Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة الكهف
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
الحمد لله الذي أنزل على عبده الكتاب ولم يجعل له عوجا
سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل کی اور اس میں کوئی کجی نہ رکھی۔
2
قيما لينذر بأسا شديدا من لدنه ويبشر المؤمنين الذين يعملون الصالحات أن لهم أجرا حسنا
بالکل سیدھی، تاکہ وہ اس کی جانب سے آنے والے سخت عذاب سے ڈرائے اور ان مومنوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں، خوش خبری دے کہ بے شک ان کے لیے اچھا اجر ہے۔
ابن کثیر ↑
3
ماكثين فيه أبدا
جس میں وہ ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
4
وينذر الذين قالوا اتخذ الله ولدا
اور ان لوگوں کو ڈرائے جنھوں نے کہا اللہ نے کوئی اولاد بنا رکھی ہے۔
5
ما لهم به من علم ولا لآبائهم كبرت كلمة تخرج من أفواههم إن يقولون إلا كذبا
نہ انھیں اس کا کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو۔ بولنے میں بڑی ہے، جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہے، وہ سراسر جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کہتے۔
ابن کثیر ↑
6
فلعلك باخع نفسك على آثارهم إن لم يؤمنوا بهذا الحديث أسفا
پس شاید تو اپنی جان ان کے پیچھے غم سے ہلاک کر لینے والا ہے، اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے۔
7
إنا جعلنا ما على الأرض زينة لها لنبلوهم أيهم أحسن عملا
بے شک ہم نے زمین پر جو کچھ ہے اس کے لیے زینت بنایا ہے، تاکہ ہم انھیں آزمائیں ان میں سے کون عمل میں بہتر ہے۔
ابن کثیر ↑
8
وإنا لجاعلون ما عليها صعيدا جرزا
اور بلاشبہ ہم جو کچھ اس پر ہے، اسے ضرور ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
9
أم حسبت أن أصحاب الكهف والرقيم كانوا من آياتنا عجبا
یا تو نے خیال کیا کہ غار اور کتبے والے ہماری نشانیوں میں سے ایک عجیب چیز تھے؟
10
إذ أوى الفتية إلى الكهف فقالوا ربنا آتنا من لدنك رحمة وهيئ لنا من أمرنا رشدا
جب ان جوانوں نے غار کی طرف پناہ لی تو انھوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے کوئی رحمت عطا کر اور ہمارے لیے ہمارے معاملے میں کوئی رہنمائی مہیا فرما۔
ابن کثیر ↑
11
فضربنا على آذانهم في الكهف سنين عددا
تو ہم نے غار میں ان کے کانوں پر گنتی کے کئی سال پردہ ڈال دیا۔
ابن کثیر ↑
12
ثم بعثناهم لنعلم أي الحزبين أحصى لما لبثوا أمدا
پھر ہم نے انھیں اٹھایا، تا کہ ہم معلوم کریں دونوں گروہوں میں سے کون وہ مدت زیادہ یاد رکھنے والا ہے جو وہ ٹھہرے۔
ابن کثیر ↑
13
نحن نقص عليك نبأهم بالحق إنهم فتية آمنوا بربهم وزدناهم هدى
ہم تجھ سے ان کا واقعہ ٹھیک ٹھیک بیان کرتے ہیں، بے شک وہ چند جوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے انھیں ہدایت میں زیادہ کر دیا۔
14
وربطنا على قلوبهم إذ قاموا فقالوا ربنا رب السماوات والأرض لن ندعو من دونه إلها لقد قلنا إذا شططا
اور ہم نے ان کے دلوں پر بند باندھ دیا، جب وہ کھڑے ہوئے تو انھوں نے کہا ہمارا رب آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی معبود کو ہر گز نہ پکاریں گے، بلاشبہ یقینا ہم نے اس وقت حد سے گزری ہوئی بات کہی۔
ابن کثیر ↑
15
هؤلاء قومنا اتخذوا من دونه آلهة لولا يأتون عليهم بسلطان بين فمن أظلم ممن افترى على الله كذبا
