قرآن مجيد
سورة الدخان
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
| نمبر | آیت | تفسیر |
|---|---|---|
1 |
حم۔
|
|
2 |
اس بیان کرنے والی کتاب کی قسم!
|
ابن کثیر ↑
|
3 |
بے شک ہم نے اسے ایک بہت برکت والی رات میں اتارا، بے شک ہم ڈرانے والے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
4 |
اسی میں ہر محکم کام کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
5 |
ہماری طرف سے حکم کی وجہ سے۔ بے شک ہم ہی بھیجنے والے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
6 |
تیرے رب کی رحمت کے باعث، یقینا وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
7 |
آسمانوں اور زمین اور ان چیزوں کا رب جو ان دونوں کے درمیان ہیں، اگر تم یقین کرنے والے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
8 |
اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے، تمھارا رب ہے اور تمھارے پہلے باپ دادا کا رب ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
9 |
بلکہ وہ ایک شک میں کھیل رہے ہیں۔
|
|
10 |
سو انتظار کر جس دن آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔
|
ابن کثیر ↑
|
11 |
جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا۔ یہ دردناک عذاب ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
12 |
اے ہمارے رب! ہم سے یہ عذاب دور کر دے، بے شک ہم ایمان لانے والے ہیں۔
|
|
13 |
ان کے لیے نصیحت کہاں ؟حالانکہ یقینا ان کے پاس بیان کرنے والا رسول آ چکا ۔
|
ابن کثیر ↑
|
14 |
پھر انھوں نے اس سے منہ پھیر لیا اور انھوں نے کہا سکھلایا ہوا ہے، دیوانہ ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
15 |
بے شک ہم یہ عذاب تھوڑی دیر کے لیے دور کرنے والے ہیں، بے شک تم دوبارہ وہی کچھ کرنے والے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
16 |
جس دن ہم بڑی پکڑ پکڑیں گے، بے شک ہم انتقام لینے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
17 |
اور بلا شبہ یقینا ہم نے اس سے پہلے فرعون کی قوم کو آزمایا اور ان کے پاس ایک بہت باعزت رسول آیا۔
|
|
18 |
یہ کہ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کر دو، بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
19 |
اور یہ کہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو، بے شک میں تمھارے پاس واضح دلیل لانے والا ہوں۔
|
ابن کثیر ↑
|
20 |
اور بے شک میں اپنے رب اور تمھارے رب کی پناہ پکڑتا ہوں، اس سے کہ تم مجھے سنگسار کر دو۔
|
ابن کثیر ↑
|
21 |
اور اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ سے الگ رہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
22 |
آخر اس نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ مجرم لوگ ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
23 |
پس میرے بندوں کو رات کے کسی حصے میں لے جا،بے شک تم پیچھا کیے جانے والے ہو۔
|
|
24 |
اور سمندر کو اپنے حال پر ٹھہرا ہوا چھوڑ دے، بے شک وہ ایسا لشکر ہیں جو غرق کیے جانے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
25 |
کتنے ہی وہ چھوڑ گئے باغات اور چشمے۔
|
ابن کثیر ↑
|
26 |
اور کھیتیاں اور عمدہ مقام۔
|
ابن کثیر ↑
|
27 |
اور خوش حالی، جن میں وہ مزے اڑانے والے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
28 |
اسی طرح ہوا اور ہم نے ان کا وارث اور لوگوں کو بنا دیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
29 |
پھر نہ ان پر آسمان وزمین روئے اور نہ وہ مہلت پانے والے ہوئے۔
|
ابن کثیر ↑
|
30 |
اور بلاشبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو ذلیل کرنے والے عذاب سے نجات دی۔
|
|
31 |
فرعون سے، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں میںسے ایک سرکش شخص تھا۔
|
ابن کثیر ↑
|
32 |
اور بلا شبہ یقینا ہم نے انھیں علم کی بنا پر جہانوں سے چن لیا۔
|
ابن کثیر ↑
|
33 |
اور ہم نے انھیں وہ نشانیاں دیں جن میں واضح آزمائش تھی۔
|
ابن کثیر ↑
|
34 |
بے شک یہ لوگ یقینا کہتے ہیں۔
|
|
35 |
کہ ہماری اس پہلی موت کے سوا کوئی (موت) نہیں اور نہ ہم کبھی دوبارہ اٹھائے جانے والے ہیں۔
|
ابن کثیر ↑
|
36 |
تو ہمارے باپ دادا کو لے آؤ، اگر تم سچے ہو۔
|
ابن کثیر ↑
|
37 |
کیا یہ لوگ بہتر ہیں، یا تبع کی قوم اور وہ لوگ جوان سے پہلے تھے؟ ہم نے انھیں ہلاک کردیا، بے شک وہ مجرم تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|
38 |
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کھیلتے ہو ئے نہیں بنایا۔
|
|
39 |
ہم نے ان دونوں کو حق ہی کے ساتھ پیدا کیا ہے اور لیکن ان کے اکثر نہیں جانتے۔
|
ابن کثیر ↑
|
40 |
یقینا فیصلے کا دن ان سب کا مقرر وقت ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
41 |
جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔
|
ابن کثیر ↑
|
42 |
مگر جس پر اللہ نے رحم کیا، بے شک وہی سب پر غالب، نہایت رحم والا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
43 |
بے شک زقوم کا درخت۔
|
|
44 |
گناہ گار کا کھانا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
45 |
پگھلے ہوئے تانبے کی طرح، پیٹوں میں کھولتا ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
46 |
گرم پانی کے کھولنے کی طرح۔
|
ابن کثیر ↑
|
47 |
اسے پکڑو، پھر اسے بھڑکتی آگ کے درمیان تک دھکیل کر لے جاؤ۔
|
ابن کثیر ↑
|
48 |
پھر کھولتے پانی کا کچھ عذاب اس کے سر پر انڈیلو۔
|
ابن کثیر ↑
|
49 |
چکھ، بے شک تو ہی وہ شخص ہے جو بڑا زبردست، بہت باعزت ہے۔
|
ابن کثیر ↑
|
50 |
بے شک یہ ہے جس میں تم شک کیا کرتے تھے۔
|
ابن کثیر ↑
|