🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة هود
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
51
يا قوم لا أسألكم عليه أجرا إن أجري إلا على الذي فطرني أفلا تعقلون
اے میری قوم! میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا، میری مزدوری اس کے سوا کسی پر نہیں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ تو کیا تم نہیں سمجھتے؟
ابن کثیر ↑
52
ويا قوم استغفروا ربكم ثم توبوا إليه يرسل السماء عليكم مدرارا ويزدكم قوة إلى قوتكم ولا تتولوا مجرمين
اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آئو، وہ تم پر بادل بھیجے گا، جو خوب برسنے والا ہوگا اور تمھیں تمھاری قوت کے ساتھ اور قوت زیادہ دے گا اور مجرم بنتے ہوئے منہ نہ موڑو۔
ابن کثیر ↑
53
قالوا يا هود ما جئتنا ببينة وما نحن بتاركي آلهتنا عن قولك وما نحن لك بمؤمنين
انھوں نے کہا اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا اور ہم اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سے ہرگز چھوڑنے والے نہیں اور نہ کسی طرح تجھ پر ایمان لانے والے ہیں۔
54
إن نقول إلا اعتراك بعض آلهتنا بسوء قال إني أشهد الله واشهدوا أني بريء مما تشركون
ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تجھے کوئی آفت پہنچا دی ہے۔ اس نے کہا میں تو اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں اس سے بری ہوں جو تم شریک بناتے ہو۔
ابن کثیر ↑
55
من دونه فكيدوني جميعا ثم لا تنظرون
اس کے سوا۔ سو تم سب میرے خلاف تدبیر کر لو، پھر مجھے مہلت نہ دو۔
ابن کثیر ↑
56
إني توكلت على الله ربي وربكم ما من دابة إلا هو آخذ بناصيتها إن ربي على صراط مستقيم
بے شک میں نے اللہ پر بھروسا کیا، جو میرا رب ہے اور تمھارا رب ہے۔ کوئی چلنے والا (جاندار) نہیں مگر وہ اس کی پیشانی کے بالوں کو پکڑے ہوئے ہے۔ بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے۔
ابن کثیر ↑
57
فإن تولوا فقد أبلغتكم ما أرسلت به إليكم ويستخلف ربي قوما غيركم ولا تضرونه شيئا إن ربي على كل شيء حفيظ
پھر اگر تم پھر جائو تو بلاشبہ میںتمھیں وہ پیغام پہنچا چکا جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے۔ اور میرا رب تمھارے سوا کسی اور قوم کو تمھاری جگہ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نقصان نہ کرو گے۔ بے شک میرا رب ہر چیز پر اچھی طرح نگہبان ہے۔
58
ولما جاء أمرنا نجينا هودا والذين آمنوا معه برحمة منا ونجيناهم من عذاب غليظ
اور جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ہمراہ ایمان لائے تھے، اپنی طرف سے عظیم رحمت کے ساتھ نجات دی اور انھیں ایک بہت سخت عذاب سے بچالیا۔
ابن کثیر ↑
59
وتلك عاد جحدوا بآيات ربهم وعصوا رسله واتبعوا أمر كل جبار عنيد
اور یہ عاد تھے جنھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر زبردست جابر، سخت عناد والے کے حکم کی پیروی کی۔
ابن کثیر ↑
60
وأتبعوا في هذه الدنيا لعنة ويوم القيامة ألا إن عادا كفروا ربهم ألا بعدا لعاد قوم هود
اور ان کے پیچھے اس دنیا میں لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ سن لو! بے شک عاد نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سن لو! عاد کے لیے ہلاکت ہے، جو ہود کی قوم تھی۔
ابن کثیر ↑
61
وإلى ثمود أخاهم صالحا قال يا قوم اعبدوا الله ما لكم من إله غيره هو أنشأكم من الأرض واستعمركم فيها فاستغفروه ثم توبوا إليه إن ربي قريب مجيب
اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا)، اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، اسی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا اور تمھیں اس میں آباد کیا، سو اس سے بخشش مانگو ، پھر اس کی طرف پلٹ آئو، یقینا میرا رب قریب ہے، قبول کرنے والا ہے۔
62
قالوا يا صالح قد كنت فينا مرجوا قبل هذا أتنهانا أن نعبد ما يعبد آباؤنا وإننا لفي شك مما تدعونا إليه مريب
انھوں نے کہا اے صالح! یقینا تو ہم میں وہ تھا جس پر اس سے پہلے امیدیں رکھی گئی تھیں، کیا تو ہمیں منع کرتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے ہیں اور بے شک ہم اس بات کے بارے میں جس کی طرف تو ہمیں دعوت دیتا ہے، یقینا ایک بے چین رکھنے والے شک میں ہیں۔
63
قال يا قوم أرأيتم إن كنت على بينة من ربي وآتاني منه رحمة فمن ينصرني من الله إن عصيته فما تزيدونني غير تخسير
اس نے کہا اے میری قوم! کیا تم نے دیکھا اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنی جناب سے عظیم رحمت عطا کی ہو تو کون ہے جو اللہ کے مقابلے میں میری مدد کرے گا، اگر میں اس کی نافرمانی کروں، پھر خسارہ پہنچانے کے سوا تم مجھے کیا زیادہ دو گے؟
ابن کثیر ↑
64
ويا قوم هذه ناقة الله لكم آية فذروها تأكل في أرض الله ولا تمسوها بسوء فيأخذكم عذاب قريب
اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے، تمھارے لیے عظیم نشانی، پس اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچائو، ورنہ تمھیں ایک قریب عذاب پکڑ لے گا۔
65
فعقروها فقال تمتعوا في داركم ثلاثة أيام ذلك وعد غير مكذوب
تو انھوں نے اس کی ٹانگیں کاٹ دیں، تو اس نے کہا اپنے گھروں میں تین دن خوب فائدہ اٹھالو، یہ وعدہ ہے جس میں کوئی جھوٹ نہیں بولا گیا۔
ابن کثیر ↑
66
فلما جاء أمرنا نجينا صالحا والذين آمنوا معه برحمة منا ومن خزي يومئذ إن ربك هو القوي العزيز
پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، اپنی طرف سے عظیم رحمت کے ساتھ بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی۔ بے شک تیرا رب ہی بے حد قوت والا، سب پر غالب ہے۔
ابن کثیر ↑
67
وأخذ الذين ظلموا الصيحة فأصبحوا في ديارهم جاثمين
اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھاانھیں چیخ نے پکڑ لیا، تو انھوں نے اپنے گھروں میں اس حال میں صبح کی کہ گرے پڑے تھے۔
ابن کثیر ↑
68
كأن لم يغنوا فيها ألا إن ثمود كفروا ربهم ألا بعدا لثمود
جیسے وہ ان میں رہے ہی نہ تھے۔ سن لو! بے شک ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سن لو! ثمود کے لیے ہلاکت ہے۔
ابن کثیر ↑
69
ولقد جاءت رسلنا إبراهيم بالبشرى قالوا سلاما قال سلام فما لبث أن جاء بعجل حنيذ
اور بلاشبہ یقینا ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوش خبری لے کر آئے، انھوں نے سلام کہا، اس نے کہا سلام ہو، پھر دیر نہیں کی کہ ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آیا۔
70
فلما رأى أيديهم لا تصل إليه نكرهم وأوجس منهم خيفة قالوا لا تخف إنا أرسلنا إلى قوم لوط
تو جب ان کے ہاتھوں کو دیکھا کہ اس کی طرف نہیں پہنچتے تو انھیں اوپرا جانا اور ان سے ایک قسم کا خوف محسوس کیا، انھوں نے کہا نہ ڈر! بے شک ہم لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔
ابن کثیر ↑
71
وامرأته قائمة فضحكت فبشرناها بإسحاق ومن وراء إسحاق يعقوب
اور اس کی بیوی کھڑی تھی، سو ہنس پڑی تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی۔
ابن کثیر ↑
72
قالت يا ويلتى أألد وأنا عجوز وهذا بعلي شيخا إن هذا لشيء عجيب
اس نے کہا ہائے میری بربادی! کیا میں جنوں گی، جب کہ میں بوڑھی ہوں اور یہ میرا خاوند ہے بوڑھا، یقینا یہ تو ایک عجیب چیز ہے.
ابن کثیر ↑
73
قالوا أتعجبين من أمر الله رحمت الله وبركاته عليكم أهل البيت إنه حميد مجيد
انھوں نے کہا کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو! بے شک وہ بے حد تعریف کیا گیا، بڑی شان والا ہے۔
ابن کثیر ↑
74
فلما ذهب عن إبراهيم الروع وجاءته البشرى يجادلنا في قوم لوط
پھر جب ابراہیم سے گھبراہٹ دور ہوئی اور اس کے پاس خوش خبری آگئی تو وہ ہم سے لوط کی قوم کے بارے میں جھگڑنے لگا۔
75
إن إبراهيم لحليم أواه منيب
بے شک ابراہیم تو نہایت بردبار، بہت آہ و زاری کرنے والا، رجوع کرنے والا ہے۔
ابن کثیر ↑
76
يا إبراهيم أعرض عن هذا إنه قد جاء أمر ربك وإنهم آتيهم عذاب غير مردود
اے ابراہیم! اسے رہنے دے، بے شک حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کا حکم آچکا اور یقینا یہ لوگ! ان پر وہ عذاب آنے والا ہے جو ہٹایا جانے والا نہیں۔
ابن کثیر ↑
77
ولما جاءت رسلنا لوطا سيء بهم وضاق بهم ذرعا وقال هذا يوم عصيب
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس آئے، وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا اور ان سے دل تنگ ہوا اور اس نے کہا یہ بہت سخت دن ہے۔
78
وجاءه قومه يهرعون إليه ومن قبل كانوا يعملون السيئات قال يا قوم هؤلاء بناتي هن أطهر لكم فاتقوا الله ولا تخزون في ضيفي أليس منكم رجل رشيد
اور اس کی قوم (کے لوگ) اس کی طرف بے اختیار دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے اور وہ پہلے سے برے کام کیا کرتے تھے۔ اس نے کہا اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں ہیں، یہ تمھارے لیے بہت پاکیزہ ہیں، تو اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو، کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں؟
ابن کثیر ↑
79
قالوا لقد علمت ما لنا في بناتك من حق وإنك لتعلم ما نريد
انھوں نے کہا بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں اور بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے ہم کیا چاہتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
80
قال لو أن لي بكم قوة أو آوي إلى ركن شديد
اس نے کہا کاش! میرے پاس تمھارے مقابلہ کی کچھ طاقت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔
81
قالوا يا لوط إنا رسل ربك لن يصلوا إليك فأسر بأهلك بقطع من الليل ولا يلتفت منكم أحد إلا امرأتك إنه مصيبها ما أصابهم إن موعدهم الصبح أليس الصبح بقريب
انھوں نے کہا اے لوط! بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، یہ ہرگز تجھ تک نہیں پہنچ پائیں گے، سو اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے کر چل نکل اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے مگر تیری بیوی۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ اس پر وہی مصیبت آنے والی ہے جو ان پر آئے گی۔ بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا صبح واقعی قریب نہیں۔
ابن کثیر ↑
82
فلما جاء أمرنا جعلنا عاليها سافلها وأمطرنا عليها حجارة من سجيل منضود
پھر جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے اس کے اوپر والے حصے کو اس کا نیچا کر دیا اور ان پر تہ بہ تہ کھنگر کے پتھر برسائے۔
83
مسومة عند ربك وما هي من الظالمين ببعيد
جو تیرے رب کے ہاں سے نشان لگائے ہوئے تھے اور وہ ان ظالموں سے ہرگز کچھ دور نہیں۔
ابن کثیر ↑
84
وإلى مدين أخاهم شعيبا قال يا قوم اعبدوا الله ما لكم من إله غيره ولا تنقصوا المكيال والميزان إني أراكم بخير وإني أخاف عليكم عذاب يوم محيط
اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا)۔ اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں اور ماپ اور تول کم نہ کرو، بے شک میں تمھیں اچھی حالت میں دیکھتا ہوں اور بے شک میں تم پر ایک گھیر لینے والے دن کے عذاب سے ڈرتاہوں۔
85
ويا قوم أوفوا المكيال والميزان بالقسط ولا تبخسوا الناس أشياءهم ولا تعثوا في الأرض مفسدين
اور اے میری قوم! ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد کر تے ہوئے دنگا نہ مچاؤ۔
86
بقيت الله خير لكم إن كنتم مؤمنين وما أنا عليكم بحفيظ
اللہ کا باقی بچا ہوا تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم مومن ہو اور میں ہرگز تم پر کوئی نگہبان نہیں ہوں۔
ابن کثیر ↑
87
قالوا يا شعيب أصلاتك تأمرك أن نترك ما يعبد آباؤنا أو أن نفعل في أموالنا ما نشاء إنك لأنت الحليم الرشيد
انھوں نے کہا اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم انھیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے، یا یہ کہ ہم اپنے مالوں میں کریں جو چاہیں، یقینا تو توُ نہایت بردبار، بڑا سمجھ دار ہے۔
88
قال يا قوم أرأيتم إن كنت على بينة من ربي ورزقني منه رزقا حسنا وما أريد أن أخالفكم إلى ما أنهاكم عنه إن أريد إلا الإصلاح ما استطعت وما توفيقي إلا بالله عليه توكلت وإليه أنيب
اس نے کہا اے میری قوم!کیا تم نے دیکھا اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے اچھا رزق عطا کیا ہو۔ اور میں نہیں چاہتا کہ تمھاری بجائے میں (خود) اس کا ارتکاب کروں جس سے تمھیں منع کرتا ہوں، میں تو اصلاح کے سوا کچھ نہیں چاہتا، جتنی کرسکوں اور میری توفیق اللہ کے سوا کسی سے نہیں، میں نے اسی پر بھروسا کیا اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
89
ويا قوم لا يجرمنكم شقاقي أن يصيبكم مثل ما أصاب قوم نوح أو قوم هود أو قوم صالح وما قوم لوط منكم ببعيد
اور اے میری قوم! میری مخالفت تمھیں اس کا مستحق ہرگز نہ بنادے کہ تمھیں اس جیسی مصیبت آپہنچے جو نوح کی قوم، یا ہود کی قوم، یا صالح کی قوم کو پہنچی اور لوط کی قوم (بھی) ہرگز تم سے کچھ دور نہیں ہے۔
90
واستغفروا ربكم ثم توبوا إليه إن ربي رحيم ودود
اور اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آئو، بے شک میرا رب نہایت رحم والا، بہت محبت والا ہے۔
ابن کثیر ↑
91
قالوا يا شعيب ما نفقه كثيرا مما تقول وإنا لنراك فينا ضعيفا ولولا رهطك لرجمناك وما أنت علينا بعزيز
انھوں نے کہا اے شعیب! ہم اس میں سے بہت سی باتیں نہیں سمجھتے جو تو کہتا ہے اور بے شک ہم تو تجھے اپنے درمیان بہت کمزور دیکھتے ہیں اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم ضرور تجھے سنگسار کر دیتے اور تو ہم پر ہرگز کسی طرح غالب نہیں۔
92
قال يا قوم أرهطي أعز عليكم من الله واتخذتموه وراءكم ظهريا إن ربي بما تعملون محيط
اس نے کہا اے میری قوم! کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ غالب ہے اور اسے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے پھینکا ہوا بنا رکھا ہے، بے شک میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو، اس کا احاطہ کرنے والا ہے۔
ابن کثیر ↑
93
ويا قوم اعملوا على مكانتكم إني عامل سوف تعلمون من يأتيه عذاب يخزيه ومن هو كاذب وارتقبوا إني معكم رقيب
اور اے میری قوم! تم اپنی جگہ عمل کرو، بے شک میں (بھی) عمل کرنے والا ہوں۔ تم جلد ہی جان لوگے کہ کون ہے جس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا اور کون ہے جو جھوٹا ہے، اور انتظار کرو، بے شک میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں۔
94
ولما جاء أمرنا نجينا شعيبا والذين آمنوا معه برحمة منا وأخذت الذين ظلموا الصيحة فأصبحوا في ديارهم جاثمين
اور جب ہمارا حکم آیا ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ہمراہ ایمان لائے تھے، اپنی خاص رحمت سے بچا لیا اور ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا، چیخ نے پکڑ لیا، تو انھوں نے اپنے گھروں میں اس حال میں صبح کی کہ گرے پڑے تھے۔
ابن کثیر ↑
95
كأن لم يغنوا فيها ألا بعدا لمدين كما بعدت ثمود
جیسے وہ ان میں نہیں رہے تھے۔ سن لو! مدین کے لیے ہلاکت ہے، جیسے ثمود ہلاک ہوئے۔
ابن کثیر ↑
96
ولقد أرسلنا موسى بآياتنا وسلطان مبين
ـ اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور واضح دلیل دے کر بھیجا۔
97
إلى فرعون وملئه فاتبعوا أمر فرعون وما أمر فرعون برشيد
فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ تو انھوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی اور فرعون کا حکم ہرگز کسی طرح درست نہ تھا۔
ابن کثیر ↑
98
يقدم قومه يوم القيامة فأوردهم النار وبئس الورد المورود
وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے ہوگا، پس انھیں پینے کے لیے آگ پر لے آئے گا اور وہ پینے کی بری جگہ ہے، جس پر پینے کے لیے آیا جائے۔
ابن کثیر ↑
99
وأتبعوا في هذه لعنة ويوم القيامة بئس الرفد المرفود
اور ان کے پیچھے اس (دنیا) میں لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ برا عطیہ ہے جو کسی کو دیا جائے۔
ابن کثیر ↑
100
ذلك من أنباء القرى نقصه عليك منها قائم وحصيد
یہ ان بستیوں کی چند خبریں ہیں جو ہم تجھے بیان کرتے ہیں، ان میں سے کچھ کھڑی ہیں اور کچھ کٹ چکی ہیں۔