🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة الأعراف
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
المص
المص۔
2
كتاب أنزل إليك فلا يكن في صدرك حرج منه لتنذر به وذكرى للمؤمنين
ایک عظیم کتاب ہے جو تیری طرف نازل کی گئی ہے، تو تیرے سینے میں اس سے کوئی تنگی نہ ہو، تاکہ تو اس کے ساتھ ڈرائے اور ایمان والوں کے لیے سراسر نصیحت ہے۔
ابن کثیر ↑
3
اتبعوا ما أنزل إليكم من ربكم ولا تتبعوا من دونه أولياء قليلا ما تذكرون
اس کے پیچھے چلو جو تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اس کے سوا اور دوستوں کے پیچھے مت چلو۔ بہت کم تم نصیحت قبول کرتے ہو۔
ابن کثیر ↑
4
وكم من قرية أهلكناها فجاءها بأسنا بياتا أو هم قائلون
اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے ہلاک کر دیا، تو ان پر ہمارا عذاب راتوں رات آیا، یا جب کہ وہ دوپہر کو آرام کرنے والے تھے۔
5
فما كان دعواهم إذ جاءهم بأسنا إلا أن قالوا إنا كنا ظالمين
پھر ان کی پکار، جب ان پر ہمارا عذاب آیا، اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ انھوں نے کہا یقینا ہم ہی ظالم تھے۔
ابن کثیر ↑
6
فلنسألن الذين أرسل إليهم ولنسألن المرسلين
تو یقینا ہم ان لوگوں سے ضرور پوچھیں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور یقینا ہم رسولوں سے (بھی) ضرور پوچھیں گے۔
ابن کثیر ↑
7
فلنقصن عليهم بعلم وما كنا غائبين
پھر یقینا ہم ان کے سامنے ضرور پورے علم کے ساتھ بیان کریں گے اور ہم کہیں غائب نہ تھے۔
ابن کثیر ↑
8
والوزن يومئذ الحق فمن ثقلت موازينه فأولئك هم المفلحون
اور اس دن وزن حق ہے، پھر وہ شخص کہ اس کے پلڑے بھاری ہوگئے، تو وہی کامیاب ہونے والے ہیں۔
9
ومن خفت موازينه فأولئك الذين خسروا أنفسهم بما كانوا بآياتنا يظلمون
اور وہ شخص کہ اس کے پلڑے ہلکے ہوگئے تو یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا، اس لیے کہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ناانصافی کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
10
ولقد مكناكم في الأرض وجعلنا لكم فيها معايش قليلا ما تشكرون
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمھیں زمین میں ٹھکانا دیا اور ہم نے تمھارے لیے اس میں زندگی کے سامان بنائے، بہت کم تم شکر کرتے ہو۔
11
ولقد خلقناكم ثم صورناكم ثم قلنا للملائكة اسجدوا لآدم فسجدوا إلا إبليس لم يكن من الساجدين
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تمھارا خاکہ بنایا، پھر ہم نے تمھاری صورت بنائی، پھر ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس، وہ سجدہ کرنے والوں سے نہ ہوا۔
12
قال ما منعك ألا تسجد إذ أمرتك قال أنا خير منه خلقتني من نار وخلقته من طين
فرمایا تجھے کس چیز نے روکا کہ تو سجدہ نہیں کرتا، جب میں نے تجھے حکم دیا؟ اس نے کہا میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور تو نے اسے مٹی سے پیدا کیا ہے۔
13
قال فاهبط منها فما يكون لك أن تتكبر فيها فاخرج إنك من الصاغرين
فرمایا پھر اس سے اتر جا، کیونکہ تیرے لیے یہ نہ ہوگا کہ تو اس میں تکبر کرے۔ سو نکل جا، یقینا تو ذلیل ہونے والوں میں سے ہے۔
14
قال أنظرني إلى يوم يبعثون
اس نے کہا مجھے اس دن تک مہلت دے جب یہ اٹھائے جائیں گے۔
ابن کثیر ↑
15
قال إنك من المنظرين
فرمایا بے شک تو مہلت دیے جانے والوں سے ہے۔
ابن کثیر ↑
16
قال فبما أغويتني لأقعدن لهم صراطك المستقيم
اس نے کہا پھر اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں ضرور ہی ان کے لیے تیرے سیدھے راستے پر بیٹھوں گا۔
17
ثم لآتينهم من بين أيديهم ومن خلفهم وعن أيمانهم وعن شمائلهم ولا تجد أكثرهم شاكرين
پھر میں ہر صورت ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کی دائیں طرفوں سے اور ان کی بائیں طرفوں سے آئوں گا اور تو ان کے اکثر کو شکر کرنے والے نہیں پائے گا۔
ابن کثیر ↑
18
قال اخرج منها مذءوما مدحورا لمن تبعك منهم لأملأن جهنم منكم أجمعين
فرمایا اس سے نکل جا، مذمت کیا ہوا ، دھتکارا ہوا، بے شک ان میں سے جو تیرے پیچھے چلے گا میں ضرور ہی جہنم کو تم سب سے بھروں گا۔
19
ويا آدم اسكن أنت وزوجك الجنة فكلا من حيث شئتما ولا تقربا هذه الشجرة فتكونا من الظالمين
اور اے آدم ! تو اور تیری بیوی اس جنت میں رہو، پس دونوں کھائو جہاں سے چاہو اور اس درخت کے قریب مت جائو کہ دونوں ظالموں سے ہو جاؤ گے۔
20
فوسوس لهما الشيطان ليبدي لهما ما ووري عنهما من سوآتهما وقال ما نهاكما ربكما عن هذه الشجرة إلا أن تكونا ملكين أو تكونا من الخالدين
پھر شیطان نے ان دونوں کے لیے وسوسہ ڈالا، تاکہ ان کے لیے ظاہر کر دے جو کچھ ان کی شرم گاہوں میں سے ان سے چھپایا گیا تھا اور اس نے کہا تم دونوں کے رب نے تمھیں اس درخت سے منع نہیں کیا مگر اس لیے کہ کہیں تم دونوں فرشتے بن جاؤ، یا ہمیشہ رہنے والوں میں سے ہو جاؤ۔
ابن کثیر ↑
21
وقاسمهما إني لكما لمن الناصحين
اور اس نے دونوں سے بار بار قسم کھا کر کہا کہ بے شک میں تم دونوں کے لیے یقینا خیر خواہوں سے ہوں۔
ابن کثیر ↑
22
فدلاهما بغرور فلما ذاقا الشجرة بدت لهما سوآتهما وطفقا يخصفان عليهما من ورق الجنة وناداهما ربهما ألم أنهكما عن تلكما الشجرة وأقل لكما إن الشيطان لكما عدو مبين
پس اس نے دونوں کو دھوکے سے نیچے اتار لیا، پھر جب دونوں نے اس درخت کو چکھا تو ان کے لیے ان کی شرم گاہیں ظاہر ہوگئیں اور دونوں جنت کے پتوں سے (لے لے کر) اپنے آپ پر چپکانے لگے اور ان دونوں کو ان کے رب نے آواز دی کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہیں کیا اور تم دونوں سے نہیں کہا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے۔
23
قالا ربنا ظلمنا أنفسنا وإن لم تغفر لنا وترحمنا لنكونن من الخاسرين
دونوں نے کہا اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیا تو یقینا ہم ضرور خسارہ پانے والوں سے ہو جائیں گے۔
ابن کثیر ↑
24
قال اهبطوا بعضكم لبعض عدو ولكم في الأرض مستقر ومتاع إلى حين
فرمایا اتر جاؤ، تمھارا بعض بعض کا دشمن ہے اور تمھارے لیے زمین میں ایک وقت تک ایک ٹھکانا اور کچھ (زندگی کا) سامان ہے۔
25
قال فيها تحيون وفيها تموتون ومنها تخرجون
فرمایا تم اسی میں زندہ رہو گے اور اسی میں مرو گے اور اسی سے نکالے جاؤ گے۔
ابن کثیر ↑
26
يا بني آدم قد أنزلنا عليكم لباسا يواري سوآتكم وريشا ولباس التقوى ذلك خير ذلك من آيات الله لعلهم يذكرون
اے آدم کی اولاد! بے شک ہم نے تم پر لباس اتارا ہے، جو تمھاری شرم گاہوں کو چھپاتا ہے اور زینت بھی اور تقویٰ کالباس! وہ سب سے بہتر ہے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔
27
يا بني آدم لا يفتننكم الشيطان كما أخرج أبويكم من الجنة ينزع عنهما لباسهما ليريهما سوآتهما إنه يراكم هو وقبيله من حيث لا ترونهم إنا جعلنا الشياطين أولياء للذين لا يؤمنون
اے آدم کی اولاد! کہیں شیطان تمھیں فتنے میں نہ ڈال دے، جس طرح اس نے تمھارے ماں باپ کو جنت سے نکال دیا، وہ دونوں سے ان کے لباس اتارتا تھا، تاکہ دونوں کو ان کی شرم گاہیں دکھائے، بے شک وہ اور اس کا قبیلہ تمھیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انھیں نہیں دیکھتے۔ بے شک ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کے دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں رکھتے۔
28
وإذا فعلوا فاحشة قالوا وجدنا عليها آباءنا والله أمرنا بها قل إن الله لا يأمر بالفحشاء أتقولون على الله ما لا تعلمون
اور جب وہ کوئی بے حیائی کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اس پر پایا اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ کہہ دے بے شک اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا، کیا تم اللہ کے ذمے وہ بات لگاتے ہو جو تم نہیں جانتے۔
29
قل أمر ربي بالقسط وأقيموا وجوهكم عند كل مسجد وادعوه مخلصين له الدين كما بدأكم تعودون
کہہ دے میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے اور اپنے رخ ہر نماز کے وقت سیدھے رکھو اور اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے اس کو پکارو۔ جس طرح اس نے تمھاری ابتدا کی، اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے۔
30
فريقا هدى وفريقا حق عليهم الضلالة إنهم اتخذوا الشياطين أولياء من دون الله ويحسبون أنهم مهتدون
ایک گروہ کو اس نے ہدایت دی اور ایک گروہ، ان پر گمراہی ثابت ہو چکی، بے شک انھوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنا لیا اور سمجھتے ہیں کہ یقینا وہ ہدایت پانے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
31
يا بني آدم خذوا زينتكم عند كل مسجد وكلوا واشربوا ولا تسرفوا إنه لا يحب المسرفين
اے آدم کی اولاد! ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو اور کھائو اور پیو اور حد سے نہ گزرو، بے شک وہ حد سے گزرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
32
قل من حرم زينة الله التي أخرج لعباده والطيبات من الرزق قل هي للذين آمنوا في الحياة الدنيا خالصة يوم القيامة كذلك نفصل الآيات لقوم يعلمون
تو کہہ کس نے حرام کی اللہ کی زینت جو اس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی اور کھانے پینے کی پاکیزہ چیزیں؟ کہہ دے یہ چیزیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں (بھی) ہیں، جبکہ قیامت کے دن (ان کے لیے) خالص ہوں گی، اسی طرح ہم آیات کو ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتے ہیں جو جانتے ہیں۔
33
قل إنما حرم ربي الفواحش ما ظهر منها وما بطن والإثم والبغي بغير الحق وأن تشركوا بالله ما لم ينزل به سلطانا وأن تقولوا على الله ما لا تعلمون
کہہ دے میرے رب نے تو صرف بے حیائیوں کو حرام کیا ہے، جو ان میں سے ظاہر ہیں اور جو چھپی ہوئی ہیں اور گناہ کو اور ناحق زیادتی کو اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ اسے شریک ٹھہرائو جس کی اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم اللہ پر وہ کہو جو تم نہیں جانتے۔
34
ولكل أمة أجل فإذا جاء أجلهم لا يستأخرون ساعة ولا يستقدمون
اور ہر امت کے لیے ایک وقت ہے، پھر جب ان کا وقت آجاتا ہے تو وہ ایک گھڑی نہ پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے ہوتے ہیں۔
35
يا بني آدم إما يأتينكم رسل منكم يقصون عليكم آياتي فمن اتقى وأصلح فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون
اے آدم کی اولاد! اگر کبھی تمھارے پاس واقعی تم میں سے کچھ رسول آئیں، جو تمھارے سامنے میری آیات بیان کریں تو جو شخص ڈر گیا اور اس نے اصلاح کر لی تو ان پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غم کھائیں گے۔
ابن کثیر ↑
36
والذين كذبوا بآياتنا واستكبروا عنها أولئك أصحاب النار هم فيها خالدون
اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور انھیں ماننے سے تکبر کیا، وہی آگ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
37
فمن أظلم ممن افترى على الله كذبا أو كذب بآياته أولئك ينالهم نصيبهم من الكتاب حتى إذا جاءتهم رسلنا يتوفونهم قالوا أين ما كنتم تدعون من دون الله قالوا ضلوا عنا وشهدوا على أنفسهم أنهم كانوا كافرين
پھر اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے، یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں لکھے ہوئے میں سے ان کا حصہ ملے گا، یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے آئیں گے، جو انھیں قبض کریں گے تو کہیں گے کہاں ہیں وہ جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے تھے؟ کہیں گے وہ ہم سے گم ہوگئے اور وہ اپنے آپ پر شہادت دیں گے کہ وہ کافر تھے۔
38
قال ادخلوا في أمم قد خلت من قبلكم من الجن والإنس في النار كلما دخلت أمة لعنت أختها حتى إذا اداركوا فيها جميعا قالت أخراهم لأولاهم ربنا هؤلاء أضلونا فآتهم عذابا ضعفا من النار قال لكل ضعف ولكن لا تعلمون
فرمائے گا ان جماعتوں کے ہمراہ جو جنوں اور انسانوں میں سے تم سے پہلے گزر چکی ہیں، آگ میں داخل ہو جائو۔ جب بھی کوئی جماعت داخل ہوگی اپنے ساتھ والی کو لعنت کرے گی، یہاں تک کہ جس وقت سب ایک دوسرے سے آملیں گے تو ان کی پچھلی جماعت اپنے سے پہلی جماعت کے متعلق کہے گی اے ہمارے رب! ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا، تو انھیں آگ کا دگنا عذاب دے۔ فرمائے گا سبھی کے لیے دگنا ہے اور لیکن تم نہیں جانتے۔
39
وقالت أولاهم لأخراهم فما كان لكم علينا من فضل فذوقوا العذاب بما كنتم تكسبون
اور ان کی پہلی جماعت اپنی پچھلی جماعت سے کہے گی پھر تمھاری ہم پر کوئی برتری تو نہ ہوئی، تو عذاب چکھو اس کے بدلے جو تم کمایا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
40
إن الذين كذبوا بآياتنا واستكبروا عنها لا تفتح لهم أبواب السماء ولا يدخلون الجنة حتى يلج الجمل في سم الخياط وكذلك نجزي المجرمين
بے شک جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور انھیں قبول کرنے سے تکبر کیا، ان کے لیے نہ آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے اور ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔
41
لهم من جهنم مهاد ومن فوقهم غواش وكذلك نجزي الظالمين
ان کے لیے جہنم ہی کا بچھونا اور ان کے اوپر کے لحاف ہوں گے اور ہم ظالموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
42
والذين آمنوا وعملوا الصالحات لا نكلف نفسا إلا وسعها أولئك أصحاب الجنة هم فيها خالدون
اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت کے سوا تکلیف نہیں دیتے، یہ لوگ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
43
ونزعنا ما في صدورهم من غل تجري من تحتهم الأنهار وقالوا الحمد لله الذي هدانا لهذا وما كنا لنهتدي لولا أن هدانا الله لقد جاءت رسل ربنا بالحق ونودوا أن تلكم الجنة أورثتموها بما كنتم تعملون
اور ان کے سینوں میں جو بھی کینہ ہوگا ہم نکال دیں گے، ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ کہیں گے سب تعریف اللہ کی ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت دی اور ہم کبھی نہ تھے کہ ہدایت پاتے، اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دی، بلاشبہ یقینا ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے۔ اور انھیں آواز دی جائے گی کہ یہی وہ جنت ہے جس کے وارث تم اس کی وجہ سے بنائے گئے ہو جو تم کیا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
44
ونادى أصحاب الجنة أصحاب النار أن قد وجدنا ما وعدنا ربنا حقا فهل وجدتم ما وعد ربكم حقا قالوا نعم فأذن مؤذن بينهم أن لعنة الله على الظالمين
اور جنت والے آگ والوں کو آواز دیں گے کہ ہم نے تو واقعی وہ وعدہ سچا پالیا ہے جو ہم سے ہمارے رب نے کیا تھا، تو کیا تم نے وہ وعدہ سچا پا لیا جو تمھارے رب نے تم سے کیا تھا؟ وہ کہیں گے ہاں! پھر ان کے درمیان ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔
45
الذين يصدون عن سبيل الله ويبغونها عوجا وهم بالآخرة كافرون
جو اللہ کے راستے سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہیں اور وہ آخرت کے منکر ہیں۔
ابن کثیر ↑
46
وبينهما حجاب وعلى الأعراف رجال يعرفون كلا بسيماهم ونادوا أصحاب الجنة أن سلام عليكم لم يدخلوها وهم يطمعون
اور ان دونوں کے درمیان ایک آڑ ہوگی اور (اس کی) بلندیوں پر کچھ مرد ہوں گے، جو سب کو ان کی نشانی سے پہچانیں گے اور وہ جنت والوں کو آواز دیں گے کہ تم پر سلام ہے۔ وہ اس میں داخل نہ ہوئے ہوں گے اور وہ طمع رکھتے ہوں گے۔
47
وإذا صرفت أبصارهم تلقاء أصحاب النار قالوا ربنا لا تجعلنا مع القوم الظالمين
اور جب ان کی نگاہیں آگ والوں کی طرف پھیری جائیں گی تو کہیں گے اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے ساتھ مت کر۔
ابن کثیر ↑
48
ونادى أصحاب الأعراف رجالا يعرفونهم بسيماهم قالوا ما أغنى عنكم جمعكم وما كنتم تستكبرون
اور ان بلندیوں والے کچھ مردوں کو آواز دیں گے، جنھیں وہ ان کی نشانی سے پہچانتے ہوں گے، کہیں گے تمھارے کام نہ تمھاری جماعت آئی اور نہ جو تم بڑے بنتے تھے۔
49
أهؤلاء الذين أقسمتم لا ينالهم الله برحمة ادخلوا الجنة لا خوف عليكم ولا أنتم تحزنون
کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم نے قسمیں کھائی تھیں کہ اللہ انھیں کوئی رحمت نہیں پہنچائے گا؟ جنت میں داخل ہو جاؤ، نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہوگے۔
ابن کثیر ↑
50
ونادى أصحاب النار أصحاب الجنة أن أفيضوا علينا من الماء أو مما رزقكم الله قالوا إن الله حرمهما على الكافرين
اور آگ والے جنت والوں کو آواز دیں گے کہ ہم پر کچھ پانی بہا دو، یا اس میں سے کچھ جو اللہ نے تمھیں رزق دیا ہے۔ وہ کہیں گے بے شک اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں پر حرام کر دی ہیں۔