🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة الكهف
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
101
الذين كانت أعينهم في غطاء عن ذكري وكانوا لا يستطيعون سمعا
وہ لوگ کہ ان کی آنکھیں میرے ذکر سے پردے میں تھیں اور وہ سن ہی نہ سکتے تھے۔
ابن کثیر ↑
102
أفحسب الذين كفروا أن يتخذوا عبادي من دوني أولياء إنا أعتدنا جهنم للكافرين نزلا
تو کیا جن لوگوں نے کفر کیا انھوں نے گمان کر لیا ہے کہ وہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو حمایتی بنا لیں گے۔ بے شک ہم نے جہنم کو کافروں کے لیے بطور مہمانی تیار کر رکھا ہے۔
ابن کثیر ↑
103
قل هل ننبئكم بالأخسرين أعمالا
کہہ دے کیا ہم تمھیں وہ لوگ بتائیں جو اعمال میں سب سے زیادہ خسارے والے ہیں۔
104
الذين ضل سعيهم في الحياة الدنيا وهم يحسبون أنهم يحسنون صنعا
وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں ضائع ہوگئی اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک اچھا کام کر رہے ہیں۔
ابن کثیر ↑
105
أولئك الذين كفروا بآيات ربهم ولقائه فحبطت أعمالهم فلا نقيم لهم يوم القيامة وزنا
یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا، تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے، سو ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن قائم نہیں کریں گے۔
ابن کثیر ↑
106
ذلك جزاؤهم جهنم بما كفروا واتخذوا آياتي ورسلي هزوا
یہ ان کی جزا جہنم ہے، اس وجہ سے کہ انھوں نے کفر کیا اور میری آیات اور میرے رسولوں کو مذاق بنایا۔
ابن کثیر ↑
107
إن الذين آمنوا وعملوا الصالحات كانت لهم جنات الفردوس نزلا
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے فردوس کے باغ مہمانی ہوں گے۔
108
خالدين فيها لا يبغون عنها حولا
ان میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے، وہ اس سے جگہ بدلنا نہ چاہیں گے۔
ابن کثیر ↑
109
قل لو كان البحر مدادا لكلمات ربي لنفد البحر قبل أن تنفد كلمات ربي ولو جئنا بمثله مددا
کہہ دے اگر سمندر میرے رب کی باتوں کے لیے سیاہی بن جائے تو یقینا سمندر ختم ہوجائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے برابر اور سیاہی لے آئیں۔
110
قل إنما أنا بشر مثلكم يوحى إلي أنما إلهكم إله واحد فمن كان يرجو لقاء ربه فليعمل عملا صالحا ولا يشرك بعبادة ربه أحدا
کہہ دے میں تو تم جیسا ایک بشر ہی ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے، پس جو شخص اپنے رب کی ملاقات کی امید رکھتا ہو تو لازم ہے کہ وہ عمل کرے نیک عمل اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے۔