🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة الإسراء/بني اسرائيل
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
51
أو خلقا مما يكبر في صدوركم فسيقولون من يعيدنا قل الذي فطركم أول مرة فسينغضون إليك رءوسهم ويقولون متى هو قل عسى أن يكون قريبا
یا کوئی ایسی مخلوق جو تمھارے سینوں میں بڑی (معلوم) ہو۔ تو عنقریب وہ کہیں گے کون ہمیں دوبارہ پیدا کرے گا؟ کہہ دے وہی جس نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا، تو ضرور وہ تیری طرف اپنے سر تعجب سے ہلائیں گے اور کہیں گے یہ کب ہوگا؟ کہہ امید ہے کہ وہ قریب ہو۔
ابن کثیر ↑
52
يوم يدعوكم فتستجيبون بحمده وتظنون إن لبثتم إلا قليلا
جس دن وہ تمھیں بلائے گا تو تم اس کی تعریف کرتے ہوئے چلے آؤ گے اور سمجھو گے کہ تم نہیں رہے مگر تھوڑا۔
ابن کثیر ↑
53
وقل لعبادي يقولوا التي هي أحسن إن الشيطان ينزغ بينهم إن الشيطان كان للإنسان عدوا مبينا
اور میرے بندوں سے کہہ دے وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو، بے شک شیطان ان کے درمیان جھگڑا ڈالتا ہے۔ بے شک شیطان ہمیشہ سے انسان کا کھلا دشمن ہے۔
54
ربكم أعلم بكم إن يشأ يرحمكم أو إن يشأ يعذبكم وما أرسلناك عليهم وكيلا
تمھارا رب تمھیں زیادہ جاننے والا ہے، اگر وہ چاہے تو تم پر رحم کرے، یا اگر چاہے تو تمھیں عذاب دے اور ہم نے تجھے ان پر کوئی ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔
55
وربك أعلم بمن في السماوات والأرض ولقد فضلنا بعض النبيين على بعض وآتينا داوود زبورا
اور تیرا رب ان کو زیادہ جاننے والا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور بلاشبہ یقینا ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت بخشی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔
ابن کثیر ↑
56
قل ادعوا الذين زعمتم من دونه فلا يملكون كشف الضر عنكم ولا تحويلا
کہہ پکارو ان کو جنھیں تم نے اس کے سوا گمان کر رکھا ہے، پس وہ نہ تم سے تکلیف دور کرنے کے مالک ہیں اور نہ بدلنے کے۔
57
أولئك الذين يدعون يبتغون إلى ربهم الوسيلة أيهم أقرب ويرجون رحمته ويخافون عذابه إن عذاب ربك كان محذورا
وہ لوگ جنھیں یہ پکارتے ہیں، وہ (خود) اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں، جوان میں سے زیادہ قریب ہیں اور اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بے شک تیرے رب کا عذاب وہ ہے جس سے ہمیشہ ڈرا جاتا ہے۔
ابن کثیر ↑
58
وإن من قرية إلا نحن مهلكوها قبل يوم القيامة أو معذبوها عذابا شديدا كان ذلك في الكتاب مسطورا
اور کوئی بھی بستی نہیں مگر ہم قیامت کے دن سے پہلے اسے ہلاک کرنے والے ہیں، یا اسے عذاب دینے والے ہیں، بہت سخت عذاب۔ یہ (بات) ہمیشہ سے کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔
59
وما منعنا أن نرسل بالآيات إلا أن كذب بها الأولون وآتينا ثمود الناقة مبصرة فظلموا بها وما نرسل بالآيات إلا تخويفا
اور ہمیں کسی چیز نے نہیں روکا کہ ہم نشانیاں دے کر بھیجیں مگر اس بات نے کہ پہلے لوگوں نے انھیں جھٹلا دیا اور ہم نے ثمود کو اونٹنی واضح نشانی کے طور پر دی تو انھوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم نشانیاں دے کر نہیں بھیجتے مگر ڈرانے کے لیے۔
60
وإذ قلنا لك إن ربك أحاط بالناس وما جعلنا الرؤيا التي أريناك إلا فتنة للناس والشجرة الملعونة في القرآن ونخوفهم فما يزيدهم إلا طغيانا كبيرا
اور جب ہم نے تجھ سے کہا کہ بے شک تیرے رب نے لوگوں کا احاطہ کر رکھا ہے اور ہم نے وہ منظر جو تجھے دکھایا، نہیں بنایا مگر لوگوں کے لیے آزمائش اور وہ درخت بھی جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے۔ اور ہم انھیں ڈراتے ہیں تو یہ انھیں بہت بڑی سرکشی کے سوا زیادہ نہیں کرتا۔
61
وإذ قلنا للملائكة اسجدوا لآدم فسجدوا إلا إبليس قال أأسجد لمن خلقت طينا
