سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب ما جاء في المرأة تعتق ولها زوج
باب: عورت جو آزاد کر دی جائے اور وہ شوہر والی ہو۔
حدیث نمبر: 1156
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَتَادَةُ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ، لِبَنِي الْمُغِيرَةِ يَوْمَ أُعْتِقَتْ بَرِيرَةُ وَاللَّهِ لَكَأَنِّي بِهِ فِي طُرُقِ الْمَدِينَةِ وَنَوَاحِيهَا، وَإِنَّ دُمُوعَهُ لَتَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ يَتَرَضَّاهَا، لِتَخْتَارَهُ فَلَمْ تَفْعَلْ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةُ هُوَ سَعِيدُ بْنُ مِهْرَانَ وَيُكْنَى أَبَا النَّضْرِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ بریرہ کے شوہر بنی مغیرہ کے ایک کالے کلوٹے غلام تھے، جس دن بریرہ آزاد کی گئیں، اللہ کی قسم، گویا میں انہیں مدینے کے گلی کوچوں اور کناروں میں اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں کہ ان کے آنسو ان کی داڑھی پر بہہ رہے ہیں، وہ انہیں منا رہے ہیں کہ وہ انہیں ساتھ میں رہنے کے لیے چن لیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1156]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطلاق 15 (5282)، 16 (5283)، سنن ابی داود/ الطلاق 19 (2232)، (تحفة الأشراف: 5998) و6189) (صحیح) و أخرجہ کل من: سنن ابی داود/ الطلاق (2231)، و مسند احمد (1/215)، وسنن الدارمی/الطلاق 15 (2338) من غیر ہذا الوجہ۔»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (2075)
حدیث نمبر: 1520
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ , عَنْ ابْنِ عَوْنٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ , عَنْ أَبِيهِ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَطَبَ ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِكَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا " , قَالَ أَبُو عِيسَى , هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا، پھر (منبر سے) اترے پھر آپ نے دو مینڈھے منگائے اور ان کو ذبح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (یہ عید الاضحی کی نماز کے بعد کیا تھا، دیکھئیے اگلی حدیث)۔ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1520]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (یہ عید الاضحی کی نماز کے بعد کیا تھا، دیکھئیے اگلی حدیث)۔ [سنن ترمذي/كتاب الرضاع/حدیث: 1520]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/القسامة (الحدود) 9 (1679)، سنن النسائی/الضحایا 14 (4394)، (تحفة الأشراف: 11683) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح