🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة الأعراف
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
51
الذين اتخذوا دينهم لهوا ولعبا وغرتهم الحياة الدنيا فاليوم ننساهم كما نسوا لقاء يومهم هذا وما كانوا بآياتنا يجحدون
وہ جنھوں نے اپنے دین کو دل لگی اور کھیل بنا لیا اور انھیں دنیا کی زندگی نے دھوکا دیا تو آج ہم انھیں بھلا دیں گے، جیسے وہ اپنے اس دن کی ملاقات کو بھول گئے اور جیسے وہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
52
ولقد جئناهم بكتاب فصلناه على علم هدى ورحمة لقوم يؤمنون
اور بلاشبہ یقینا ہم ان کے پاس ایسی کتاب لائے ہیں جسے ہم نے علم کی بنا پر خوب کھول کر بیان کیا ہے، ان لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت بنا کر جو ایمان رکھتے ہیں۔
53
هل ينظرون إلا تأويله يوم يأتي تأويله يقول الذين نسوه من قبل قد جاءت رسل ربنا بالحق فهل لنا من شفعاء فيشفعوا لنا أو نرد فنعمل غير الذي كنا نعمل قد خسروا أنفسهم وضل عنهم ما كانوا يفترون
وہ اس کے انجام کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟ جس دن اس کا انجام آ پہنچے گا تو وہ لوگ جنھوں نے اس سے پہلے اسے بھلا دیا تھا، کہیں گے یقینا ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے، تو کیا ہمارے لیے کوئی سفارش کرنے والے ہیں کہ وہ ہمارے لیے سفارش کریں، یا ہمیں واپس بھیجا جائے تو ہم اس کے بر خلاف عمل کریں جو ہم کیا کرتے تھے۔ بلاشبہ انھوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈالا اور ان سے گم ہوگیا جو وہ جھوٹ باندھا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
54
إن ربكم الله الذي خلق السماوات والأرض في ستة أيام ثم استوى على العرش يغشي الليل النهار يطلبه حثيثا والشمس والقمر والنجوم مسخرات بأمره ألا له الخلق والأمر تبارك الله رب العالمين
بے شک تمھارا رب اللہ ہے، جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر وہ عرش پر بلند ہوا، رات کو دن پر اوڑھا دیتا ہے، جو تیز چلتا ہوا اس کے پیچھے چلا آتا ہے اور سورج اور چاند اور ستارے (پیدا کیے) اس حال میں کہ اس کے حکم سے تابع کیے ہوئے ہیں، سن لو! پیدا کرنا اور حکم دینا اسی کا کام ہے، بہت برکت والا ہے اللہ جو سارے جہانوں کا رب ہے۔
55
ادعوا ربكم تضرعا وخفية إنه لا يحب المعتدين
اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔
56
ولا تفسدوا في الأرض بعد إصلاحها وادعوه خوفا وطمعا إن رحمت الله قريب من المحسنين
اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت پھیلائو اور اسے خوف اور طمع سے پکارو، بے شک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔
ابن کثیر ↑
57
وهو الذي يرسل الرياح بشرا بين يدي رحمته حتى إذا أقلت سحابا ثقالا سقناه لبلد ميت فأنزلنا به الماء فأخرجنا به من كل الثمرات كذلك نخرج الموتى لعلكم تذكرون
اور وہی ہے جو ہوائوں کو اپنی رحمت سے پہلے بھیجتا ہے، اس حال میں کہ خوش خبری دینے والی ہیں، یہاں تک کہ جب وہ بھاری بادل اٹھاتی ہیں تو ہم اسے کسی مردہ شہر کی طرف ہانکتے ہیں، پھر اس سے پانی اتارتے ہیں، پھر اس کے ساتھ ہر قسم کے کچھ پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مُردوں کو نکالیں گے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔
58
والبلد الطيب يخرج نباته بإذن ربه والذي خبث لا يخرج إلا نكدا كذلك نصرف الآيات لقوم يشكرون