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، اس نے کہا کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تونے مٹی سے پیدا کیا۔
62
قال أرأيتك هذا الذي كرمت علي لئن أخرتن إلى يوم القيامة لأحتنكن ذريته إلا قليلا
اس نے کہا کیا تونے دیکھا، یہ شخص جسے تو نے مجھ پر عزت بخشی، یقینا اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں بہت تھوڑے لوگوں کے سوا اس کی اولاد کو ہر صورت جڑ سے اکھاڑ دوں گا۔
ابن کثیر ↑
63
قال اذهب فمن تبعك منهم فإن جهنم جزاؤكم جزاء موفورا
فرمایا جا، پھر ان میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا تو بے شک جہنم تمھاری جزا ہے، پوری جزا۔
64
واستفزز من استطعت منهم بصوتك وأجلب عليهم بخيلك ورجلك وشاركهم في الأموال والأولاد وعدهم وما يعدهم الشيطان إلا غرورا
اور ان میں سے جس کو تو اپنی آواز کے ساتھ بہکا سکے بہکا لے اور اپنے سوار اور اپنے پیادے ان پر چڑھا کر لے آ اور اموال اور اولاد میں ان کا حصہ دار بن اور انھیں وعدے دے اور شیطان دھوکا دینے کے سوا انھیں وعدہ نہیں دیتا۔
ابن کثیر ↑
65
إن عبادي ليس لك عليهم سلطان وكفى بربك وكيلا
بے شک میرے بندے، تیرا ان پر کوئی غلبہ نہیں اور تیرا رب کافی کار ساز ہے۔
ابن کثیر ↑
66
ربكم الذي يزجي لكم الفلك في البحر لتبتغوا من فضله إنه كان بكم رحيما
تمھارا رب وہی ہے جو تمھارے لیے سمندر میں کشتیاں چلاتا ہے، تا کہ تم اس کا کچھ نہ کچھ فضل تلاش کرو۔ یقینا وہ ہمیشہ سے تم پر بے حد مہربان ہے۔
67
وإذا مسكم الضر في البحر ضل من تدعون إلا إياه فلما نجاكم إلى البر أعرضتم وكان الإنسان كفورا
اور جب تمھیں سمندر میں تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے سوا تم جنھیں پکارتے ہو گم ہوجاتے ہیں، پھر جب وہ تمھیں بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہمیشہ سے بہت ناشکرا ہے۔
68
أفأمنتم أن يخسف بكم جانب البر أو يرسل عليكم حاصبا ثم لا تجدوا لكم وكيلا
تو کیا تم بے خوف ہوگئے کہ وہ تمھیں خشکی کے کنارے دھنسا دے، یا تم پر کوئی پتھراؤ کرنے والی آندھی بھیج دے، پھر تم اپنے لیے کوئی کارساز نہ پاؤ۔
69
أم أمنتم أن يعيدكم فيه تارة أخرى فيرسل عليكم قاصفا من الريح فيغرقكم بما كفرتم ثم لا تجدوا لكم علينا به تبيعا
یا تم بے خوف ہوگئے کہ وہ تمھیں دوسری بار اس میں پھر لے جائے، پھر تم پر توڑ دینے والی آندھی بھیج دے، پس تمھیں غرق کردے، اس کی وجہ سے جو تم نے کفر کیا، پھر تم اپنے لیے ہمارے خلاف اس کے بارے میں کوئی پیچھا کرنے والا نہ پاؤ۔
70
ولقد كرمنا بني آدم وحملناهم في البر والبحر ورزقناهم من الطيبات وفضلناهم على كثير ممن خلقنا تفضيلا
اور بلاشبہ یقینا ہم نے آدم کی اولاد کو بہت عزت بخشی اور انھیں خشکی اور سمندر میں سوار کیا اور انھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور ہم نے جو مخلوق پیدا کی اس میں سے بہت سوں پر انھیں فضیلت دی، بڑی فضیلت دینا۔
71
يوم ندعو كل أناس بإمامهم فمن أوتي كتابه بيمينه فأولئك يقرءون كتابهم ولا يظلمون فتيلا
جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے، پھر جسے اس کی کتاب اس کے دائیں ہاتھ میں دی گئی تو یہ لوگ اپنی کتاب پڑھیں گے اور ان پر کھجور کی گٹھلی کے دھاگے برابر (بھی) ظلم نہ ہو گا۔
72
ومن كان في هذه أعمى فهو في الآخرة أعمى وأضل سبيلا
اور جو اس میں اندھا رہا تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہو گا اور راستے سے بہت زیادہ بھٹکا ہوا ہو گا۔
ابن کثیر ↑
73
وإن كادوا ليفتنونك عن الذي أوحينا إليك لتفتري علينا غيره وإذا لاتخذوك خليلا
اور بے شک وہ قریب تھے کہ تجھے اس سے ضرور ہی بہکا دیں جو ہم نے تیری طرف وحی کی، تاکہ تو ہم پر اس کے سوا جھوٹ باندھ دے اور اس وقت وہ ضرور تجھے دلی دوست بنا لیتے۔
74
ولولا أن ثبتناك لقد كدت تركن إليهم شيئا قليلا
اور اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے تجھے ثابت قدم رکھا تو بلاشبہ یقینا تو قریب تھا کہ کچھ تھوڑا سا ان کی طرف مائل ہوجاتا۔
ابن کثیر ↑
75
إذا لأذقناك ضعف الحياة وضعف الممات ثم لا تجد لك علينا نصيرا
اس وقت ہم ضرور تجھے زندگی کے دگنے اور موت کے دگنے (عذاب)کا مزہ چکھاتے، پھر تو اپنے لیے ہمارے خلاف کوئی مددگار نہ پاتا۔
ابن کثیر ↑
76
وإن كادوا ليستفزونك من الأرض ليخرجوك منها وإذا لا يلبثون خلافك إلا قليلا
اور بے شک وہ قریب تھے کہ تجھے ضرور ہی اس سرزمین سے پھسلا دیں، تاکہ تجھے اس سے نکال دیں اور اس وقت وہ تیرے بعد نہیں ٹھہریں گے مگر کم ہی۔
77
سنة من قد أرسلنا قبلك من رسلنا ولا تجد لسنتنا تحويلا
ان کے طریقے (کی مانند) جنھیں ہم نے تجھ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے بھیجا اور تو ہمارے طریقے میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔
ابن کثیر ↑
78
أقم الصلاة لدلوك الشمس إلى غسق الليل وقرآن الفجر إن قرآن الفجر كان مشهودا
نماز قائم کر سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک اور فجر کا قرآن (پڑھ)۔ بے شک فجر کا قرآن ہمیشہ سے حاضر ہونے کا وقت رہا ہے۔
79
ومن الليل فتهجد به نافلة لك عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا
اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کے ساتھ بیدار رہ، اس حال میں کہ تیرے لیے زائد ہے۔ قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر کھڑا کرے۔
80
وقل رب أدخلني مدخل صدق وأخرجني مخرج صدق واجعل لي من لدنك سلطانا نصيرا
اور کہہ اے میرے رب! داخل کر مجھے سچا داخل کرنا اور نکال مجھے سچا نکالنا اور میرے لیے اپنی طرف سے ایسا غلبہ بنا جو مددگار ہو۔
81
وقل جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا
اور کہہ دے حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے والا تھا۔
ابن کثیر ↑
82
وننزل من القرآن ما هو شفاء ورحمة للمؤمنين ولا يزيد الظالمين إلا خسارا
اور ہم قرآن میں سے تھوڑا تھوڑا نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے سراسر شفا اور رحمت ہے اور وہ ظالموں کو خسارے کے سوا کسی چیز میں زیادہ نہیں کرتا۔
83
وإذا أنعمنا على الإنسان أعرض ونأى بجانبه وإذا مسه الشر كان يئوسا
اور جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں وہ منہ پھیر لیتا ہے اور اپنا پہلو دور کر لیتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بہت ناامید ہوجاتا ہے۔
84
قل كل يعمل على شاكلته فربكم أعلم بمن هو أهدى سبيلا
کہہ دے ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کرتا ہے، سو تمھارا رب زیادہ جاننے والا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر ہے۔
ابن کثیر ↑
85
ويسألونك عن الروح قل الروح من أمر ربي وما أوتيتم من العلم إلا قليلا
اور وہ تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمھیں علم میں سے بہت تھوڑے کے سوا نہیں دیا گیا۔
86
ولئن شئنا لنذهبن بالذي أوحينا إليك ثم لا تجد لك به علينا وكيلا
اور یقینا اگر ہم چاہیں تو ضرور ہی وہ وحی (واپس) لے جائیں جو ہم نے تیری طرف بھیجی ہے، پھر تو اپنے لیے اس کے متعلق ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہیں پائے گا۔
87
إلا رحمة من ربك إن فضله كان عليك كبيرا
مگرتیرے رب کی رحمت سے۔ یقینا اس کا فضل ہمیشہ سے تجھ پر بہت بڑا ہے۔
ابن کثیر ↑
88
قل لئن اجتمعت الإنس والجن على أن يأتوا بمثل هذا القرآن لا يأتون بمثله ولو كان بعضهم لبعض ظهيرا
کہہ دے اگر سب انسان اور جن جمع ہو جائیں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہیں لائیں گے، اگرچہ ان کا بعض بعض کا مددگار ہو۔
ابن کثیر ↑
89
ولقد صرفنا للناس في هذا القرآن من كل مثل فأبى أكثر الناس إلا كفورا
اور بلاشبہ یقینا ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال پھیر پھیر کر بیان کی مگر اکثر لوگوں نے کفر کے سوا (ہر چیز سے) انکار کردیا۔
ابن کثیر ↑
90
وقالوا لن نؤمن لك حتى تفجر لنا من الأرض ينبوعا
اور انھوں نے کہا ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہ لائیں گے، یہاں تک کہ تو ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ جاری کرے۔
91
أو تكون لك جنة من نخيل وعنب فتفجر الأنهار خلالها تفجيرا
یا تیرے لیے کھجوروں اور انگور کا ایک باغ ہو، پس تو اس کے درمیان نہریں جاری کردے، خوب جاری کرنا۔
ابن کثیر ↑
92
أو تسقط السماء كما زعمت علينا كسفا أو تأتي بالله والملائكة قبيلا
یا آسمان کو ٹکڑے کر کے ہم پر گرا دے، جیسا کہ تو نے دعویٰ کیا ہے، یا تو اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئے۔
ابن کثیر ↑
93
أو يكون لك بيت من زخرف أو ترقى في السماء ولن نؤمن لرقيك حتى تنزل علينا كتابا نقرؤه قل سبحان ربي هل كنت إلا بشرا رسولا
یا تیرے لیے سونے کا ایک گھر ہو، یا تو آسمان میں چڑھ جائے اور ہم تیرے چڑھنے کا ہرگز یقین نہ کریں گے، یہاں تک کہ تو ہم پر کوئی کتاب اتار لائے جسے ہم پڑھیں۔ تو کہہ میرا رب پاک ہے، میں تو ایک بشر کے سوا کچھ نہیں جو رسول ہے۔
ابن کثیر ↑
94
وما منع الناس أن يؤمنوا إذ جاءهم الهدى إلا أن قالوا أبعث الله بشرا رسولا
اور لوگوں کو کسی چیز نے نہیں روکا کہ وہ ایمان لائیں، جب ان کے پاس ہدایت آئی مگر اس بات نے کہ انھوں نے کہا کیا اللہ نے ایک بشر کو پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے؟
95
قل لو كان في الأرض ملائكة يمشون مطمئنين لنزلنا عليهم من السماء ملكا رسولا
کہہ دے اگر زمین میں فرشتے ہوتے، جو مطمئن ہو کر چلتے (پھرتے) تو ہم ضرور ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ پیغام پہنچانے والا اتارتے۔
ابن کثیر ↑
96
قل كفى بالله شهيدا بيني وبينكم إنه كان بعباده خبيرا بصيرا
کہہ دے میرے درمیان اور تمھارے درمیان گواہ کے طور پر اللہ کافی ہے، بے شک وہ ہمیشہ سے اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
97
ومن يهد الله فهو المهتد ومن يضلل فلن تجد لهم أولياء من دونه ونحشرهم يوم القيامة على وجوههم عميا وبكما وصما مأواهم جهنم كلما خبت زدناهم سعيرا
اور جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جنھیں گمراہ کر دے تو توُ ان کے لیے اس کے سوا ہرگز کوئی مدد کرنے والے نہیں پائے گا اور قیامت کے دن ہم انھیں ان کے چہروں کے بل اندھے اور گونگے اور بہرے اٹھائیں گے، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب کبھی بجھنے لگے گی ہم ان پر بھڑکانا زیادہ کر دیں گے۔
98
ذلك جزاؤهم بأنهم كفروا بآياتنا وقالوا أإذا كنا عظاما ورفاتا أإنا لمبعوثون خلقا جديدا
یہی ان کی جزا ہے، کیونکہ انھوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوگئے تو کیا واقعی ہم ضرور نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھائے جانے والے ہیں؟
99
أولم يروا أن الله الذي خلق السماوات والأرض قادر على أن يخلق مثلهم وجعل لهم أجلا لا ريب فيه فأبى الظالمون إلا كفورا
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس پر قادر ہے کہ ان جیسے پیدا کر دے اور اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کیا ہے، جس میں کچھ شک نہیں، پھر (بھی) ظالموں نے کفر کے سوا (ہر چیز سے) انکار کر دیا۔
ابن کثیر ↑
100
قل لو أنتم تملكون خزائن رحمة ربي إذا لأمسكتم خشية الإنفاق وكان الإنسان قتورا
کہہ دے اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو اس وقت تم خرچ ہو جانے کے ڈر سے ضرور روک لیتے اور انسان ہمیشہ سے بہت بخیل ہے۔