یہ ہماری قوم ہے، جنھوں نے اس کے سوا کئی معبود بنا لیے، یہ ان پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے، پھر اس سے بڑا ظالم کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔
ابن کثیر ↑
16
وإذ اعتزلتموهم وما يعبدون إلا الله فأووا إلى الكهف ينشر لكم ربكم من رحمته ويهيئ لكم من أمركم مرفقا
اور جب تم ان سے الگ ہو چکے اور ان چیزوں سے بھی جن کی وہ اللہ کے سوا عبادت کرتے ہیں تو کسی غار کی طرف (جاکر) پناہ لے لو، تمھارا رب تمھارے لیے اپنی کچھ رحمت کھول دے گا اور تمھارے لیے تمھارے کام میں کوئی سہولت مہیا کر دے گا۔
ابن کثیر ↑
17
وترى الشمس إذا طلعت تزاور عن كهفهم ذات اليمين وإذا غربت تقرضهم ذات الشمال وهم في فجوة منه ذلك من آيات الله من يهد الله فهو المهتد ومن يضلل فلن تجد له وليا مرشدا
اور تو سورج کو دیکھے گا جب وہ نکلتا ہے تو ان کی غار سے دائیں طرف کنارہ کر جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بائیں طرف کو کترا جاتا ہے اور وہ اس (غار) کی کھلی جگہ میں ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے گمراہ کر دے، پھر تو اس کے لیے ہرگز کوئی رہنمائی کرنے والا دوست نہ پائے گا۔
18
وتحسبهم أيقاظا وهم رقود ونقلبهم ذات اليمين وذات الشمال وكلبهم باسط ذراعيه بالوصيد لو اطلعت عليهم لوليت منهم فرارا ولملئت منهم رعبا
اور تو انھیں جاگتے ہوئے خیال کرے گا، حالانکہ وہ سوئے ہوئے ہیں اور ہم دائیں اور بائیں ان کی کروٹ پلٹتے رہتے ہیں اور ان کا کتا اپنے دونوں بازو دہلیز پر پھیلائے ہوئے ہے۔ اگر تو ان پر جھانکے تو ضرور بھاگتے ہوئے ان سے پیٹھ پھیر لے اور ضرور ان کے خوف سے بھر دیا جائے۔
19
وكذلك بعثناهم ليتساءلوا بينهم قال قائل منهم كم لبثتم قالوا لبثنا يوما أو بعض يوم قالوا ربكم أعلم بما لبثتم فابعثوا أحدكم بورقكم هذه إلى المدينة فلينظر أيها أزكى طعاما فليأتكم برزق منه وليتلطف ولا يشعرن بكم أحدا
اور اسی طرح ہم نے انھیں اٹھایا، تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھیں، ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا تم کتنی دیر رہے؟ انھوں نے کہا ہم ایک دن یا دن کا کچھ حصہ رہے، دوسروں نے کہا تمھارا رب زیادہ جاننے والا ہے جتنی مدت تم رہے ہو، پس اپنے میں سے ایک کو اپنی یہ چاندی دے کر شہر کی طرف بھیجو، پس وہ دیکھے کہ اس میں کھانے کے لحاظ سے زیادہ ستھرا کون ہے، پھر تمھارے پاس اس سے کچھ کھانا لے آئے اور نرمی و باریک بینی کی کوشش کرے اور تمھارے بارے میں کسی کو ہرگز معلوم نہ ہونے دے۔
20
إنهم إن يظهروا عليكم يرجموكم أو يعيدوكم في ملتهم ولن تفلحوا إذا أبدا
بے شک وہ اگر تم پر قابو پالیں گے تو تمھیں سنگسار کر دیں گے، یا تمھیں دوبارہ اپنے دین میں لے جائیں گے اور اس وقت تم کبھی فلاح نہیں پاؤ گے۔
ابن کثیر ↑
21
وكذلك أعثرنا عليهم ليعلموا أن وعد الله حق وأن الساعة لا ريب فيها إذ يتنازعون بينهم أمرهم فقالوا ابنوا عليهم بنيانا ربهم أعلم بهم قال الذين غلبوا على أمرهم لنتخذن عليهم مسجدا
اور اسی طرح ہم نے (لوگوں کو) ان پر مطلع کر دیا، تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت، اس میں کوئی شک نہیں۔ جب وہ ان کے معاملے میں آپس میں جھگڑ رہے تھے تو انھوں نے کہا ان پر ایک عمارت بنا دو۔ ان کا رب ان سے زیادہ واقف ہے، وہ لوگ جو ان کے معاملے پر غالب ہوئے انھوں نے کہا ہم تو ضرور ان پر ایک مسجد بنائیں گے۔
