سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. باب ما جاء في العزل
باب: عزل کا بیان۔
حدیث نمبر: 1136
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا نَعْزِلُ فَزَعَمَتْ الْيَهُودُ أَنَّهَا الْمَوْءُودَةُ الصُّغْرَى، فَقَالَ:" كَذَبَتْ الْيَهُودُ إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْلُقَهُ فَلَمْ يَمْنَعْهُ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَالْبَرَاءِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ.
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ عزل ۱؎ کرتے تھے، تو یہودیوں نے کہا: قبر میں زندہ دفن کرنے کی یہ ایک چھوٹی صورت ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہودیوں نے جھوٹ کہا۔ اللہ جب اسے پیدا کرنا چاہے گا تو اسے کوئی روک نہیں سکے گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
اس باب میں عمر، براء اور ابوہریرہ، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1136]
اس باب میں عمر، براء اور ابوہریرہ، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1136]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/عشرة النساء (في الکبری) (تحفة الأشراف: 2587) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎ عزل یہ ہے کہ جماع کے وقت انزال قریب ہو تو آدمی اپنا عضو تناسل شرمگاہ سے باہر نکال کر منی باہر نکال دے تاکہ عورت حاملہ نہ ہو۔ ۲؎: اس حدیث میں صرف اس بات کا بیان ہے کہ یہودیوں کا یہ خیال غلط ہے کیونکہ عزل کے باوجود جس نفس کی اس مرد و عورت سے تخلیق اللہ کو مقصود ہوتی ہے اس کی تخلیق ہو ہی جاتی ہے، جیسا کہ ایک صحابی نے لونڈی سے عزل کیا اس کے باوجود حمل ٹھہر گیا۔ اس لیے یہ «مودودۃ صغریٰ» نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الآداب (52) ، صحيح أبي داود (1887)
قال الشيخ زبير على زئي:(1136) إسناده ضعيف / ن فى الكبري 9078
يحيي بن أبى كثير مدلس وعنعن (د 293) وحديث النسائي (الكبري:9091) يغني عنه
يحيي بن أبى كثير مدلس وعنعن (د 293) وحديث النسائي (الكبري:9091) يغني عنه
حدیث نمبر: 1138
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَقُتَيْبَةُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: ذُكِرَ الْعَزْلُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" لِمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ". قَالَ أَبُو عِيسَى: زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِ وَلَمْ يَقُلْ:" لَا يَفْعَلْ ذَاكَ أَحَدُكُمْ"، قَالَا فِي حَدِيثِهِمَا: فَإِنَّهَا لَيْسَتْ نَفْسٌ مَخْلُوقَةٌ إِلَّا اللَّهُ خَالِقُهَا. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَقَدْ كَرِهَ الْعَزْلَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عزل کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے؟“۔ ابن ابی عمر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے: ”اور آپ نے یہ نہیں کہا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہ کرے“، اور ان دونوں نے اپنی حدیث میں یہ بھی کہا ہے کہ ”جس جان کو بھی اللہ کو پیدا کرنا ہے وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہ اس کے علاوہ اور بھی طرق سے ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مروی ہے،
۳- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے،
۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے عزل کو مکروہ قرار دیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1138]
۱- ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہ اس کے علاوہ اور بھی طرق سے ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے مروی ہے،
۳- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے،
۴- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے عزل کو مکروہ قرار دیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1138]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/التوحید 18 (تعلیقا عقب الحدیث رقم: 7409)، صحیح مسلم/النکاح 22 (1438)، سنن ابی داود/ النکاح 49 (2170) (صحیح) وأخرجہ کل من: صحیح البخاری/البیوع 109 (2229)، و العتق 13 (2542)، والمغازي 32 (4138)، والنکاح 96 (5210)، والقدر 6 (6603)، والتوحید 18 (7409)، صحیح مسلم/النکاح (المصدر المذکور)، موطا امام مالک/الطلاق 34 (95)، مسند احمد (3/22، 26، 47، 49، 51، 53، 59، 86)، سنن الدارمی/النکاح 36 (2269) من غیر ہذا الوجہ وبعضہم بتغیر یسیر في السیاق۔»
وضاحت: ۱؎: عزل کے جواز اور عدم جواز کی بابت حتمی بات یہ ہے کہ یہ ہے تو جائز مگر نامناسب کام ہے، خصوصا جب عزل کے باوجود کبھی نطفہ رحم کے اندر چلا ہی جاتا ہے، اور حمل ٹھہر جاتا ہے۔ تو کیوں خواہ مخواہ یہ عمل کیا جائے۔ «واللہ اعلم»
قال الشيخ الألباني: صحيح الآداب (54 - 55) ، صحيح أبي داود (1886)