🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة المائده
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
101
يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم وإن تسألوا عنها حين ينزل القرآن تبد لكم عفا الله عنها والله غفور حليم
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ان چیزوں کے بارے میں سوال مت کرو جو اگر تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تمھیں بری لگیں اور اگر تم ان کے بارے میں اس وقت سوال کرو گے جب قرآن نازل کیا جا رہا ہے تو تمھارے لیے ظاہر کر دی جائیں گی۔ اللہ نے ان سے در گزر فرمایا اور اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت برد بار ہے۔
ابن کثیر ↑
102
قد سألها قوم من قبلكم ثم أصبحوا بها كافرين
بے شک تم سے پہلے ان کے بارے میں کچھ لوگوں نے سوال کیا، پھر وہ ان سے کفر کرنے والے ہوگئے۔
ابن کثیر ↑
103
ما جعل الله من بحيرة ولا سائبة ولا وصيلة ولا حام ولكن الذين كفروا يفترون على الله الكذب وأكثرهم لا يعقلون
اللہ نے نہ کوئی کان پھٹی اونٹنی مقرر فرمائی ہے اور نہ کوئی سانڈ چُھٹی ہوئی اور نہ کوئی اوپر تلے بچے دینے والی مادہ اور نہ کوئی بچوں کا باپ اونٹ اور لیکن وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان کے اکثر نہیں سمجھتے۔
104
وإذا قيل لهم تعالوا إلى ما أنزل الله وإلى الرسول قالوا حسبنا ما وجدنا عليه آباءنا أولو كان آباؤهم لا يعلمون شيئا ولا يهتدون
اور جب ان سے کہا جاتا ہے آؤ اس کی طرف جواللہ نے نازل کیا ہے اور رسول کی طرف تو کہتے ہیں ہمیں وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا اگرچہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ جانتے ہوں اور نہ ہدایت پاتے ہوں۔
ابن کثیر ↑
105
يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم إلى الله مرجعكم جميعا فينبئكم بما كنتم تعملون
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر اپنی جانوں کا بچاؤ لازم ہے، تمھیں وہ شخص نقصان نہیں پہنچائے گا جو گمراہ ہے، جب تم ہدایت پا چکے، اللہ ہی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمھیں بتائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔
106
يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت حين الوصية اثنان ذوا عدل منكم أو آخران من غيركم إن أنتم ضربتم في الأرض فأصابتكم مصيبة الموت تحبسونهما من بعد الصلاة فيقسمان بالله إن ارتبتم لا نشتري به ثمنا ولو كان ذا قربى ولا نكتم شهادة الله إنا إذا لمن الآثمين
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمھاری آپس کی شہادت، جب تم میں سے کسی کو موت آ پہنچے، وصیت کے وقت، دو عدل والے آدمی ہوں گے، جو تم میں سے ہوں، یا دو اور تمھارے غیر سے ہوں، اگر تم زمین میں سفر کر رہے ہو، پھر تمھیں موت کی مصیبت آ پہنچے، تم ان دونوں کو نماز کے بعد روک لو گے، اگر تم شک کرو، پس وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں گے کہ ہم اس کے ساتھ کوئی قیمت نہیں لیں گے، اگرچہ وہ قرابت والا ہو اور نہ ہم اللہ کی شہادت چھپائیں گے، بے شک ہم اس وقت یقیناً گنہگاروں سے ہوں گے۔
107
فإن عثر على أنهما استحقا إثما فآخران يقومان مقامهما من الذين استحق عليهم الأوليان فيقسمان بالله لشهادتنا أحق من شهادتهما وما اعتدينا إنا إذا لمن الظالمين
پھر اگر اطلاع پائی جائے کہ وہ دونوں کسی گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں تو دو اور ان کی جگہ کھڑے ہوں گے، ان میں سے جن کے خلاف گناہ کا ارتکاب ہوا ہے، جو زیادہ قریب ہوں، پس وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں گے کہ یقیناً ہماری گواہی ان کی گواہی سے زیادہ سچی ہے اور ہم نے زیادتی نہیں کی، بے شک ہم اس وقت یقیناً ظالموں میں سے ہوں گے۔
108
ذلك أدنى أن يأتوا بالشهادة على وجهها أو يخافوا أن ترد أيمان بعد أيمانهم واتقوا الله واسمعوا والله لا يهدي القوم الفاسقين
یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی کو اس کے طریقے پر ادا کریں، یا اس سے ڈریں کہ (ان کی) قسمیں ان (قرابت داروں) کی قسموں کے بعد رد کر دی جائیں گی اور اللہ سے ڈرو اور سنو اور اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
ابن کثیر ↑
109
يوم يجمع الله الرسل فيقول ماذا أجبتم قالوا لا علم لنا إنك أنت علام الغيوب
جس دن اللہ رسولوں کو جمع کرے گا، پھر کہے گا تمہیں کیا جواب دیا گیا؟ وہ کہیں گے ہمیں کچھ علم نہیں، بےشک تو ہی چھپی باتوں کو بہت خوب جاننے والا ہے۔
110
إذ قال الله يا عيسى ابن مريم اذكر نعمتي عليك وعلى والدتك إذ أيدتك بروح القدس تكلم الناس في المهد وكهلا وإذ علمتك الكتاب والحكمة والتوراة والإنجيل وإذ تخلق من الطين كهيئة الطير بإذني فتنفخ فيها فتكون طيرا بإذني وتبرئ الأكمه والأبرص بإذني وإذ تخرج الموتى بإذني وإذ كففت بني إسرائيل عنك إذ جئتهم بالبينات فقال الذين كفروا منهم إن هذا إلا سحر مبين
جب اللہ کہے گا اے عیسیٰ ابن مریم! اپنے اوپر اور اپنی والدہ پر میری نعمت یاد کر، جب میں نے روح پاک سے تیری مدد کی، تو گود میں اور ادھیڑ عمر میں لوگوں سے باتیں کرتا تھا اور جب میں نے تجھے کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائی اور جب تو مٹی سے پرندے کی شکل کی مانند میرے حکم سے بناتا تھا، پھر تو اس میں پھونک مارتا تو وہ میرے حکم سے ایک پرندہ بن جاتی تھی اور تو پیدائشی اندھے اور برص والے کو میرے حکم سے تندرست کرتا تھا اور جب تو مردوں کو میرے حکم سے نکال کھڑا کرتا تھا اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تجھ سے روکا، جب تو ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آیا تو ان میں سے ان لوگوں نے کہا جنہوں نے کفر کیا، یہ تو کھلے جادو کے سوا کچھ نہیں۔
111
وإذ أوحيت إلى الحواريين أن آمنوا بي وبرسولي قالوا آمنا واشهد بأننا مسلمون
اور جب میں نے حواریوں کی طرف وحی کی کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ، انھوں نے کہا ہم ایمان لائے اور گواہ رہ کہ ہم فرماں بردار ہیں۔
ابن کثیر ↑
112
إذ قال الحواريون يا عيسى ابن مريم هل يستطيع ربك أن ينزل علينا مائدة من السماء قال اتقوا الله إن كنتم مؤمنين
جب حواریوں نے کہا اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تیرا رب کر سکتا ہے کہ ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اتارے؟ اس نے کہا: اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔
113
قالوا نريد أن نأكل منها وتطمئن قلوبنا ونعلم أن قد صدقتنا ونكون عليها من الشاهدين
انھوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ ہم اس میں سے کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہو جائیں اور ہم جان لیں کہ واقعی تو نے ہم سے سچ کہا ہے اور ہم اس پر گواہوں سے ہو جائیں۔
ابن کثیر ↑
114
قال عيسى ابن مريم اللهم ربنا أنزل علينا مائدة من السماء تكون لنا عيدا لأولنا وآخرنا وآية منك وارزقنا وأنت خير الرازقين
عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے اللہ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اتار، جو ہمارے پہلوں اور ہمارے پچھلوں کے لیے عید ہو اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو اور ہمیں رزق دے اور تو سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔
115
قال الله إني منزلها عليكم فمن يكفر بعد منكم فإني أعذبه عذابا لا أعذبه أحدا من العالمين
اللہ نے فرمایا بے شک میں اسے تم پر اتارنے والا ہوں، پھر جو اس کے بعد تم میں سے ناشکری کرے گا تو بے شک میں اسے عذاب دوں گا، ایسا عذاب کہ وہ جہانوں میں سے کسی ایک کو نہ دوں گا۔
ابن کثیر ↑
116
وإذ قال الله يا عيسى ابن مريم أأنت قلت للناس اتخذوني وأمي إلهين من دون الله قال سبحانك ما يكون لي أن أقول ما ليس لي بحق إن كنت قلته فقد علمته تعلم ما في نفسي ولا أعلم ما في نفسك إنك أنت علام الغيوب
اور جب اللہ کہے گا اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنا لو؟ وہ کہے گا تو پاک ہے، میرے لیے بنتا ہی نہیں کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں، اگر میں نے یہ بات کہی تھی تو یقینا تو نے اسے جان لیا، تو جانتا ہے جو میرے نفس میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے نفس میں ہے، یقینا تو ہی سب چھپی باتوں کو بہت خوب جاننے والا ہے۔
117
ما قلت لهم إلا ما أمرتني به أن اعبدوا الله ربي وربكم وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت أنت الرقيب عليهم وأنت على كل شيء شهيد
میں نے انھیں اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو، جو میرا رب اور تمھارا رب ہے اور میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے۔
118
إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم
اگر تو انھیں عذاب دے تو بے شک وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انھیں بخش دے تو بے شک تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
ابن کثیر ↑
119
قال الله هذا يوم ينفع الصادقين صدقهم لهم جنات تجري من تحتها الأنهار خالدين فيها أبدا رضي الله عنهم ورضوا عنه ذلك الفوز العظيم
اللہ فرمائے گا یہ وہ دن ہے کہ سچوں کو ان کا سچ نفع دے گا، ان کے لیے باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ہمیشہ، اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
120
لله ملك السماوات والأرض وما فيهن وهو على كل شيء قدير
اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس کی بھی جو ان میںہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
ابن کثیر ↑