🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة القيامة
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
لا أقسم بيوم القيامة
نہیں، میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں!
2
ولا أقسم بالنفس اللوامة
اور نہیں، میںبہت ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں!
ابن کثیر ↑
3
أيحسب الإنسان ألن نجمع عظامه
کیا انسان گمان کرتا ہے کہ ہم کبھی اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے۔
ابن کثیر ↑
4
بلى قادرين على أن نسوي بنانه
کیوں نہیں؟ (ہم انھیں اکٹھا کریں گے) اس حال میں کہ ہم قادر ہیں کہ اس (کی انگلیوں) کے پورے درست کر (کے بنا) دیں۔
ابن کثیر ↑
5
بل يريد الإنسان ليفجر أمامه
بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے (آنے والے دنوں میں بھی) نافرمانی کرتا رہے۔
ابن کثیر ↑
6
يسأل أيان يوم القيامة
وہ پوچھتا ہے اٹھ کھڑے ہونے کا دن کب ہو گا؟
ابن کثیر ↑
7
فإذا برق البصر
پھر جب آنکھ پتھرا جائے گی۔
ابن کثیر ↑
8
وخسف القمر
اور چاند گہنا جائے گا۔
ابن کثیر ↑
9
وجمع الشمس والقمر
اور سورج اور چاند اکٹھے کر دیے جائیں گے۔
10
يقول الإنسان يومئذ أين المفر
انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟
ابن کثیر ↑
11
كلا لا وزر
ہرگز نہیں، پناہ کی جگہ کوئی نہیں۔
ابن کثیر ↑
12
إلى ربك يومئذ المستقر
اس دن تیرے رب ہی کی طرف جا ٹھہرنا ہے۔
ابن کثیر ↑
13
ينبأ الإنسان يومئذ بما قدم وأخر
اس دن انسان کو بتایا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔
ابن کثیر ↑
14
بل الإنسان على نفسه بصيرة
بلکہ انسان اپنے آپ کو خوب دیکھنے والا ہے۔
ابن کثیر ↑
15
ولو ألقى معاذيره
اگرچہ وہ اپنے بہانے پیش کرے۔
ابن کثیر ↑
16
لا تحرك به لسانك لتعجل به
تو اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دے، تاکہ اسے جلدی حاصل کرلے۔
17
إن علينا جمعه وقرآنه
بلاشبہ اس کوجمع کرنا اور (آپ کا ) اس کو پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔
ابن کثیر ↑
18
فإذا قرأناه فاتبع قرآنه
تو جب ہم اسے پڑھیں تو تو اس کے پڑھنے کی پیروی کر۔
19
ثم إن علينا بيانه
پھر بلاشبہ اسے واضح کرنا ہمارے ذمے ہے۔
ابن کثیر ↑
20
كلا بل تحبون العاجلة
ہرگز نہیں، بلکہ تم جلدی ملنے والی کو پسند کرتے ہو۔
ابن کثیر ↑
21
وتذرون الآخرة
اور بعد میں آنے والی کو چھوڑ دیتے ہو۔
ابن کثیر ↑
22
وجوه يومئذ ناضرة
اس دن کئی چہرے ترو تازہ ہوں گے۔
ابن کثیر ↑
23
إلى ربها ناظرة
اپنے رب کی طرف دیکھنے والے۔
ابن کثیر ↑
24
ووجوه يومئذ باسرة
اور کئی چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے۔
ابن کثیر ↑
25
تظن أن يفعل بها فاقرة
وہ یقین کریں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑنے والی(سختی) کی جائے گی۔
ابن کثیر ↑
26
كلا إذا بلغت التراقي
ہرگز نہیں، ( وہ وقت یاد کرو) جب (جان) ہنسلیوں تک پہنچ جائے گی۔
27
وقيل من راق
اور کہا جائے گا کون ہے دم کرنے والا؟
ابن کثیر ↑
28
وظن أنه الفراق
اوروہ یقین کرلے گا کہ یہ جدائی ہے۔
ابن کثیر ↑
29
والتفت الساق بالساق
اور پنڈلی، پنڈلی کے ساتھ لپٹ جائے گی۔
ابن کثیر ↑
30
إلى ربك يومئذ المساق
اس دن تیرے رب ہی کی طرف روانگی ہے۔
ابن کثیر ↑
31
فلا صدق ولا صلى
سو نہ اس نے سچ مانا اور نہ نماز ادا کی۔
ابن کثیر ↑
32
ولكن كذب وتولى
اور لیکن اس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا۔
ابن کثیر ↑
33
ثم ذهب إلى أهله يتمطى
پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چلا۔
34
أولى لك فأولى
یہی تیرے لائق ہے، پھر یہی لائق ہے ۔
ابن کثیر ↑
35
ثم أولى لك فأولى
پھر تیرے لائق یہی ہے، پھر یہی لائق ہے۔
ابن کثیر ↑
36
أيحسب الإنسان أن يترك سدى
کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اسے بغیر پوچھے ہی چھوڑ دیا جائے گا؟
ابن کثیر ↑
37
ألم يك نطفة من مني يمنى
کیا وہ منی کا ایک قطرہ نہیں تھا جو گرایا جاتا ہے۔
ابن کثیر ↑
38
ثم كان علقة فخلق فسوى
پھر وہ جما ہوا خون بنا، پھر اس نے پیدا کیا، پس درست بنا دیا۔
ابن کثیر ↑
39
فجعل منه الزوجين الذكر والأنثى
پھر اس نے اس سے دو قسمیں نر اور مادہ بنائیں۔
ابن کثیر ↑
40
أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى
کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے؟
ابن کثیر ↑