Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة الجاثيه
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
حم
حم۔
2
تنزيل الكتاب من الله العزيز الحكيم
اس کتاب کا اتارنا اللہ کی طرف سے ہے جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
ابن کثیر ↑
3
إن في السماوات والأرض لآيات للمؤمنين
بلاشبہ آسمانوں اور زمین میں ایمان والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔
ابن کثیر ↑
4
وفي خلقكم وما يبث من دابة آيات لقوم يوقنون
اور تمھارے پیدا کرنے میں اور ان جاندار چیزوں میں جنھیں وہ پھیلاتا ہے، ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو یقین رکھتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
5
واختلاف الليل والنهار وما أنزل الله من السماء من رزق فأحيا به الأرض بعد موتها وتصريف الرياح آيات لقوم يعقلون
اور رات اور دن کے بدلنے میں اور اس رزق میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیا اور ہواؤں کے پھیرنے میں ان لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
6
تلك آيات الله نتلوها عليك بالحق فبأي حديث بعد الله وآياته يؤمنون
یہ اللہ کی آیات ہیں، ہم انھیں تجھ پر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، پھر اللہ اور اس کی آیات کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے؟
7
ويل لكل أفاك أثيم
بڑی ہلاکت ہے ہر سخت جھوٹے، گناہ گار کے لیے۔
ابن کثیر ↑
8
يسمع آيات الله تتلى عليه ثم يصر مستكبرا كأن لم يسمعها فبشره بعذاب أليم
جو اللہ کی آیات سنتا ہے، جبکہ اس کے سامنے پڑھی جاتی ہیں، پھر وہ تکبر کرتے ہوئے اڑا رہتا ہے، گویا اس نے وہ نہیں سنیں، سو اسے دردناک عذاب کی بشارت دے دے۔
ابن کثیر ↑
9
وإذا علم من آياتنا شيئا اتخذها هزوا أولئك لهم عذاب مهين
اور جب وہ ہماری آیات میں سے کوئی چیز معلوم کر لیتا ہے تو اسے مذاق بنا لیتا ہے، یہی لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
ابن کثیر ↑
10
من ورائهم جهنم ولا يغني عنهم ما كسبوا شيئا ولا ما اتخذوا من دون الله أولياء ولهم عذاب عظيم
ان کے آگے جہنم ہے اور نہ وہ ان کے کچھ بھی کام آئے گا جو انھوں نے کمایا اور نہ وہ جو انھوں نے اللہ کے سوا حمایتی بنائے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔
ابن کثیر ↑
11
هذا هدى والذين كفروا بآيات ربهم لهم عذاب من رجز أليم
یہ سراسر ہدایت ہے اور وہ لوگ جنھوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا ان کے لیے عذاب میں سے دردناک عذاب ہے۔
ابن کثیر ↑
12
الله الذي سخر لكم البحر لتجري الفلك فيه بأمره ولتبتغوا من فضله ولعلكم تشكرون
اللہ وہ ہے جس نے تمھاری خاطر سمندر کو مسخر کر دیا، تاکہ جہاز اس میںاس کے حکم سے چلیں اور تا کہ تم اس کا کچھ فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر کرو۔
13
وسخر لكم ما في السماوات وما في الأرض جميعا منه إن في ذلك لآيات لقوم يتفكرون
اور ا س نے تمھاری خاطر جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب کو اپنی طرف سے مسخر کر دیا، بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
14
قل للذين آمنوا يغفروا للذين لا يرجون أيام الله ليجزي قوما بما كانوا يكسبون
ان لوگوں سے جو ایمان لائے کہہ دے کہ وہ ان لوگوں کو معاف کر دیں جو اللہ کے دنوں کی امید نہیں رکھتے، تاکہ وہ کچھ لوگوں کو اس کا بدلہ دے جو وہ کماتے رہے تھے۔
ابن کثیر ↑
15
من عمل صالحا فلنفسه ومن أساء فعليها ثم إلى ربكم ترجعون
جس نے کوئی نیک عمل کیا تو وہ اسی کے لیے ہے اور جس نے برائی کی سو اسی پر ہے، پھر تم اپنے رب ہی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
ابن کثیر ↑
16
ولقد آتينا بني إسرائيل الكتاب والحكم والنبوة ورزقناهم من الطيبات وفضلناهم على العالمين
اور بلاشبہ یقینا ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکم اور نبوت دی اور انھیں پاکیزہ چیزوںسے رزق دیا اور انھیں جہانوں پر فضیلت بخشی۔
17
وآتيناهم بينات من الأمر فما اختلفوا إلا من بعد ما جاءهم العلم بغيا بينهم إن ربك يقضي بينهم يوم القيامة فيما كانوا فيه يختلفون
اور انھیں (دین کے) معاملے میں واضح احکام عطا کیے، پھر انھوںنے اختلاف نہیں کیا مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آگیا، آپس میں ضد کی وجہ سے،بے شک تیرا رب ان کے درمیان قیامت کے دن اس کے بارے میں فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
18
ثم جعلناك على شريعة من الأمر فاتبعها ولا تتبع أهواء الذين لا يعلمون
پھر ہم نے تجھے (دین کے) معاملے میں ایک واضح راستے پر لگا دیا، سو اسی پر چل اور ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چل جو نہیں جانتے۔
ابن کثیر ↑
19
إنهم لن يغنوا عنك من الله شيئا وإن الظالمين بعضهم أولياء بعض والله ولي المتقين
بلاشبہ وہ اللہ کے مقابلے میں ہرگز تیرے کسی کام نہ آئیں گے اور یقینا ظالم لوگ، ان کے بعض بعض کے دوست ہیں اور اللہ متقی لوگوں کا دوست ہے۔
ابن کثیر ↑
20
هذا بصائر للناس وهدى ورحمة لقوم يوقنون
یہ لوگوں کے لیے سمجھ کی باتیں ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں ہدایت اور رحمت ہے۔
ابن کثیر ↑
21
أم حسب الذين اجترحوا السيئات أن نجعلهم كالذين آمنوا وعملوا الصالحات سواء محياهم ومماتهم ساء ما يحكمون
یا وہ لوگ جنھوں نیبرائیوں کا ارتکاب کیا، انھوں نے گمان کر لیا ہے کہ ہم انھیں ان لوگوں کی طرح کر دیں گے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے؟ ان کا جینا اور ان کا مرنا برابر ہو گا؟ برا ہے جو وہ فیصلہ کر رہے ہیں۔
22
وخلق الله السماوات والأرض بالحق ولتجزى كل نفس بما كسبت وهم لا يظلمون
اور اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
ابن کثیر ↑
23
أفرأيت من اتخذ إلهه هواه وأضله الله على علم وختم على سمعه وقلبه وجعل على بصره غشاوة فمن يهديه من بعد الله أفلا تذكرون
پھر کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنا معبود اپنی خواہش کو بنا لیا اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ کر دیا اور اس کے کان اور اس کے دل پر مہر لگا دی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا۔ پھر اللہ کے بعد اسے کون ہدایت دے، تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے۔
ابن کثیر ↑
24
وقالوا ما هي إلا حياتنا الدنيا نموت ونحيا وما يهلكنا إلا الدهر وما لهم بذلك من علم إن هم إلا يظنون
اور انھوں نے کہا ہماری اس دنیا کی زندگی کے سوا کوئی(زندگی) نہیں، ہم (یہیں) جیتے اور مرتے ہیں اور ہمیں زمانے کے سوا کوئی ہلاک نہیں کرتا، حالا نکہ انھیں اس کے بارے میں کچھ علم نہیں، وہ محض گمان کر رہے ہیں۔
25
وإذا تتلى عليهم آياتنا بينات ما كان حجتهم إلا أن قالوا ائتوا بآبائنا إن كنتم صادقين
اور جب ان کے سامنے ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو ان کی دلیل اس کے سوا کچھ نہیں ہوتی کہ کہتے ہیں ہمارے باپ دادا کو لے آؤ ، اگر تم سچے ہو۔
ابن کثیر ↑
26
قل الله يحييكم ثم يميتكم ثم يجمعكم إلى يوم القيامة لا ريب فيه ولكن أكثر الناس لا يعلمون
کہہ دے اللہ ہی تمھیں زندگی بخشتا ہے، پھر تمھیں موت دیتا ہے، پھر تمھیں قیامت کے دن کی طرف(لے جا کر)جمع کرے گا، جس میں کوئی شک نہیں اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
ابن کثیر ↑
27
ولله ملك السماوات والأرض ويوم تقوم الساعة يومئذ يخسر المبطلون
اور اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل والے خسارہ پائیں گے۔
28
وترى كل أمة جاثية كل أمة تدعى إلى كتابها اليوم تجزون ما كنتم تعملون
اور تو ہر امت کو گھٹنوں کے بل گری ہوئی دیکھے گا، ہر امت اپنے اعمال نامہ کی طرف بلائی جائے گی، آج تمھیں اس کا بدلہ دیا جائے گا جوتم کیا کرتے تھے ۔
ابن کثیر ↑
29
هذا كتابنا ينطق عليكم بالحق إنا كنا نستنسخ ما كنتم تعملون
یہ ہماری کتاب ہے جو تم پر حق کے ساتھ بولتی ہے، بے شک ہم لکھواتے جاتے تھے ، جو تم عمل کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
30
فأما الذين آمنوا وعملوا الصالحات فيدخلهم ربهم في رحمته ذلك هو الفوز المبين
پھر جو لوگ تو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے سو انھیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا، یہی واضح کامیابی ہے۔
31
وأما الذين كفروا أفلم تكن آياتي تتلى عليكم فاستكبرتم وكنتم قوما مجرمين
اور رہے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو کیا میری آیات تمھارے سامنے نہ پڑھی جاتی تھیں؟ پھر تم نے تکبر کیا اور تم مجرم لوگ تھے۔
ابن کثیر ↑
32
وإذا قيل إن وعد الله حق والساعة لا ريب فيها قلتم ما ندري ما الساعة إن نظن إلا ظنا وما نحن بمستيقنين
اور جب کہا جاتا تھا کہ یقینا اللہ کا وعدہ حق ہے اور جو قیامت ہے اس میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہے، ہم تو محض معمولی سا گمان کرتے ہیں اور ہم ہرگز پورا یقین کرنے والے نہیں۔
ابن کثیر ↑
33
وبدا لهم سيئات ما عملوا وحاق بهم ما كانوا به يستهزئون
اور ان کے لیے ان اعمال کی برائیاں ظاہر ہو جائیں گی جو انھوں نے کیے اور انھیں وہ چیز گھیر لے گی جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔
34
وقيل اليوم ننساكم كما نسيتم لقاء يومكم هذا ومأواكم النار وما لكم من ناصرين
اورکہہ دیا جائے گا کہ آج ہم تمھیں بھلا دیں گے جیسے تم نے اپنے اس دن کے ملنے کو بھلادیا اور تمھارا ٹھکانا آگ ہے اور تمھارے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔
ابن کثیر ↑
35
ذلكم بأنكم اتخذتم آيات الله هزوا وغرتكم الحياة الدنيا فاليوم لا يخرجون منها ولا هم يستعتبون
یہ اس لیے کہ تم نے اللہ کی آیات کو مذاق بنا لیا اور تمھیں دنیا کی زندگی نے دھوکا دیا، سو آج نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔
ابن کثیر ↑
36
فلله الحمد رب السماوات ورب الأرض رب العالمين
پس اللہ ہی کے لیے سب تعریف ہے جو آسمانوں کا رب اور زمین کا رب، تمام جہانوں کا رب ہے۔
ابن کثیر ↑
37
وله الكبرياء في السماوات والأرض وهو العزيز الحكيم
اور اسی کے لیے آسمانوں اور زمین میں سب بڑائی ہے اور وہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
ابن کثیر ↑