قرآن مجيد
سورة الإسراء/بني اسرائيل
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
51 |
یا کوئی ایسی مخلوق جو تمھارے سینوں میں بڑی (معلوم) ہو۔ تو عنقریب وہ کہیں گے کون ہمیں دوبارہ پیدا کرے گا؟ کہہ دے وہی جس نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا، تو ضرور وہ تیری طرف اپنے سر تعجب سے ہلائیں گے اور کہیں گے یہ کب ہوگا؟ کہہ امید ہے کہ وہ قریب ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
52 |
جس دن وہ تمھیں بلائے گا تو تم اس کی تعریف کرتے ہوئے چلے آؤ گے اور سمجھو گے کہ تم نہیں رہے مگر تھوڑا۔
|
ابن کثیر ↑
|
53 |
اور میرے بندوں سے کہہ دے وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو، بے شک شیطان ان کے درمیان جھگڑا ڈالتا ہے۔ بے شک شیطان ہمیشہ سے انسان کا کھلا دشمن ہے۔
|
|
54 |
تمھارا رب تمھیں زیادہ جاننے والا ہے، اگر وہ چاہے تو تم پر رحم کرے، یا اگر چاہے تو تمھیں عذاب دے اور ہم نے تجھے ان پر کوئی ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔
|
|
55 |
اور تیرا رب ان کو زیادہ جاننے والا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور بلاشبہ یقینا ہم نے بعض نبیوں کو بعض پر فضیلت بخشی اور ہم نے داؤد کو زبور عطا کی۔
|
ابن کثیر ↑
|
56 |
کہہ پکارو ان کو جنھیں تم نے اس کے سوا گمان کر رکھا ہے، پس وہ نہ تم سے تکلیف دور کرنے کے مالک ہیں اور نہ بدلنے کے۔
|
|
57 |
وہ لوگ جنھیں یہ پکارتے ہیں، وہ (خود) اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں، جوان میں سے زیادہ قریب ہیں اور اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بے شک تیرے رب کا عذاب وہ ہے جس سے ہمیشہ ڈرا جاتا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
58 |
اور کوئی بھی بستی نہیں مگر ہم قیامت کے دن سے پہلے اسے ہلاک کرنے والے ہیں، یا اسے عذاب دینے والے ہیں، بہت سخت عذاب۔ یہ (بات) ہمیشہ سے کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔
|
|
59 |
اور ہمیں کسی چیز نے نہیں روکا کہ ہم نشانیاں دے کر بھیجیں مگر اس بات نے کہ پہلے لوگوں نے انھیں جھٹلا دیا اور ہم نے ثمود کو اونٹنی واضح نشانی کے طور پر دی تو انھوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم نشانیاں دے کر نہیں بھیجتے مگر ڈرانے کے لیے۔
|
|
60 |
اور جب ہم نے تجھ سے کہا کہ بے شک تیرے رب نے لوگوں کا احاطہ کر رکھا ہے اور ہم نے وہ منظر جو تجھے دکھایا، نہیں بنایا مگر لوگوں کے لیے آزمائش اور وہ درخت بھی جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے۔ اور ہم انھیں ڈراتے ہیں تو یہ انھیں بہت بڑی سرکشی کے سوا زیادہ نہیں کرتا۔
|
|
61 |
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، اس نے کہا کیا میں اسے سجدہ کروں جسے تونے مٹی سے پیدا کیا۔
|
|
62 |
اس نے کہا کیا تونے دیکھا، یہ شخص جسے تو نے مجھ پر عزت بخشی، یقینا اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں بہت تھوڑے لوگوں کے سوا اس کی اولاد کو ہر صورت جڑ سے اکھاڑ دوں گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
63 |
فرمایا جا، پھر ان میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا تو بے شک جہنم تمھاری جزا ہے، پوری جزا۔
|
|
64 |
اور ان میں سے جس کو تو اپنی آواز کے ساتھ بہکا سکے بہکا لے اور اپنے سوار اور اپنے پیادے ان پر چڑھا کر لے آ اور اموال اور اولاد میں ان کا حصہ دار بن اور انھیں وعدے دے اور شیطان دھوکا دینے کے سوا انھیں وعدہ نہیں دیتا۔
|
ابن کثیر ↑
|
65 |
بے شک میرے بندے، تیرا ان پر کوئی غلبہ نہیں اور تیرا رب کافی کار ساز ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
66 |
تمھارا رب وہی ہے جو تمھارے لیے سمندر میں کشتیاں چلاتا ہے، تا کہ تم اس کا کچھ نہ کچھ فضل تلاش کرو۔ یقینا وہ ہمیشہ سے تم پر بے حد مہربان ہے۔
|
|
67 |
اور جب تمھیں سمندر میں تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے سوا تم جنھیں پکارتے ہو گم ہوجاتے ہیں، پھر جب وہ تمھیں بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہمیشہ سے بہت ناشکرا ہے۔
|
|
68 |
تو کیا تم بے خوف ہوگئے کہ وہ تمھیں خشکی کے کنارے دھنسا دے، یا تم پر کوئی پتھراؤ کرنے والی آندھی بھیج دے، پھر تم اپنے لیے کوئی کارساز نہ پاؤ۔
|
|
69 |
یا تم بے خوف ہوگئے کہ وہ تمھیں دوسری بار اس میں پھر لے جائے، پھر تم پر توڑ دینے والی آندھی بھیج دے، پس تمھیں غرق کردے، اس کی وجہ سے جو تم نے کفر کیا، پھر تم اپنے لیے ہمارے خلاف اس کے بارے میں کوئی پیچھا کرنے والا نہ پاؤ۔
|
|
70 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے آدم کی اولاد کو بہت عزت بخشی اور انھیں خشکی اور سمندر میں سوار کیا اور انھیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور ہم نے جو مخلوق پیدا کی اس میں سے بہت سوں پر انھیں فضیلت دی، بڑی فضیلت دینا۔
|
|
71 |
جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے، پھر جسے اس کی کتاب اس کے دائیں ہاتھ میں دی گئی تو یہ لوگ اپنی کتاب پڑھیں گے اور ان پر کھجور کی گٹھلی کے دھاگے برابر (بھی) ظلم نہ ہو گا۔
|
|
72 |
اور جو اس میں اندھا رہا تو وہ آخرت میں بھی اندھا ہو گا اور راستے سے بہت زیادہ بھٹکا ہوا ہو گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
73 |
اور بے شک وہ قریب تھے کہ تجھے اس سے ضرور ہی بہکا دیں جو ہم نے تیری طرف وحی کی، تاکہ تو ہم پر اس کے سوا جھوٹ باندھ دے اور اس وقت وہ ضرور تجھے دلی دوست بنا لیتے۔
|
|
74 |
اور اگر یہ نہ ہوتا کہ ہم نے تجھے ثابت قدم رکھا تو بلاشبہ یقینا تو قریب تھا کہ کچھ تھوڑا سا ان کی طرف مائل ہوجاتا۔
|
ابن کثیر ↑
|
75 |
اس وقت ہم ضرور تجھے زندگی کے دگنے اور موت کے دگنے (عذاب)کا مزہ چکھاتے، پھر تو اپنے لیے ہمارے خلاف کوئی مددگار نہ پاتا۔
|
ابن کثیر ↑
|
76 |
اور بے شک وہ قریب تھے کہ تجھے ضرور ہی اس سرزمین سے پھسلا دیں، تاکہ تجھے اس سے نکال دیں اور اس وقت وہ تیرے بعد نہیں ٹھہریں گے مگر کم ہی۔
|
|
77 |
ان کے طریقے (کی مانند) جنھیں ہم نے تجھ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے بھیجا اور تو ہمارے طریقے میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
78 |
نماز قائم کر سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک اور فجر کا قرآن (پڑھ)۔ بے شک فجر کا قرآن ہمیشہ سے حاضر ہونے کا وقت رہا ہے۔
|
|
79 |
اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کے ساتھ بیدار رہ، اس حال میں کہ تیرے لیے زائد ہے۔ قریب ہے کہ تیرا رب تجھے مقام محمود پر کھڑا کرے۔
|
|
80 |
اور کہہ اے میرے رب! داخل کر مجھے سچا داخل کرنا اور نکال مجھے سچا نکالنا اور میرے لیے اپنی طرف سے ایسا غلبہ بنا جو مددگار ہو۔
|
|
81 |
اور کہہ دے حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے والا تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
82 |
اور ہم قرآن میں سے تھوڑا تھوڑا نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے سراسر شفا اور رحمت ہے اور وہ ظالموں کو خسارے کے سوا کسی چیز میں زیادہ نہیں کرتا۔
|
|
83 |
اور جب ہم انسان پر انعام کرتے ہیں وہ منہ پھیر لیتا ہے اور اپنا پہلو دور کر لیتا ہے اور جب اسے تکلیف پہنچتی ہے تو بہت ناامید ہوجاتا ہے۔
|
|
84 |
کہہ دے ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کرتا ہے، سو تمھارا رب زیادہ جاننے والا ہے کہ کون زیادہ سیدھی راہ پر ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
