سے لاتعلق ہونا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کچھ مال رکھ لے، یہ تیرے لیے بہتر ہو گا۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ممکن ہے زہری نے یہ حدیث عبداللہ بن کعب سے بھی سنی ہو اور ان سے (ان کے بھائی) عبدالرحمن بن کعب کے واسطے سے بھی۔ اس لمبی حدیث میں حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی توبہ کا ذکر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 3854]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الأیمان 29 (3317، 3318)، (تحفة الأشراف: 11135) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اگلے باب سے متعلق ہے، نساخ کی غلطی سے یہاں درج ہو گئی ہے، واللہ اعلم۔ ۲؎: زہری نے یہ حدیث: عبداللہ بن کعب، عبدالرحمٰن بن کعب، نیز عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب (عن أبیہ عبداللہ بن کعب) تینوں سے سنی ہے، دیکھئیے احادیث رقم: ۳۴۵۱-۳۴۵۶
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3855
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ , عَنْ يُونُسَ , قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ , فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ , قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَالَ: فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ". فَقُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ مُخْتَصَرٌ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا وہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے، وہ کہتے ہیں: جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا، میں نے عرض کیا: اچھا تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے، یہ حدیث مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 3855]
حضرت عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے (اپنے والد محترم) حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو اپنا واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا، جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ انہوں نے فرمایا: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اپنے مال کو اللہ اور اس کے رسول کی رضامندی کے لیے صدقہ کرتے ہوئے اپنے مال سے لاتعلق ہو جاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کچھ مال رکھ لے۔ یہ تیرے لیے بہتر ہے۔ میں نے کہا: میں اپنی خیبر والی جائیداد رکھ لیتا ہوں۔ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 3855]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3454 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3856
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حَدِيثَهُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ , قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ مَالَكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ". قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ عَلَيَّ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا اس وقت کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ (کہتے ہیں:) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا (کچھ) مال اپنے لیے روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا، میں نے عرض کیا: تو میں اپنے پاس اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 3856]
حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے (اپنے والد محترم) حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو اپنا واقعہ بیان فرماتے ہوئے سنا، جب وہ غزوۂ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے۔ انہوں نے فرمایا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کرتے ہوئے اس سے لا تعلق ہوجاؤں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کچھ مال رکھ لے، یہ تیرے لیے بہتر ہوگا۔ میں نے کہا: میں اپنا خیبر والا حصہ رکھ لیتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 3856]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3854 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3857
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , عَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّمَا نَجَّانِي بِالصِّدْقِ , وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ. فَقَالَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ , فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ". قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے مجھے صرف سچ کی وجہ سے نجات دی تو میری توبہ میں سے یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو صدقہ کر کے اپنے مال سے الگ ہو جاؤں۔ آپ نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے پاس روک لو یہ تمہارے لیے بہتر ہو گا، میں نے عرض کیا: تو میں اپنا وہ حصہ روک لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 3857]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے مجھے سچ بولنے کی وجہ سے نجات دی ہے، نیز میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی کی خاطر صدقہ کرتے ہوئے اس سے لاتعلق ہوجاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کچھ مال رکھ لے، یہ تیرے لیے بہتر ہوگا۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے، میں اپنا خیبر والا حصہ رکھ لیتا ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 3857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11160) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں