سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما جاء في شارب الخمر
باب: شرابی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1861
حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ، وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعُبَادَةَ، وَأَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا فَلَمْ يَرْفَعْهُ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جس نے دنیا میں شراب پی اور وہ اس حال میں مر گیا کہ وہ اس کا عادی تھا، تو وہ آخرت میں اسے نہیں پیئے گا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہ حدیث کئی سندوں سے نافع سے آئی ہے، جسے نافع، ابن عمر سے، ابن عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،
۳- مالک بن انس نے اس حدیث کو نافع کے واسطہ سے ابن عمر سے موقوفا روایت کی ہے، اسے مرفوع نہیں کیا ہے،
۴- اس باب میں ابوہریرہ، ابو سعید خدری، عبداللہ بن عمرو بن العاص، ابن عباس، عبادہ اور ابو مالک اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1861]
۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے،
۲- یہ حدیث کئی سندوں سے نافع سے آئی ہے، جسے نافع، ابن عمر سے، ابن عمر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں،
۳- مالک بن انس نے اس حدیث کو نافع کے واسطہ سے ابن عمر سے موقوفا روایت کی ہے، اسے مرفوع نہیں کیا ہے،
۴- اس باب میں ابوہریرہ، ابو سعید خدری، عبداللہ بن عمرو بن العاص، ابن عباس، عبادہ اور ابو مالک اشعری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1861]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأشربة 1 (5575)، (الشطر الأخیر)، صحیح مسلم/الأشربة 8 (2003)، سنن ابی داود/ الأشربة 5 (3679)، سنن النسائی/الأشربة 22 (5585)، 5587، 5589)، (الشطر الأول) و 45 (5674)، (الشطر الأخیر) و 46 (5676، 5677)، (الشطر الأخیر)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 2 (3373)، (الشطر الأخیر و9 (3687)، (الشطر الأول)، (تحفة الأشراف: 7516)، و مسند احمد (2/16، 19، 22، 28، 29، 31، 91، 498) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دنیا میں شراب پینے والا اگر توبہ کئے بغیر مر گیا تو وہ آخرت کی شراب سے محروم رہے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (8 / 41)
حدیث نمبر: 1293
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ لَيْثًا يُحَدِّثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنِّي اشْتَرَيْتُ خَمْرًا لِأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي، قَالَ: " أَهْرِقْ الْخَمْرَ، وَاكْسِرِ الدِّنَانَ ". قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي طَلْحَةَ رَوَى الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ كَانَ عِنْدَهُ، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں نے ان یتیموں کے لیے شراب خریدی تھی جو میری پرورش میں ہیں۔ (اس کا کیا حکم ہے؟) آپ نے فرمایا: ”شراب بہا دو اور مٹکے توڑ دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ابوطلحہ رضی الله عنہ کی اس حدیث کو ثوری نے بطریق: «السدي، عن يحيى بن عباد، عن أنس» روایت کیا ہے کہ ابوطلحہ آپ کے پاس تھے ۱؎، اور یہ لیث کی روایت سے زیادہ صحیح ہے،
۲- اس باب میں جابر، عائشہ، ابوسعید، ابن مسعود، ابن عمر، اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1293]
۱- ابوطلحہ رضی الله عنہ کی اس حدیث کو ثوری نے بطریق: «السدي، عن يحيى بن عباد، عن أنس» روایت کیا ہے کہ ابوطلحہ آپ کے پاس تھے ۱؎، اور یہ لیث کی روایت سے زیادہ صحیح ہے،
۲- اس باب میں جابر، عائشہ، ابوسعید، ابن مسعود، ابن عمر، اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1293]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 3772) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: اس اعتبار سے یہ حدیث انس کی مسانید میں سے ہو گی نہ کہ ابوطلحہ کی۔
قال الشيخ الألباني: حسن، المشكاة (3659 / التحقيق الثاني)
حدیث نمبر: 1863
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْبِتْعِ فَقَالَ: " كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی نبیذ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”ہر شراب جو نشہ پیدا کر دے وہ حرام ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1863]
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1863]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 71 (242)، والأشربة 4 (5585)، صحیح مسلم/الأشربة 7 (2001)، سنن ابی داود/ الأشربة 5 (3682)، سنن النسائی/الأشربة 23 (5597)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 9 (3386)، (تحفة الأشراف: 17764)، وط/الأشربة 4 (9)، و مسند احمد (6/38، 97، 190، 226) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3386)
حدیث نمبر: 1864
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ الْكُوفِيُّ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ "، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَالْأَشَجِّ الْعُصَرِيِّ، وَدَيْلَمَ، وَمَيْمُونَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَقَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَمُعَاوِيَةَ، وَوَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، وَقُرَّةَ الْمُزَنِيِّ، وعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، وَبُرَيْدَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَكِلَاهُمَا صَحِيحٌ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- ابوسلمہ سے ابوہریرہ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، دونوں حدیثیں صحیح ہیں، کئی لوگوں نے اسے اسی طرح «محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اور «عن أبي سلمة عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے،
۳- اس باب میں عمر، علی، ابن مسعود، انس، ابو سعید خدری، ابوموسیٰ اشج عصری، دیلم، میمونہ، ابن عباس، قیس بن سعد، نعمان بن بشیر، معاویہ، وائل بن حجر، قرہ مزنی، عبداللہ بن مغفل، ام سلمہ، بریدہ، ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1864]
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- ابوسلمہ سے ابوہریرہ کے واسطہ سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث مروی ہے، دونوں حدیثیں صحیح ہیں، کئی لوگوں نے اسے اسی طرح «محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» اور «عن أبي سلمة عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے،
۳- اس باب میں عمر، علی، ابن مسعود، انس، ابو سعید خدری، ابوموسیٰ اشج عصری، دیلم، میمونہ، ابن عباس، قیس بن سعد، نعمان بن بشیر، معاویہ، وائل بن حجر، قرہ مزنی، عبداللہ بن مغفل، ام سلمہ، بریدہ، ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1864]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم 1861 (تحفة الأشراف: 8584) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (3387)
حدیث نمبر: 1866
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ مَا أَسْكَرَ الْفَرَقُ مِنْهُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ "، قَالَ أَبُو عِيسَى: قَالَ أَحَدُهُمَا فِي حَدِيثِهِ الْحَسْوَةُ مِنْهُ حَرَامٌ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَاهُ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَالرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ نَحْوَ رِوَايَةِ مَهْدِيِّ بْنِ مَيْمُونٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نشہ آور چیز حرام ہے، جس چیز کا ایک فرق (سولہ رطل) کی مقدار بھر نشہ پیدا کر دے تو اس کی مٹھی بھر مقدار بھی حرام ہے ۱؎، ان میں (یعنی محمد بن بشار اور عبداللہ بن معاویہ جمحی) میں سے ایک نے اپنی روایت میں کہا: یعنی اس کا ایک گھونٹ بھی حرام ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اسے لیث بن ابی سلیم اور ربیع بن صبیح نے ابوعثمان انصاری سے مہدی بن میمون کی حدیث جیسی حدیث روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1866]
۱- یہ حدیث حسن ہے،
۲- اسے لیث بن ابی سلیم اور ربیع بن صبیح نے ابوعثمان انصاری سے مہدی بن میمون کی حدیث جیسی حدیث روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الأشربة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1866]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الأشربة 5 (3687)، (تحفة الأشراف: 17565)، و مسند احمد (6/72) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں «فرق» (سولہ رطل) اور مٹھی بھر کا مفہوم بھی کثیر و قلیل ہی ہے، یعنی جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو تو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، الإرواء (2376)