قرآن مجيد
سورة مريم
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
51 |
اور کتاب میں موسیٰ کا ذکر کر، یقینا وہ خالص کیا ہوا تھا اور ایسا رسول جو نبی تھا۔
|
|
52 |
اور ہم نے اسے پہاڑ کی دائیں جانب سے آواز دی اور سرگوشی کرتے ہوئے اسے قریب کر لیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
53 |
اور ہم نے اسے اپنی رحمت سے اس کا بھائی ہارون نبی بنا کر عطا کیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
54 |
اور کتاب میں اسماعیل کا ذکر کر، یقینا وہ وعدے کا سچا تھا اور ایسا رسول جو نبی تھا۔
|
|
55 |
اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور وہ اپنے رب کے ہاں پسند کیا ہوا تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
56 |
اور کتاب میں ادریس کا ذکر کر، بے شک وہ ایسا نہایت سچا تھا، جو نبی تھا۔
|
|
57 |
اور ہم نے اسے بہت اونچے مقام پر بلند کیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
58 |
یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا نبیوں میں سے، آدم کی اولاد سے اور ان لوگوں میں سے جنھیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد سے اور ان لوگوں سے جنھیں ہم نے ہدایت دی اور ہم نے چن لیا۔ جب ان پر رحمان کی آیات پڑھی جاتی تھیں وہ سجدہ کرتے اور روتے ہوئے گر جاتے تھے۔
|
|
59 |
پھر ان کے بعد ایسے نالائق جانشین ان کی جگہ آئے جنھوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے تو وہ عنقریب گمراہی کو ملیں گے۔
|
|
60 |
مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
61 |
ہمیشگی کے باغات میں، جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے (ان کے) بن دیکھے وعدہ کیا ہے۔ بلاشبہ حقیقت یہ ہے کہ اس کا وعدہ ہمیشہ سے پورا ہو کر رہنے والا ہے۔
|
|
62 |
وہ اس میں کوئی لغو بات نہ سنیں گے مگر سلام اور ان کے لیے اس میں ان کا رزق صبح و شام ہوگا۔
|
ابن کثیر ↑
|
63 |
یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اسے بناتے ہیں جو بہت بچنے والا ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
64 |
اور ہم نہیں اترتے مگر تیرے رب کے حکم کے ساتھ۔ اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو اس کے درمیان ہے اور تیرا رب کبھی کسی طرح بھولنے والا نہیں۔
|
|
65 |
جو آسمانوں کا اور زمین کا اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کا رب ہے، سو اس کی عبادت کر اور اس کی عبادت پر خوب صابر رہ ۔ کیا تو اس کا کوئی ہم نام جانتا ہے؟
|
ابن کثیر ↑
|
66 |
اور انسان کہتا ہے کیا جب میں مرگیا تو کیا واقعی عنقریب مجھے زندہ کر کے نکالا جائے گا؟
|
|
67 |
اور کیا انسان یاد نہیں کرتا کہ ہم نے ہی اسے اس سے پہلے پیدا کیا، جب کہ وہ کوئی چیز نہ تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
68 |
تو قسم ہے تیرے رب کی! بے شک ہم ان کو اور شیطانوں کو ضرور اکٹھا کریں گے، پھر بے شک ہم انھیں جہنم کے گرد ضرور گھٹنوں کے بل گرے ہوئے حاضر کریں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
69 |
پھر بے شک ہم ہر گروہ میں سے اس شخص کو ضرور کھینچ نکالیں گے جو ان میں سے رحمان کے خلاف زیادہ سرکش ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
70 |
پھر یقینا ہم ان لوگوں کو زیادہ جاننے والے ہیں جو اس میں جھونکے جانے کے زیادہ حق دار ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
71 |
اور تم میں سے جو بھی ہے اس پر وارد ہونے والا ہے۔ یہ ہمیشہ سے تیرے رب کے ذمے قطعی بات ہے، جس کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔
|
|
72 |
پھر ہم ان لوگوں کو بچالیں گے جو ڈر گئے اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل گرے ہوئے چھوڑ دیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
73 |
اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان لوگوں سے کہتے ہیں جو ایمان لائے کہ دونوں گروہوں میں سے کون مقام میں بہتر اور مجلس کے اعتبار سے زیادہ اچھا ہے۔
|
|
74 |
اور ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانوں کے لوگ ہلاک کردیے جو سازوسامان میں اور دیکھنے میں کہیں اچھے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
75 |
کہہ دے جو شخص گمراہی میں پڑا ہو تو لازم ہے کہ رحما ن اسے ایک مدت تک مہلت دے، یہا ںتک کہ جب وہ اس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے، یا تو عذاب اور یا قیامت کو، تو ضرور جان لیں گے کہ کون ہے جو مقام میں زیادہ برا اور لشکر کے اعتبار سے زیادہ کمزور ہے۔
|
|
76 |
اور اللہ ان لوگوں کو جنھوں نے ہدایت پائی، ہدایت میں زیادہ کرتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے ہاں ثواب کے اعتبار سے بہتر اور انجام کے لحاظ سے کہیں اچھی ہیں۔
|
|
77 |
تو کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہمار ی آیات کا انکار کیا اور کہا مجھے ضرور ہی مال اور اولاد دی جائے گی۔
|
|
78 |
کیا اس نے غیب کو جھانک کر دیکھ لیا ہے؟ یا اس نے رحمان کے ہاں کوئی عہد لے رکھا ہے؟
|
ابن کثیر ↑
|
79 |
ہرگز نہیں! ہم ضرور لکھیں گے جو کچھ یہ کہتا ہے اور اس کے لیے عذاب میں سے بڑھائیں گے، بہت بڑھانا۔
|
ابن کثیر ↑
|
80 |
اور ہم اس کے وارث ہوں گے ان چیزوں میں جو یہ کہہ رہا ہے اور یہ اکیلا ہمارے پاس آئے گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
81 |
اور انھوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنا لیے، تاکہ وہ ان کے لیے باعث عزت ہوں۔
|
|
82 |
ہرگز ایسا نہ ہوگا، عنقریب وہ ان کی عبادت کا انکار کر دیں گے اور ان کے خلاف مد مقابل ہوں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
83 |
کیا تونے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے، وہ انھیں ابھارتے ہیں، خوب ابھارنا۔
|
ابن کثیر ↑
|
84 |
پس تو ان پر جلدی نہ کر، ہم تو بس ان کے لیے گن رہے ہیں، اچھی طرح گننا۔
|
ابن کثیر ↑
|
85 |
جس دن ہم متقی لوگوں کو رحمان کی طرف مہمان بناکر اکٹھا کریں گے۔
|
|
86 |
اور مجرموں کو جہنم کی طرف پیاسے ہانک کر لے جائیں گے۔
|
ابن کثیر ↑
|
87 |
وہ سفارش کے مالک نہ ہوں گے مگر جس نے رحمان کے ہاں کوئی عہد لے لیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
88 |
اور انھوں نے کہا رحمان نے کوئی اولاد بنا لی ہے۔
|
|
89 |
بلاشبہ یقینا تم ایک بہت بھاری بات کو آئے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
90 |
آسمان قریب ہیں کہ اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ڈھے کر گر پڑیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
91 |
کہ انھوں نے رحمان کے لیے کسی اولاد کا دعویٰ کیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
92 |
حالانکہ رحمان کے لائق نہیں کہ وہ کوئی اولاد بنائے۔
|
ابن کثیر ↑
|
93 |
آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ رحمان کے پاس غلام بن کر آنے والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
94 |
بلاشبہ یقینا اس نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے اور انھیں خوب اچھی طرح گن کر شمار کر رکھا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
95 |
اور ان میں سے ہر ایک قیامت کے دن اس کے پاس اکیلا آنے والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
96 |
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے عنقریب ان کے لیے رحمان عظیم محبت پیدا کر دے گا۔
|
|
97 |
سو اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم نے اسے تیری زبان میں آسان کر دیا ہے، تاکہ تو اس کے ساتھ متقی لوگوں کو خوشخبری دے اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرائے جو سخت جھگڑالو ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
98 |
اور ہم نے ان سے پہلے کتنے زمانے کے لوگوں کو ہلاک کر دیا، کیا تو ان میں سے کسی ایک کو محسوس کرتا ہے، یا ان کی کوئی بھنک سنتا ہے؟
|
ابن کثیر ↑
|