85 |
اور وہ تجھ سے روح کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دے روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمھیں علم میں سے بہت تھوڑے کے سوا نہیں دیا گیا۔
|
|
86 |
اور یقینا اگر ہم چاہیں تو ضرور ہی وہ وحی (واپس) لے جائیں جو ہم نے تیری طرف بھیجی ہے، پھر تو اپنے لیے اس کے متعلق ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہیں پائے گا۔
|
|
87 |
مگرتیرے رب کی رحمت سے۔ یقینا اس کا فضل ہمیشہ سے تجھ پر بہت بڑا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
88 |
کہہ دے اگر سب انسان اور جن جمع ہو جائیں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہیں لائیں گے، اگرچہ ان کا بعض بعض کا مددگار ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
89 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر طرح کی مثال پھیر پھیر کر بیان کی مگر اکثر لوگوں نے کفر کے سوا (ہر چیز سے) انکار کردیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
90 |
اور انھوں نے کہا ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہ لائیں گے، یہاں تک کہ تو ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ جاری کرے۔
|
|
91 |
یا تیرے لیے کھجوروں اور انگور کا ایک باغ ہو، پس تو اس کے درمیان نہریں جاری کردے، خوب جاری کرنا۔
|
ابن کثیر ↑
|
92 |
یا آسمان کو ٹکڑے کر کے ہم پر گرا دے، جیسا کہ تو نے دعویٰ کیا ہے، یا تو اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئے۔
|
ابن کثیر ↑
|
93 |
یا تیرے لیے سونے کا ایک گھر ہو، یا تو آسمان میں چڑھ جائے اور ہم تیرے چڑھنے کا ہرگز یقین نہ کریں گے، یہاں تک کہ تو ہم پر کوئی کتاب اتار لائے جسے ہم پڑھیں۔ تو کہہ میرا رب پاک ہے، میں تو ایک بشر کے سوا کچھ نہیں جو رسول ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
94 |
اور لوگوں کو کسی چیز نے نہیں روکا کہ وہ ایمان لائیں، جب ان کے پاس ہدایت آئی مگر اس بات نے کہ انھوں نے کہا کیا اللہ نے ایک بشر کو پیغام پہنچانے والا بنا کر بھیجا ہے؟
|
|
95 |
کہہ دے اگر زمین میں فرشتے ہوتے، جو مطمئن ہو کر چلتے (پھرتے) تو ہم ضرور ان پر آسمان سے کوئی فرشتہ پیغام پہنچانے والا اتارتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
96 |
کہہ دے میرے درمیان اور تمھارے درمیان گواہ کے طور پر اللہ کافی ہے، بے شک وہ ہمیشہ سے اپنے بندوں کی پوری خبر رکھنے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
|
|
97 |
اور جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جنھیں گمراہ کر دے تو توُ ان کے لیے اس کے سوا ہرگز کوئی مدد کرنے والے نہیں پائے گا اور قیامت کے دن ہم انھیں ان کے چہروں کے بل اندھے اور گونگے اور بہرے اٹھائیں گے، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب کبھی بجھنے لگے گی ہم ان پر بھڑکانا زیادہ کر دیں گے۔
|
|
98 |
یہی ان کی جزا ہے، کیونکہ انھوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوگئے تو کیا واقعی ہم ضرور نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھائے جانے والے ہیں؟
|
|
99 |
اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس پر قادر ہے کہ ان جیسے پیدا کر دے اور اس نے ان کے لیے ایک وقت مقرر کیا ہے، جس میں کچھ شک نہیں، پھر (بھی) ظالموں نے کفر کے سوا (ہر چیز سے) انکار کر دیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
100 |
کہہ دے اگر تم میرے رب کی رحمت کے خزانوں کے مالک ہوتے تو اس وقت تم خرچ ہو جانے کے ڈر سے ضرور روک لیتے اور انسان ہمیشہ سے بہت بخیل ہے۔
|