22
سيقولون ثلاثة رابعهم كلبهم ويقولون خمسة سادسهم كلبهم رجما بالغيب ويقولون سبعة وثامنهم كلبهم قل ربي أعلم بعدتهم ما يعلمهم إلا قليل فلا تمار فيهم إلا مراء ظاهرا ولا تستفت فيهم منهم أحدا
عنقریب وہ کہیں گے تین ہیں، ان کا چوتھا ان کا کتا ہے اور کہیں گے پانچ ہیں، ان کا چھٹا ان کا کتا ہے، بن دیکھے پتھر پھینکتے ہوئے اور کہیں گے سات ہیں، ان کا آٹھواں ان کا کتا ہے۔ کہہ دے میرا رب ان کی تعداد سے زیادہ واقف ہے، انھیں بہت تھوڑے لوگوں کے سوا کوئی نہیں جانتا، سو تو ان کے بارے میں سرسری بحث کے سوابحث نہ کر اور ان لوگوں میں سے کسی سے ان کے بارے میں فیصلہ طلب نہ کر۔
23
ولا تقولن لشيء إني فاعل ذلك غدا
اور کسی چیز کے بارے میں ہرگز نہ کہہ کہ میں یہ کام کل ضرور کرنے والا ہوں۔
ابن کثیر ↑
24
إلا أن يشاء الله واذكر ربك إذا نسيت وقل عسى أن يهدين ربي لأقرب من هذا رشدا
مگر یہ کہ اللہ چاہے اور اپنے رب کو یاد کر جب تو بھول جائے اور کہہ امید ہے کہ میرا رب مجھے اس سے قریب تر بھلائی کی ہدایت دے گا۔
25
ولبثوا في كهفهم ثلاث مائة سنين وازدادوا تسعا
اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے اور نو (سال) زیادہ رہے۔
26
قل الله أعلم بما لبثوا له غيب السماوات والأرض أبصر به وأسمع ما لهم من دونه من ولي ولا يشرك في حكمه أحدا
کہہ دے اللہ زیادہ جاننے والا ہے جتنی مدت وہ رہے، اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی باتیں ہیں، وہ کس قدر دیکھنے والا اور کس قدر سننے والا ہے، نہ اس کے سوا ان کا کوئی مددگار ہے اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک کرتا ہے۔
ابن کثیر ↑
27
واتل ما أوحي إليك من كتاب ربك لا مبدل لكلماته ولن تجد من دونه ملتحدا
اور اس کی تلاوت کر جو تیری طرف تیرے رب کی کتاب میں سے وحی کی گئی ہے، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں اور نہ اس کے سوا تو کبھی کوئی پناہ کی جگہ پائے گا۔
28
واصبر نفسك مع الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه ولا تعد عيناك عنهم تريد زينة الحياة الدنيا ولا تطع من أغفلنا قلبه عن ذكرنا واتبع هواه وكان أمره فرطا
اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ روکے رکھ جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں، اس کا چہرہ چاہتے ہیں اور تیری آنکھیں ان سے آگے نہ بڑھیں کہ تو دنیا کی زندگی کی زینت چاہتا ہو اور اس شخص کا کہنا مت مان جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام ہمیشہ حد سے بڑھا ہوا ہے۔
ابن کثیر ↑
29
وقل الحق من ربكم فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر إنا أعتدنا للظالمين نارا أحاط بهم سرادقها وإن يستغيثوا يغاثوا بماء كالمهل يشوي الوجوه بئس الشراب وساءت مرتفقا
اور کہہ دے یہ حق تمھارے رب کی طرف سے ہے، پھر جو چاہے سو ایمان لے آئے اور جو چاہے سو کفر کرے۔ بے شک ہم نے ظالموںکے لیے ایک آگ تیار کر رکھی ہے، جس کی قناتوں نے انھیں گھیر رکھا ہے اور اگر وہ پانی مانگیں گے تو انھیں پگھلے ہوئے تانبے جیسا پانی دیا جائے گا، جو چہروں کو بھون ڈالے گا، برا مشروب ہے اور بری آرام گاہ ہے۔
