🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب ومن سورة هود
باب: سورۃ ہود سے بعض آیات کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3113
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذٍ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: " أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا لَقِيَ امْرَأَةً وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا مَعْرِفَةٌ فَلَيْسَ يَأْتِي الرَّجُلُ شَيْئًا إِلَى امْرَأَتِهِ إِلَّا قَدْ أَتَى هُوَ إِلَيْهَا إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُجَامِعْهَا، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ وَيُصَلِّيَ، قَالَ مُعَاذٌ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَهِيَ لَهُ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُؤْمِنِينَ عَامَّةً؟ قَالَ: بَلْ لِلْمُؤْمِنِينَ عَامَّةً "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ مَاتَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ، وَقُتِلَ عُمَرُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى غُلَامٌ صَغِيرٌ ابْنُ سِتِّ سِنِينَ وَقَدْ رَوَى عَنْ عُمَرَ وَرَآهُ، وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! ایک ایسے شخص کے بارے میں مجھے بتائیے جو ایک ایسی عورت سے ملا جن دونوں کا آپس میں جان پہچان، رشتہ و ناطہٰ (نکاح) نہیں ہے اور اس نے اس عورت کے ساتھ سوائے جماع کے وہ سب کچھ (بوس و کنار چوما چاٹی وغیرہ) کیا جو ایک مرد اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے؟، (اس پر) اللہ تعالیٰ نے آیت: «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» ناز فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے وضو کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا، میں نے عرض کیا اللہ کے رسول! کیا یہ حکم اس شخص کے لیے خاص ہے یا سبھی مومنین کے لیے عام ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ سبھی مسلمانوں کے لیے عام ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے، (اس لیے کہ) عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے معاذ سے نہیں سنا ہے، اور معاذ بن جبل رضی الله عنہ کا انتقال عمر رضی الله عنہ کے دور خلافت میں ہوا تھا، اور عمر رضی الله عنہ جب شہید کیے گئے تو اس وقت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ چھ برس کے چھوٹے بچے تھے۔ حالانکہ انہوں نے عمر سے (مرسلاً) روایت کی ہے (جبکہ صرف) انہیں دیکھا ہے،
۲- شعبہ نے یہ حدیث عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے واسطہ سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 11343) (ضعیف الإسناد) (مؤلف نے سبب بیان کر دیا ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:(3113) إسناده ضعيف / السند منقطع كما بينه المؤلف رحمه الله

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3112
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَإِنِّي أَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا، وَأَنَا هَذَا فَاقْضِ فِيَّ مَا شِئْتَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: لَقَدْ سَتَرَكَ اللَّهُ لَوْ سَتَرْتَ عَلَى نَفْسِكَ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَأَتْبَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَدَعَاهُ فَتَلَا عَلَيْهِ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: هَذَا لَهُ خَاصَّةً، قَالَ: لَا بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا رَوَى إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَرِوَايَةُ هَؤُلَاءِ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ، وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: شہر کے بیرونی علاقے میں ایک عورت سے میں ملا اور سوائے جماع کے اس کے ساتھ میں نے سب کچھ کیا، اور اب بذات خود میں یہاں موجود ہوں، تو آپ اب میرے بارے میں جو فیصلہ چاہیں صادر فرمائیں (میں وہ سزا جھیلنے کے لیے تیار ہوں) عمر رضی الله عنہ نے اس سے کہا: اللہ نے تیری پردہ پوشی کی ہے کاش تو نے بھی اپنے نفس کی پردہ پوشی کی ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اور وہ آدمی چلا گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیچھے ایک آدمی بھیج کر اسے بلایا اور اسے آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» نماز قائم کرو دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے حصوں میں، بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے یاد رکھنے والوں کے لیے (ہود: ۱۱۴)، تک پڑھ کر سنائی۔ ایک صحابی نے کہا: کیا یہ (بشارت) اس شخص کے لیے خاص ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ سب کے لیے ہے ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- اسی طرح اسی جیسی روایت کی ہے اسرائیل نے سماک سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ اور اسود سے، اور ان دونوں نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے،
۳- اور اسی سفیان ثوری نے سماک سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبدالرحمٰن بن یزید سے اور عبدالرحمٰن نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ان لوگوں کی روایت سفیان ثوری کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ۳؎،
