🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
29. باب ما يقول إذا لبس ثوبا جديدا
باب: نیا کپڑا پہنتے وقت کیا دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1767
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَجَدَّ ثَوْبًا سَمَّاهُ بِاسْمِهِ، عِمَامَةً، أَوْ قَمِيصًا، أَوْ رِدَاءً، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ كَسَوْتَنِيهِ، أَسْأَلُكَ خَيْرَهُ وَخَيْرَ مَا صُنِعَ لَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهِ وَشَرِّ مَا صُنِعَ لَهُ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ عُمَرَ، وَابْنِ عُمَرَ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نیا کپڑا پہنتے تو اس کا نام لیتے جیسے عمامہ (پگڑی)، قمیص یا چادر، پھر کہتے: «اللهم لك الحمد أنت كسوتنيه أسألك خيره وخير ما صنع له وأعوذ بك من شره وشر ما صنع له» اللہ! تیرے ہی لیے تعریف ہے، تو نے ہی مجھے یہ پہنایا ہے، میں تم سے اس کی خیر اور اس چیز کی خیر کا طلب گار ہوں جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے، اور اس کی شر اور اس چیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے،
۲- اس باب میں عمر اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 1767]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ اللباس 1 (4020)، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة 118 (309)، (تحفة الأشراف: 4326)، و مسند احمد (3/30، 50) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، المشكاة (4342)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3560
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَسُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، المعنى واحد، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا الْأَصْبَغُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: لَبِسَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَوْبًا جَدِيدًا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ فَتَصَدَّقَ بِهِ ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ لَبِسَ ثَوْبًا جَدِيدًا , فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ فَتَصَدَّقَ بِهِ، كَانَ فِي كَنَفِ اللَّهِ وَفِي حِفْظِ اللَّهِ وَفِي سَتْرِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ.
ابوامامہ الباہلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے مجھے ایسا کپڑا پہنایا جس سے میں اپنی ستر پوشی کرتا ہوں اور اپنی زندگی میں حسن و جمال پیدا کرتا ہوں، پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: جس نے نیا کپڑا پہنا پھر یہ دعا پڑھی: «الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي وأتجمل به في حياتي» پھر اس نے اپنا پرانا (اتارا ہوا) کپڑا لیا اور اسے صدقہ میں دے دیا، تو وہ اللہ کی حفاظت و پناہ میں رہے گا زندگی میں بھی اور مرنے کے بعد بھی۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب اللباس/حدیث: 3560]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/اللباس 2 (3557) (تحفة الأشراف: 10467) (ضعیف) (سند میں ”ابوالعلاء الشامی“ مجہول راوی ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، ابن ماجة (3557) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (782) ، المشكاة (4374) ، ضعيف الجامع الصغير (5827) //
قال الشيخ زبير على زئي:(3560) إسناده ضعيف / جه 3557
أبو العلاء: مجهول (تق:8288)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں