🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 2629 کی تخریج
تخریج میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
کتاب
تخریج
سنن النسائى الصغرى
4807
جعل النبي ديته اثني عشر ألفا وذكر قوله إلا أن أغناهم الله ورسوله من فضله في أخذهم الدية
«سنن ابی داود/الدیات 18 (4546)، سنن الترمذی/الدیات 2 (1388، 1389)، سنن ابن ماجہ/الدیات 6 (2629)، (تحفة الأشراف: 6165) (ضعیف) (اس روایت کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے جیسا کہ امام ابوداود نے صراحت کی ہے، اس کو عمرو بن دینار سے سفیان بن عیینہ (جو محمد بن مسلم طائفی کے بالمقابل اوثق ہیں) نے بھی روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے ابن عباس رضی الله عنہما کا ذکر نہیں کیا ہے)»
قال الشيخ زبير علي زئي:
إسناده حسن
سنن النسائى الصغرى
4808
قضى باثني عشر ألفا
«انظرما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ زبير علي زئي:
حسن
جامع الترمذي
1388
الدية اثني عشر ألفا
«سنن ابی داود/ الدیات 18 (4546) ، سنن النسائی/القسامة 35 (4807، 4808) ، سنن ابن ماجہ/الدیات 6 (2629) ، ( تحفة الأشراف : 6165) وسنن الدارمی/الدیات 11 (ضعیف) (اس روایت کا مرسل ہو نا ہی صحیح ہے، جیسا کہ امام ابوداود اور مولف نے صراحت کی ہے، اس کو ’’ عمروبن دینار ‘‘ سے سفیان بن عینیہ نے جو کہ محمد بن مسلم طائفی کے بالمقابل زیادہ ثقہ ہیں) نے بھی روایت کیا ہے لیکن انہوں نے ابن عباس رضی الله عنہما کا تذکرہ نہیں کیا ہے دیکھئے: الإرواء رقم 2245)»
سنن ابن ماجه
2632
جعل الدية اثني عشر ألفا قال وذلك قوله وما نقموا إلا أن أغناهم الله ورسوله من فضله
«أنظر رقم : ( 2629 ) ( ضعیف )»
قال الشيخ زبير علي زئي:
إسناده حسن
سنن ابن ماجه
2629
جعل الدية اثني عشر ألفا
«سنن ابی داود/الدیات 18 ( 4546 ) ، سنن النسائی/القسامة 29 ( 4807 ) ، سنن الترمذی/الدیات 2 ( 1388 ، 1389 ) ، ( تحفة الأشراف : 6165 ) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الدیات 11 ( 4808 ) ( ضعیف ) » ( اس سند میں اضطراب ہے ، ملاحظہ ہو : الإرواء : 2245 )
قال الشيخ زبير علي زئي:
إسناده حسن