30
إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات إنا لا نضيع أجر من أحسن عملا
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، بے شک ہم اس کا اجر ضائع نہیں کرتے جو اچھا عمل کرے۔
31
أولئك لهم جنات عدن تجري من تحتهم الأنهار يحلون فيها من أساور من ذهب ويلبسون ثيابا خضرا من سندس وإستبرق متكئين فيها على الأرائك نعم الثواب وحسنت مرتفقا
یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہمیشگی کے باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں انھیں کچھ کنگن سونے کے پہنائے جائیں گے اور وہ باریک اور گاڑھے ریشم کے سبز کپڑے پہنیں گے، ان میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے۔ اچھا بدلہ ہے اور اچھی آرام گاہ ہے۔
ابن کثیر ↑
32
واضرب لهم مثلا رجلين جعلنا لأحدهما جنتين من أعناب وحففناهما بنخل وجعلنا بينهما زرعا
اور ان کے لیے ایک مثال بیان کر، دو آدمی ہیں، جن میں سے ایک کے لیے ہم نے انگوروں کے دو باغ بنائے اور ہم نے ان دونوں کو کھجور کے درختوں سے گھیر دیا اور دونوں کے درمیان کچھ کھیتی رکھی۔
33
كلتا الجنتين آتت أكلها ولم تظلم منه شيئا وفجرنا خلالهما نهرا
دونوں باغوں نے اپنا پھل دیا اور اس سے کچھ کمی نہ کی اور ہم نے دونوں کے درمیان ایک نہر جاری کر دی۔
ابن کثیر ↑
34
وكان له ثمر فقال لصاحبه وهو يحاوره أنا أكثر منك مالا وأعز نفرا
اور اس کے لیے بہت سا پھل تھاتو اس نے اپنے ساتھی سے، جب اس سے باتیں کررہا تھا، کہا میں تجھ سے مال میں زیادہ اور نفری کے لحاظ سے زیادہ باعزت ہوں۔
ابن کثیر ↑
35
ودخل جنته وهو ظالم لنفسه قال ما أظن أن تبيد هذه أبدا
اور وہ اپنے باغ میں اس حال میں داخل ہوا کہ وہ اپنی جان پر ظلم کرنے والا تھا، کہا میں گمان نہیں کرتا کہ یہ کبھی برباد ہوگا۔
ابن کثیر ↑
36
وما أظن الساعة قائمة ولئن رددت إلى ربي لأجدن خيرا منها منقلبا
اور نہ میں قیامت کو گمان کرتا ہوں کہ قائم ہونے والی ہے اور واقعی اگر مجھے میرے رب کی طرف لوٹایا گیا تو یقینا میں ضرور اس سے بہتر لوٹنے کی جگہ پاؤں گا۔
ابن کثیر ↑
37
قال له صاحبه وهو يحاوره أكفرت بالذي خلقك من تراب ثم من نطفة ثم سواك رجلا
اس کے ساتھی نے، جب کہ وہ اس سے باتیں کر رہا تھا، اس سے کہا کیا تو نے اس کے ساتھ کفر کیا جس نے تجھے حقیر مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک قطرے سے، پھر تجھے ٹھیک ٹھاک ایک آدمی بنا دیا۔
38
لكنا هو الله ربي ولا أشرك بربي أحدا
لیکن میں، تو وہ اللہ ہی میرا رب ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔
ابن کثیر ↑
39
ولولا إذ دخلت جنتك قلت ما شاء الله لا قوة إلا بالله إن ترن أنا أقل منك مالا وولدا
اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو توُ نے یہ کیوں نہ کہا ’’جو اللہ نے چاہا، کچھ قوت نہیں مگر اللہ کی مدد سے‘‘اگر تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں مال اور اولاد میں تجھ سے کم تر ہوں۔
ابن کثیر ↑
40
فعسى ربي أن يؤتين خيرا من جنتك ويرسل عليها حسبانا من السماء فتصبح صعيدا زلقا
تو قریب ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کر دے اور اس پر آسمان سے کوئی عذاب بھیج دے تو وہ چٹیل میدان ہو جائے۔
ابن کثیر ↑
41
أو يصبح ماؤها غورا فلن تستطيع له طلبا
یا اس کا پانی گہرا ہو جائے، پھر تو اسے کبھی تلاش نہ کر سکے گا۔
ابن کثیر ↑
42
وأحيط بثمره فأصبح يقلب كفيه على ما أنفق فيها وهي خاوية على عروشها ويقول يا ليتني لم أشرك بربي أحدا
اور اس کا سارا پھل مارا گیا تو اس نے اس حال میں صبح کی کہ اپنی ہتھیلیاں ملتا تھا اس پر جو اس میں خرچ کیا تھا اور وہ اپنی چھتوں سمیت گرا ہوا تھا اور کہتا تھا اے کاش! میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔
43
ولم تكن له فئة ينصرونه من دون الله وما كان منتصرا
اور اللہ کے سوا اس کا کوئی گروہ نہ تھا جو اس کی مدد کرتے اور نہ وہ (خود) بچنے والا تھا۔
ابن کثیر ↑
44
هنالك الولاية لله الحق هو خير ثوابا وخير عقبا
وہاں ہر طرح کی مدد اللہ سچے کے اختیار میں ہے، وہ ثواب دینے میں بہتر اور انجام کی رو سے زیادہ اچھا ہے۔
ابن کثیر ↑
45
واضرب لهم مثل الحياة الدنيا كماء أنزلناه من السماء فاختلط به نبات الأرض فأصبح هشيما تذروه الرياح وكان الله على كل شيء مقتدرا
اور ان کے لیے دنیا کی زندگی کی مثال بیان کر، جیسے پانی، جسے ہم نے آسمان سے اتارا تو اس کے ساتھ زمین کی نباتات خوب مل جل گئی، پھر وہ چورا بن گئی، جسے ہوائیں اڑائے پھرتی ہیں اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
46
المال والبنون زينة الحياة الدنيا والباقيات الصالحات خير عند ربك ثوابا وخير أملا
مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں ثواب میںبہتر اور امید کی رو سے زیادہ اچھی ہیں۔
ابن کثیر ↑
47
ويوم نسير الجبال وترى الأرض بارزة وحشرناهم فلم نغادر منهم أحدا
اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تو زمین کو صاف میدان دیکھے گا اور ہم انھیں اکٹھا کریں گے تو ان میں سے کسی کو نہیں چھوڑیں گے۔
48
وعرضوا على ربك صفا لقد جئتمونا كما خلقناكم أول مرة بل زعمتم ألن نجعل لكم موعدا
اور وہ تیرے رب کے سامنے صفیں باندھے ہوئے پیش کیے جائیں گے، بلاشبہ یقینا تم ہمارے پاس اسی طرح آئے ہو جیسے ہم نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا تھا، بلکہ تم نے گمان کیا تھا کہ ہم تمھارے لیے کبھی وعدے کا کوئی وقت مقرر نہیں کریں گے۔
ابن کثیر ↑
49
ووضع الكتاب فترى المجرمين مشفقين مما فيه ويقولون يا ويلتنا مال هذا الكتاب لا يغادر صغيرة ولا كبيرة إلا أحصاها ووجدوا ما عملوا حاضرا ولا يظلم ربك أحدا
اور کتاب رکھی جائے گی، پس تو مجرموں کو دیکھے گا کہ اس سے ڈرنے والے ہوں گے جو اس میں ہوگا اور کہیں گے ہائے ہماری بربادی! اس کتاب کو کیا ہے، نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑتی ہے اور نہ بڑی مگر اس نے اسے ضبط کر رکھا ہے، اور انھوں نے جو کچھ کیا اسے موجود پائیںگے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔
ابن کثیر ↑
50
وإذ قلنا للملائكة اسجدوا لآدم فسجدوا إلا إبليس كان من الجن ففسق عن أمر ربه أفتتخذونه وذريته أولياء من دوني وهم لكم عدو بئس للظالمين بدلا
اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، وہ جنوں میں سے تھا، سو اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی، تو کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو مجھے چھوڑ کر دوست بناتے ہو، حالانکہ وہ تمھارے دشمن ہیں، وہ (شیطان) ظالموں کے لیے بطور بدل برا ہے۔