اور جو شہر پاکیزہ ہے اس کی کھیتی اس کے رب کے حکم سے نکلتی ہے اور جو خراب ہے (اس کی کھیتی) ناقص کے سوا نہیں نکلتی۔ اس طرح ہم آیات کو ان لوگوں کے لیے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں جو شکر کرتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
59
لقد أرسلنا نوحا إلى قومه فقال يا قوم اعبدوا الله ما لكم من إله غيره إني أخاف عليكم عذاب يوم عظيم
بلاشبہ یقینا ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تو اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، بے شک میں تم پر ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
60
قال الملأ من قومه إنا لنراك في ضلال مبين
اس کی قوم میں سے سرداروں نے کہا بے شک ہم یقینا تجھے کھلی گمراہی میں دیکھ رہے ہیں۔
ابن کثیر ↑
61
قال يا قوم ليس بي ضلالة ولكني رسول من رب العالمين
اس نے کہا اے میری قوم! مجھ میں کوئی گمراہی نہیں اور لیکن میں جہانوں کے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں۔
ابن کثیر ↑
62
أبلغكم رسالات ربي وأنصح لكم وأعلم من الله ما لا تعلمون
میں تمھیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور تمھاری خیرخواہی کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
ابن کثیر ↑
63
أوعجبتم أن جاءكم ذكر من ربكم على رجل منكم لينذركم ولتتقوا ولعلكم ترحمون
اور کیا تم نے عجیب سمجھا کہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے تم میں سے ایک آدمی پر ایک عظیم الشان نصیحت آئی، تاکہ وہ تمھیں ڈرائے اور تاکہ تم بچ جائو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
64
فكذبوه فأنجيناه والذين معه في الفلك وأغرقنا الذين كذبوا بآياتنا إنهم كانوا قوما عمين
پھر انھوں نے اسے جھٹلا دیا تو ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو کشتی میں اس کے ساتھ تھے، بچا لیا اور ان لوگوں کو غرق کر دیا جنھوں نے ہماری آیا ت کو جھٹلایا۔ یقینا وہ اندھے لوگ تھے۔
ابن کثیر ↑
65
وإلى عاد أخاهم هودا قال يا قوم اعبدوا الله ما لكم من إله غيره أفلا تتقون
اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا)، اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم نہیں ڈرتے؟
66
قال الملأ الذين كفروا من قومه إنا لنراك في سفاهة وإنا لنظنك من الكاذبين
اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے جنھوں نے کفرکیا، کہا بے شک ہم یقینا تجھے بہت بڑی بے وقوفی میں (مبتلا) دیکھ رہے ہیں اور بے شک ہم یقینا تجھے جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
67
قال يا قوم ليس بي سفاهة ولكني رسول من رب العالمين
اس نے کہا اے میری قوم! مجھ میں کوئی بے وقوفی نہیں اور لیکن میں سارے جہانوں کے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہوں۔
ابن کثیر ↑
68
أبلغكم رسالات ربي وأنا لكم ناصح أمين
میں تمھیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور میں تمھارے لیے ایک امانت دار، خیر خواہ ہوں۔
ابن کثیر ↑
69
أوعجبتم أن جاءكم ذكر من ربكم على رجل منكم لينذركم واذكروا إذ جعلكم خلفاء من بعد قوم نوح وزادكم في الخلق بسطة فاذكروا آلاء الله لعلكم تفلحون
اور کیا تم نے عجیب سمجھا کہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے تم میںسے ایک آدمی پر عظیم الشان نصیحت آئی، تاکہ وہ تمھیں ڈرائے اور یاد کرو جب اس نے تمھیں نوح کی قوم کے بعد جانشین بنایا اور تمھیں قد و قامت میں زیادہ پھیلاؤ دیا۔ سو اللہ کی نعمتیں یاد کرو، تاکہ تم فلاح پاؤ۔
ابن کثیر ↑
70
قالوا أجئتنا لنعبد الله وحده ونذر ما كان يعبد آباؤنا فأتنا بما تعدنا إن كنت من الصادقين
انھوں نے کہا کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم اس اکیلے اللہ کی عبادت کریں اور انھیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ تو جس کی دھمکی تو ہمیں دیتا ہے وہ ہم پر لے آ، اگر تو سچوں میں سے ہے۔
71
قال قد وقع عليكم من ربكم رجس وغضب أتجادلونني في أسماء سميتموها أنتم وآباؤكم ما نزل الله بها من سلطان فانتظروا إني معكم من المنتظرين
اس نے کہا یقینا تم پر تمھارے رب کی طرف سے بھاری عذاب اور غضب آپڑا ہے، کیا تم مجھ سے ان ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، جن کی کوئی دلیل اللہ نے نازل نہیں فرمائی۔ تو انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔
ابن کثیر ↑
72
فأنجيناه والذين معه برحمة منا وقطعنا دابر الذين كذبوا بآياتنا وما كانوا مؤمنين
توہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، اپنی عظیم رحمت سے نجات دی اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ ایمان والے نہ تھے۔
ابن کثیر ↑
73
وإلى ثمود أخاهم صالحا قال يا قوم اعبدوا الله ما لكم من إله غيره قد جاءتكم بينة من ربكم هذه ناقة الله لكم آية فذروها تأكل في أرض الله ولا تمسوها بسوء فيأخذكم عذاب أليم
اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (بھیجا)، اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آ چکی۔ یہ اللہ کی اونٹنی تمھارے لیے ایک نشانی کے طور پر ہے، سو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھاتی پھرے اور اسے کسی برے طریقے سے ہاتھ نہ لگانا، ورنہ تمھیں ایک درد ناک عذاب پکڑ لے گا۔
74
واذكروا إذ جعلكم خلفاء من بعد عاد وبوأكم في الأرض تتخذون من سهولها قصورا وتنحتون الجبال بيوتا فاذكروا آلاء الله ولا تعثوا في الأرض مفسدين
اور یاد کرو جب اس نے تمھیں عاد کے بعد جانشین بنایا اور تمھیں زمین میں جگہ دی، تم اس کے میدانوں میں محل بناتے ہو اور پہاڑوں کو مکانوں کی صورت میں تراشتے ہو۔ سو اللہ کی نعمتیں یاد کرو اور زمین میں فساد کرتے ہوئے دنگا نہ مچاؤ۔
ابن کثیر ↑
75
قال الملأ الذين استكبروا من قومه للذين استضعفوا لمن آمن منهم أتعلمون أن صالحا مرسل من ربه قالوا إنا بما أرسل به مؤمنون
اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے، ان لوگوں سے کہا جو کمزور گنے جاتے تھے، ان میں سے انھیں (کہا) جو ایمان لے آئے تھے، کیا تم جانتے ہو کہ صالح اپنے رب کی طرف سے بھیجا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا بے شک ہم جو کچھ دے کر اسے بھیجا گیا ہے اس پر ایمان لانے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
76
قال الذين استكبروا إنا بالذي آمنتم به كافرون
وہ لوگ جو بڑے بنے ہوئے تھے، انھوں نے کہا بے شک ہم جس پر تم ایمان لائے ہو، اس کے منکر ہیں۔
ابن کثیر ↑
77
فعقروا الناقة وعتوا عن أمر ربهم وقالوا يا صالح ائتنا بما تعدنا إن كنت من المرسلين
تو انھوں نے اونٹنی کو کاٹ ڈالا اور اپنے رب کے حکم سے سرکش ہوگئے اور انھوں نے کہا اے صالح! لے آ ہم پر جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے، اگر تو رسولوں سے ہے۔
ابن کثیر ↑
78
فأخذتهم الرجفة فأصبحوا في دارهم جاثمين
تو انھیں زلزلے نے پکڑ لیا تو انھوں نے اس حال میں صبح کی کہ اپنے گھر میں گرے پڑے تھے۔
ابن کثیر ↑
79
فتولى عنهم وقال يا قوم لقد أبلغتكم رسالة ربي ونصحت لكم ولكن لا تحبون الناصحين
تو وہ ان سے واپس لوٹا اور اس نے کہا اے میری قوم! بلاشبہ یقینا میں نے تمھیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور میں نے تمھاری خیرخواہی کی اور لیکن تم خیرخواہوں کو پسند نہیں کرتے۔
80
ولوطا إذ قال لقومه أتأتون الفاحشة ما سبقكم بها من أحد من العالمين
اور لوط کو (بھیجا)، جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم اس بے حیائی کا ارتکاب کرتے ہو جو تم سے پہلے جہانوں میں سے کسی نے نہیں کی۔
81
إنكم لتأتون الرجال شهوة من دون النساء بل أنتم قوم مسرفون
بے شک تم تو عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت سے آتے ہو، بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو۔
ابن کثیر ↑
82
وما كان جواب قومه إلا أن قالوا أخرجوهم من قريتكم إنهم أناس يتطهرون
اور اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انھوں نے کہا انھیں اپنی بستی سے نکال دو، بے شک یہ ایسے لوگ ہیں جو بہت پاک بنتے ہیں۔
83
فأنجيناه وأهله إلا امرأته كانت من الغابرين
تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو بچا لیا مگر اس کی بیوی، وہ پیچھے رہنے والوں میں سے تھی۔
84
وأمطرنا عليهم مطرا فانظر كيف كان عاقبة المجرمين
اور ہم نے ان پر بارش برسائی، ایک زبردست بارش۔ پس دیکھ مجرموں کا انجام کیسا ہوا؟
ابن کثیر ↑
85
وإلى مدين أخاهم شعيبا قال يا قوم اعبدوا الله ما لكم من إله غيره قد جاءتكم بينة من ربكم فأوفوا الكيل والميزان ولا تبخسوا الناس أشياءهم ولا تفسدوا في الأرض بعد إصلاحها ذلكم خير لكم إن كنتم مؤمنين
اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو (بھیجا)، اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، بے شک تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل آچکی۔ پس ماپ اور تول پورا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد نہ پھیلائو، یہ تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم مومن ہو۔
86
ولا تقعدوا بكل صراط توعدون وتصدون عن سبيل الله من آمن به وتبغونها عوجا واذكروا إذ كنتم قليلا فكثركم وانظروا كيف كان عاقبة المفسدين
اور ہر راستے پر نہ بیٹھو کہ دھمکاتے ہو اور اللہ کے راستے سے روکتے ہو ہر اس شخص کو جو اس پر ایمان لائے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہو۔ اور یاد کرو جب تم بہت کم تھے تو اس نے تمھیں زیادہ کر دیا اور دیکھو فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا؟
87
وإن كان طائفة منكم آمنوا بالذي أرسلت به وطائفة لم يؤمنوا فاصبروا حتى يحكم الله بيننا وهو خير الحاكمين
اور اگر تم میں سے کچھ لوگ اس پر ایمان لے آئے ہیں جو دے کر مجھے بھیجا گیا ہے اور کچھ لوگ ایمان نہیں لائے تو صبر کرو، یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔
ابن کثیر ↑
88
قال الملأ الذين استكبروا من قومه لنخرجنك يا شعيب والذين آمنوا معك من قريتنا أو لتعودن في ملتنا قال أولو كنا كارهين
اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے کہا جو بڑے بنے ہوئے تھے، اے شعیب! ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ہمراہ ایمان لائے ہیں، اپنی بستی سے ضرور ہی نکال دیں گے، یا ہر صورت تم ہمارے دین میں واپس آئو گے۔ اس نے کہا اور کیا اگرچہ ہم ناپسند کرنے والے ہوں؟
89
قد افترينا على الله كذبا إن عدنا في ملتكم بعد إذ نجانا الله منها وما يكون لنا أن نعود فيها إلا أن يشاء الله ربنا وسع ربنا كل شيء علما على الله توكلنا ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وأنت خير الفاتحين
یقینا ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھا اگر ہم تمھاری ملت میں پھر آجائیں،اس کے بعد کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دی اور ہمارے لیے ممکن نہیں کہ اس میں پھر آجائیں مگر یہ کہ اللہ چاہے، جو ہمارا رب ہے، ہمارے رب نے ہر چیز کا علم سے احاطہ کر رکھا ہے، ہم نے اللہ ہی پر بھروسا کیا، اے ہمارے رب! ہمارے درمیان اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔
ابن کثیر ↑
90
وقال الملأ الذين كفروا من قومه لئن اتبعتم شعيبا إنكم إذا لخاسرون
اور اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے کہا جنھوں نے کفر کیا بے شک اگر تم شعیب کے پیچھے چلے تو بے شک تم اس وقت ضرور خسارہ اٹھانے والے ہو۔
91
فأخذتهم الرجفة فأصبحوا في دارهم جاثمين
تو انھیں زلزلے نے پکڑ لیا، تو انھوں نے اس حال میں صبح کی کہ اپنے گھر میں گرے پڑے تھے۔
ابن کثیر ↑
92
الذين كذبوا شعيبا كأن لم يغنوا فيها الذين كذبوا شعيبا كانوا هم الخاسرين
وہ لوگ جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا گویا وہ اس میں بسے ہی نہ تھے، وہ لوگ جنھوں نے شعیب کو جھٹلایا وہی خسارہ اٹھانے والے تھے۔
ابن کثیر ↑
93
فتولى عنهم وقال يا قوم لقد أبلغتكم رسالات ربي ونصحت لكم فكيف آسى على قوم كافرين
پھر وہ ان سے واپس لوٹا اور اس نے کہا اے میری قوم! بلاشبہ یقینا میں نے تمھیں اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے اور میں نے تمھاری خیرخواہی کی، تو میں نہ ماننے والے لوگوں پر کیسے غم کروں۔
94
وما أرسلنا في قرية من نبي إلا أخذنا أهلها بالبأساء والضراء لعلهم يضرعون
اور ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی نہیں بھیجا مگر اس کے رہنے والوں کو تنگی اور تکلیف کے ساتھ پکڑا، تاکہ وہ گڑ گڑائیں۔
95
ثم بدلنا مكان السيئة الحسنة حتى عفوا وقالوا قد مس آباءنا الضراء والسراء فأخذناهم بغتة وهم لا يشعرون
پھر ہم نے اس بدحالی کی جگہ خوشحالی بدل کر دے دی، یہاں تک کہ وہ خوب بڑھ گئے اور انھوں نے کہا یہ تکلیف اور خوشی تو ہمارے باپ دادا کو (بھی) پہنچی تھی۔ تو ہم نے انھیں اچانک اس حال میں پکڑ لیا کہ وہ سوچتے نہ تھے۔
ابن کثیر ↑
96
ولو أن أهل القرى آمنوا واتقوا لفتحنا عليهم بركات من السماء والأرض ولكن كذبوا فأخذناهم بما كانوا يكسبون
اور اگر بستیوں والے ایمان لے آتے اور بچ کر چلتے تو ہم ضرور ان پر آسمان اور زمین سے بہت سی برکتیں کھول دیتے اور لیکن انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے انھیں اس کی وجہ سے پکڑ لیا جو وہ کمایا کرتے تھے۔
97
أفأمن أهل القرى أن يأتيهم بأسنا بياتا وهم نائمون
تو کیا بستیوں والے بے خوف ہوگئے کہ ہمارا عذاب ان پر راتوں رات آجائے اور وہ سوئے ہوئے ہوں۔
98
أوأمن أهل القرى أن يأتيهم بأسنا ضحى وهم يلعبون
اور کیا بستیوں والے بے خوف ہوگئے کہ ہمارا عذاب ان پر دن چڑھے آجائے اور وہ کھیل رہے ہوں۔
ابن کثیر ↑
99
أفأمنوا مكر الله فلا يأمن مكر الله إلا القوم الخاسرون
پھر کیا وہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہوگئے ہیں، تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو خسارہ اٹھانے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
100
أولم يهد للذين يرثون الأرض من بعد أهلها أن لو نشاء أصبناهم بذنوبهم ونطبع على قلوبهم فهم لا يسمعون
اور کیا اس بات نے ان لوگوں کی رہنمائی نہیں کی جو زمین کے وارث اس کے رہنے والوں کے بعد بنتے ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کی وجہ سے انھیں سزا دیں اور ہم ان کے دلوں پر مہر کر دیتے ہیں تو وہ نہیں سنتے۔
ابن کثیر ↑