۴- شعبہ نے سماک بن حرب سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے اسود سے اور اسود نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3112]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/مواقیت الصلاة 4 (526)، وتفسیر ھود 4 (4687)، صحیح مسلم/التوبة 7 (2763)، سنن ابی داود/ الحدود 32 (4468)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 193 (1398)، ویأتي بعد حدیث (تحفة الأشراف: 9162) (صحیح)»
وضاحت: ۲؎: یہ گناہ صغیرہ کے بارے میں ہے کیونکہ گناہ کبیرہ سے بغیر توبہ کے معافی نہیں ہے، اور اس آدمی سے گناہ صغیرہ ہی سرزد ہوا تھا۔
۳؎: یعنی اسرائیل، ابوالاحوص اور شعبہ کی روایات ثوری کی روایت سے (سنداً) زیادہ صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح، ابن ماجة (1398)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3115
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ، قَالَ: أَتَتْنِي امْرَأَةٌ تَبْتَاعُ تَمْرًا، فَقُلْتُ: إِنَّ فِي الْبَيْتِ تَمْرًا أَطْيَبَ مِنْهُ، فَدَخَلَتْ مَعِي فِي الْبَيْتِ فَأَهْوَيْتُ إِلَيْهَا فَتَقَبَّلْتُهَا، فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: اسْتُرْ عَلَى نَفْسِكَ وَتُبْ وَلَا تُخْبِرْ أَحَدًا، فَلَمْ أَصْبِرْ فَأَتَيْتُ عُمَرَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: اسْتُرْ عَلَى نَفْسِكَ وَتُبْ وَلَا تُخْبِرْ أَحَدًا، فَلَمْ أَصْبِرْ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " أَخَلَفْتَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فِي أَهْلِهِ بِمِثْلِ هَذَا حَتَّى تَمَنَّى أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ إِلَّا تِلْكَ السَّاعَةَ حَتَّى ظَنَّ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، قَالَ: وَأَطْرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا حَتَّى أَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِلَى قَوْلِهِ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114، قَالَ أَبُو الْيَسَرِ: فَأَتَيْتُهُ فَقَرَأَهَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِهَذَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً؟ قَالَ: " بَلْ لِلنَّاسِ عَامَّةً "، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ضَعَّفَهُ وَكِيعٌ وَغَيْرُهُ، وَأَبُو الْيَسَرِ هُوَ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: وَرَوَى شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ هَذَا الْحَدِيثَ مِثْلَ رِوَايَةِ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
ابوالیسر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس کھجور خریدنے آئی، میں نے اس سے کہا: (یہ کھجور جو یہاں موجود ہے جسے تم دیکھ رہی ہو) اس سے اچھی اور عمدہ کھجور گھر میں رکھی ہے۔ چنانچہ وہ بھی میرے ساتھ ساتھ گھر میں آ گئی، میں اس کی طرف مائل ہو گیا اور اس کو چوم لیا، تب ابوبکر رضی الله عنہ کے پاس آ کر ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا: اپنے نفس (کی اس غلطی) پر پردہ ڈال دو، توبہ کرو دوسرے کسی اور سے اس واقعہ کا ذکر نہ کرو، لیکن مجھ سے صبر نہ ہو سکا چنانچہ میں عمر رضی الله عنہ کے پاس آیا اور ان سے بھی اس (واقعہ) کا ذکر کیا، انہوں نے بھی کہا: اپنے نفس کی پردہ پوشی کرو، توبہ کرو اور کسی دوسرے کو یہ واقعہ نہ بتاؤ۔ (مگر میرا جی نہ مانا) میں اس بات پر قائم نہ رہا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو بھی یہ بات بتا دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے ایک غازی کی بیوی کے ساتھ جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلا ہے اس کی غیر موجودگی میں ایسی حرکت کی ہے؟ آپ کی اتنی بات کہنے سے مجھے اتنی غیرت آئی کہ میں نے تمنا کی کہ کاش میں اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہوتا بلکہ اب لاتا اسے خیال ہوا کہ وہ تو جہنم والوں میں سے ہو گیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سوچ میں) کافی دیر تک سر جھکائے رہے یہاں تک کہ آپ پر بذریعہ وحی آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل» سے «ذكرى للذاكرين» تک نازل ہوئی۔ ابوالیسر رضی الله عنہ کہتے ہیں: (جب) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ صحابہ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ (بشارت) ان کے لیے خاص ہے یا سبھی لوگوں کے لیے عام ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ سبھی لوگوں کے لیے عام ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
۲- قیس بن ربیع کو وکیع وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور ابوالیسر کعب بن عمرو رضی الله عنہ ہیں،
۳- شریک نے عثمان بن عبداللہ سے یہ حدیث قیس بن ربیع کی روایت کی طرح روایت کی ہے،
۴- اس باب میں ابوامامہ اور واثلہ بن اسقع اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 3115]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: 11125) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: پچھلی روایات میں مبہم آدمی یہی ابوالیسر رضی الله عنہ ہوں گے۔
قال الشيخ الألباني: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں