قرآن مجيد
سورة هود
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
51 |
اے میری قوم! میں تم سے اس پر کسی مزدوری کا سوال نہیں کرتا، میری مزدوری اس کے سوا کسی پر نہیں جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ تو کیا تم نہیں سمجھتے؟
|
ابن کثیر ↑
|
52 |
اور اے میری قوم! اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آئو، وہ تم پر بادل بھیجے گا، جو خوب برسنے والا ہوگا اور تمھیں تمھاری قوت کے ساتھ اور قوت زیادہ دے گا اور مجرم بنتے ہوئے منہ نہ موڑو۔
|
ابن کثیر ↑
|
53 |
انھوں نے کہا اے ہود! تو ہمارے پاس کوئی واضح دلیل لے کر نہیں آیا اور ہم اپنے معبودوں کو تیرے کہنے سے ہرگز چھوڑنے والے نہیں اور نہ کسی طرح تجھ پر ایمان لانے والے ہیں۔
|
|
54 |
ہم اس کے سوا کچھ نہیں کہتے کہ ہمارے معبودوں میں سے کسی نے تجھے کوئی آفت پہنچا دی ہے۔ اس نے کہا میں تو اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں اس سے بری ہوں جو تم شریک بناتے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
55 |
اس کے سوا۔ سو تم سب میرے خلاف تدبیر کر لو، پھر مجھے مہلت نہ دو۔
|
ابن کثیر ↑
|
56 |
بے شک میں نے اللہ پر بھروسا کیا، جو میرا رب ہے اور تمھارا رب ہے۔ کوئی چلنے والا (جاندار) نہیں مگر وہ اس کی پیشانی کے بالوں کو پکڑے ہوئے ہے۔ بے شک میرا رب سیدھے راستے پر ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
57 |
پھر اگر تم پھر جائو تو بلاشبہ میںتمھیں وہ پیغام پہنچا چکا جسے دے کر مجھے تمھاری طرف بھیجا گیا ہے۔ اور میرا رب تمھارے سوا کسی اور قوم کو تمھاری جگہ لے آئے گا اور تم اس کا کچھ نقصان نہ کرو گے۔ بے شک میرا رب ہر چیز پر اچھی طرح نگہبان ہے۔
|
|
58 |
اور جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے ہود کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ہمراہ ایمان لائے تھے، اپنی طرف سے عظیم رحمت کے ساتھ نجات دی اور انھیں ایک بہت سخت عذاب سے بچالیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
59 |
اور یہ عاد تھے جنھوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر زبردست جابر، سخت عناد والے کے حکم کی پیروی کی۔
|
ابن کثیر ↑
|
60 |
اور ان کے پیچھے اس دنیا میں لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ سن لو! بے شک عاد نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سن لو! عاد کے لیے ہلاکت ہے، جو ہود کی قوم تھی۔
|
ابن کثیر ↑
|
61 |
اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا)، اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، اسی نے تمھیں زمین سے پیدا کیا اور تمھیں اس میں آباد کیا، سو اس سے بخشش مانگو ، پھر اس کی طرف پلٹ آئو، یقینا میرا رب قریب ہے، قبول کرنے والا ہے۔
|
|
62 |
انھوں نے کہا اے صالح! یقینا تو ہم میں وہ تھا جس پر اس سے پہلے امیدیں رکھی گئی تھیں، کیا تو ہمیں منع کرتا ہے کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے ہیں اور بے شک ہم اس بات کے بارے میں جس کی طرف تو ہمیں دعوت دیتا ہے، یقینا ایک بے چین رکھنے والے شک میں ہیں۔
|
|
63 |
اس نے کہا اے میری قوم! کیا تم نے دیکھا اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنی جناب سے عظیم رحمت عطا کی ہو تو کون ہے جو اللہ کے مقابلے میں میری مدد کرے گا، اگر میں اس کی نافرمانی کروں، پھر خسارہ پہنچانے کے سوا تم مجھے کیا زیادہ دو گے؟
|
ابن کثیر ↑
|
64 |
اور اے میری قوم! یہ اللہ کی اونٹنی ہے، تمھارے لیے عظیم نشانی، پس اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچائو، ورنہ تمھیں ایک قریب عذاب پکڑ لے گا۔
|
|
65 |
تو انھوں نے اس کی ٹانگیں کاٹ دیں، تو اس نے کہا اپنے گھروں میں تین دن خوب فائدہ اٹھالو، یہ وعدہ ہے جس میں کوئی جھوٹ نہیں بولا گیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
66 |
پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے صالح کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے، اپنی طرف سے عظیم رحمت کے ساتھ بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی۔ بے شک تیرا رب ہی بے حد قوت والا، سب پر غالب ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
67 |
اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھاانھیں چیخ نے پکڑ لیا، تو انھوں نے اپنے گھروں میں اس حال میں صبح کی کہ گرے پڑے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
68 |
جیسے وہ ان میں رہے ہی نہ تھے۔ سن لو! بے شک ثمود نے اپنے رب سے کفر کیا۔ سن لو! ثمود کے لیے ہلاکت ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
69 |
اور بلاشبہ یقینا ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوش خبری لے کر آئے، انھوں نے سلام کہا، اس نے کہا سلام ہو، پھر دیر نہیں کی کہ ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آیا۔
|
|
70 |
تو جب ان کے ہاتھوں کو دیکھا کہ اس کی طرف نہیں پہنچتے تو انھیں اوپرا جانا اور ان سے ایک قسم کا خوف محسوس کیا، انھوں نے کہا نہ ڈر! بے شک ہم لوط کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
71 |
اور اس کی بیوی کھڑی تھی، سو ہنس پڑی تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوش خبری دی۔
|
ابن کثیر ↑
|
72 |
اس نے کہا ہائے میری بربادی! کیا میں جنوں گی، جب کہ میں بوڑھی ہوں اور یہ میرا خاوند ہے بوڑھا، یقینا یہ تو ایک عجیب چیز ہے.
|
ابن کثیر ↑
|
73 |
انھوں نے کہا کیا تو اللہ کے حکم سے تعجب کرتی ہے؟ اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے گھر والو! بے شک وہ بے حد تعریف کیا گیا، بڑی شان والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
74 |
پھر جب ابراہیم سے گھبراہٹ دور ہوئی اور اس کے پاس خوش خبری آگئی تو وہ ہم سے لوط کی قوم کے بارے میں جھگڑنے لگا۔
|
|
75 |
بے شک ابراہیم تو نہایت بردبار، بہت آہ و زاری کرنے والا، رجوع کرنے والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
76 |
اے ابراہیم! اسے رہنے دے، بے شک حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کا حکم آچکا اور یقینا یہ لوگ! ان پر وہ عذاب آنے والا ہے جو ہٹایا جانے والا نہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
77 |
اور جب ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس آئے، وہ ان کی وجہ سے مغموم ہوا اور ان سے دل تنگ ہوا اور اس نے کہا یہ بہت سخت دن ہے۔
|
|
78 |
اور اس کی قوم (کے لوگ) اس کی طرف بے اختیار دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے اور وہ پہلے سے برے کام کیا کرتے تھے۔ اس نے کہا اے میری قوم! یہ میری بیٹیاں ہیں، یہ تمھارے لیے بہت پاکیزہ ہیں، تو اللہ سے ڈرو اور میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو، کیا تم میں ایک بھی بھلا آدمی نہیں؟
|
ابن کثیر ↑
|
79 |
انھوں نے کہا بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حق نہیں اور بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے ہم کیا چاہتے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
80 |
اس نے کہا کاش! میرے پاس تمھارے مقابلہ کی کچھ طاقت ہوتی، یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔
|
|
81 |
انھوں نے کہا اے لوط! بے شک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں، یہ ہرگز تجھ تک نہیں پہنچ پائیں گے، سو اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے کر چل نکل اور تم میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے مگر تیری بیوی۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ اس پر وہی مصیبت آنے والی ہے جو ان پر آئے گی۔ بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا صبح واقعی قریب نہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
82 |
پھر جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے اس کے اوپر والے حصے کو اس کا نیچا کر دیا اور ان پر تہ بہ تہ کھنگر کے پتھر برسائے۔
|
|
83 |
جو تیرے رب کے ہاں سے نشان لگائے ہوئے تھے اور وہ ان ظالموں سے ہرگز کچھ دور نہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
84 |
اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا)۔ اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں اور ماپ اور تول کم نہ کرو، بے شک میں تمھیں اچھی حالت میں دیکھتا ہوں اور بے شک میں تم پر ایک گھیر لینے والے دن کے عذاب سے ڈرتاہوں۔
|
|
85 |
اور اے میری قوم! ماپ اور تول انصاف کے ساتھ پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں فساد کر تے ہوئے دنگا نہ مچاؤ۔
|
|
86 |
اللہ کا باقی بچا ہوا تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم مومن ہو اور میں ہرگز تم پر کوئی نگہبان نہیں ہوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
87 |
انھوں نے کہا اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے حکم دیتی ہے کہ ہم انھیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے، یا یہ کہ ہم اپنے مالوں میں کریں جو چاہیں، یقینا تو توُ نہایت بردبار، بڑا سمجھ دار ہے۔
|
|
88 |
اس نے کہا اے میری قوم!کیا تم نے دیکھا اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنے ہاں سے اچھا رزق عطا کیا ہو۔ اور میں نہیں چاہتا کہ تمھاری بجائے میں (خود) اس کا ارتکاب کروں جس سے تمھیں منع کرتا ہوں، میں تو اصلاح کے سوا کچھ نہیں چاہتا، جتنی کرسکوں اور میری توفیق اللہ کے سوا کسی سے نہیں، میں نے اسی پر بھروسا کیا اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
|
|
89 |
اور اے میری قوم! میری مخالفت تمھیں اس کا مستحق ہرگز نہ بنادے کہ تمھیں اس جیسی مصیبت آپہنچے جو نوح کی قوم، یا ہود کی قوم، یا صالح کی قوم کو پہنچی اور لوط کی قوم (بھی) ہرگز تم سے کچھ دور نہیں ہے۔
|
|
90 |
اور اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اس کی طرف پلٹ آئو، بے شک میرا رب نہایت رحم والا، بہت محبت والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
91 |
انھوں نے کہا اے شعیب! ہم اس میں سے بہت سی باتیں نہیں سمجھتے جو تو کہتا ہے اور بے شک ہم تو تجھے اپنے درمیان بہت کمزور دیکھتے ہیں اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم ضرور تجھے سنگسار کر دیتے اور تو ہم پر ہرگز کسی طرح غالب نہیں۔
|
|
92 |
اس نے کہا اے میری قوم! کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ غالب ہے اور اسے تم نے اپنی پیٹھ پیچھے پھینکا ہوا بنا رکھا ہے، بے شک میرا رب جو کچھ تم کر رہے ہو، اس کا احاطہ کرنے والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
93 |
اور اے میری قوم! تم اپنی جگہ عمل کرو، بے شک میں (بھی) عمل کرنے والا ہوں۔ تم جلد ہی جان لوگے کہ کون ہے جس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کرے گا اور کون ہے جو جھوٹا ہے، اور انتظار کرو، بے شک میں (بھی) تمھارے ساتھ انتظار کرنے والا ہوں۔
|
|
94 |
اور جب ہمارا حکم آیا ہم نے شعیب کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ہمراہ ایمان لائے تھے، اپنی خاص رحمت سے بچا لیا اور ان لوگوں کو جنھوں نے ظلم کیا تھا، چیخ نے پکڑ لیا، تو انھوں نے اپنے گھروں میں اس حال میں صبح کی کہ گرے پڑے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
95 |
جیسے وہ ان میں نہیں رہے تھے۔ سن لو! مدین کے لیے ہلاکت ہے، جیسے ثمود ہلاک ہوئے۔
|
ابن کثیر ↑
|
96 |
ـ اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور واضح دلیل دے کر بھیجا۔
|
|
97 |
فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف۔ تو انھوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی اور فرعون کا حکم ہرگز کسی طرح درست نہ تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
98 |
وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے ہوگا، پس انھیں پینے کے لیے آگ پر لے آئے گا اور وہ پینے کی بری جگہ ہے، جس پر پینے کے لیے آیا جائے۔
|
ابن کثیر ↑
|
99 |
اور ان کے پیچھے اس (دنیا) میں لعنت لگا دی گئی اور قیامت کے دن بھی۔ برا عطیہ ہے جو کسی کو دیا جائے۔
|
ابن کثیر ↑
|
100 |
یہ ان بستیوں کی چند خبریں ہیں جو ہم تجھے بیان کرتے ہیں، ان میں سے کچھ کھڑی ہیں اور کچھ کٹ چکی ہیں۔
|