🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

قرآن مجيد
سورة المرسلات
فہرست میں اپنا مطلوبہ لفظ تلاش کریں:
[اردو ترجمہ عبدالسلام بن محمد]
نمبر آیت تفسیر
1
والمرسلات عرفا
قسم ہے ان ( ہوائوں) کی جو جانے پہچانے معمول کے مطابق چھوڑی جاتی ہیں!
2
فالعاصفات عصفا
پھر جو تند ہو کر تیز چلنے والی ہیں!
ابن کثیر ↑
3
والناشرات نشرا
اور جو(بادلوں کو اٹھاکر) پھیلا دینے والی ہیں! خوب پھیلانا۔
ابن کثیر ↑
4
فالفارقات فرقا
پھر جو (انھیں) پھاڑ کر جدا جدا کر دینے والی ہیں!
ابن کثیر ↑
5
فالملقيات ذكرا
پھر جو ( دلوں میں) یاد( الٰہی) ڈالنے والی ہیں!
ابن کثیر ↑
6
عذرا أو نذرا
عذر کے لیے، یا ڈرانے کے لیے۔
ابن کثیر ↑
7
إنما توعدون لواقع
بے شک تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جاتا ہے یقینا ہو کر رہنے والی ہے۔
ابن کثیر ↑
8
فإذا النجوم طمست
پس جب ستارے مٹا دیے جائیں گے۔
ابن کثیر ↑
9
وإذا السماء فرجت
اور جب آسمان کھولا جائے گا۔
ابن کثیر ↑
10
وإذا الجبال نسفت
اور جب پہاڑ اڑا دیے جائیں گے۔
ابن کثیر ↑
11
وإذا الرسل أقتت
اور جب (وہ وقت آجائے گا) جو رسولوں کے ساتھ مقرر کیا گیا۔
ابن کثیر ↑
12
لأي يوم أجلت
( یہ سب چیزیں) کس دن کے لیے مؤخر کی گئی ہیں؟
ابن کثیر ↑
13
ليوم الفصل
فیصلے کے دن کے لیے۔
ابن کثیر ↑
14
وما أدراك ما يوم الفصل
اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایاکہ فیصلے کادن کیا ہے؟
ابن کثیر ↑
15
ويل يومئذ للمكذبين
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
ابن کثیر ↑
16
ألم نهلك الأولين
کیا ہم نے پہلوں کو ہلاک نہیں کیا؟
17
ثم نتبعهم الآخرين
پھر ہم ان کے پیچھے دوسروں کو بھیجتے رہتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
18
كذلك نفعل بالمجرمين
ہم مجرموں کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
19
ويل يومئذ للمكذبين
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
ابن کثیر ↑
20
ألم نخلقكم من ماء مهين
کیا ہم نے تمھیں ایک حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا؟
ابن کثیر ↑
21
فجعلناه في قرار مكين
پھر ہم نے اسے ایک مضبوط ٹھکانے میں رکھا۔
ابن کثیر ↑
22
إلى قدر معلوم
ایک معلوم اندازے تک۔
ابن کثیر ↑
23
فقدرنا فنعم القادرون
پس ہم نے اندازہ کیا تو ہم اچھے اندازہ کرنے والے ہیں۔
ابن کثیر ↑
24
ويل يومئذ للمكذبين
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
ابن کثیر ↑
25
ألم نجعل الأرض كفاتا
کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا؟
ابن کثیر ↑
26
أحياء وأمواتا
زندوں کو اور مردوں کو۔
ابن کثیر ↑
27
وجعلنا فيها رواسي شامخات وأسقيناكم ماء فراتا
اور ہم نے اس میں بلند پہاڑ بنائے اور ہم نے تمھیں نہایت میٹھا پانی پلانے کے لیے دیا۔
ابن کثیر ↑
28
ويل يومئذ للمكذبين
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
ابن کثیر ↑
29
انطلقوا إلى ما كنتم به تكذبون
اس چیز کی طرف چلو جسے تم جھٹلاتے تھے۔
30
انطلقوا إلى ظل ذي ثلاث شعب
ایک سائے کی طرف چلو جو تین شاخوں والا ہے۔
ابن کثیر ↑
31
لا ظليل ولا يغني من اللهب
نہ سایہ کرنے والا ہے اور نہ وہ شعلے سے کسی کام آتا ہے۔
ابن کثیر ↑
32
إنها ترمي بشرر كالقصر
بلاشبہ وہ (آگ) محل جیسے شرارے پھینکے گی۔
ابن کثیر ↑
33
كأنه جمالت صفر
جیسے وہ زرد اونٹ ہوں۔
ابن کثیر ↑
34
ويل يومئذ للمكذبين
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
ابن کثیر ↑
35
هذا يوم لا ينطقون
یہ دن ہے کہ وہ نہیں بولیں گے۔
ابن کثیر ↑
36
ولا يؤذن لهم فيعتذرون
اور نہ انھیں اجازت دی جائے گی کہ وہ عذر کریں۔
ابن کثیر ↑
37
ويل يومئذ للمكذبين
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
ابن کثیر ↑
38
هذا يوم الفصل جمعناكم والأولين
یہ فیصلے کا دن ہے، ہم نے تمھیں اور پہلوں کو اکٹھا کر دیا ہے۔
ابن کثیر ↑
39
فإن كان لكم كيد فكيدون
تو اگر تمھارے پاس کوئی خفیہ تدبیر ہے تو میرے ساتھ کر لو۔
ابن کثیر ↑
40
ويل يومئذ للمكذبين
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
ابن کثیر ↑
41
إن المتقين في ظلال وعيون
یقینا پرہیز گار لوگ اس دن سایوں اور چشموں میں ہوں گے۔
42
وفواكه مما يشتهون
اور پھلوں میں، جس قسم میں سے وہ چاہیں گے۔
ابن کثیر ↑
43
كلوا واشربوا هنيئا بما كنتم تعملون
مزے سے کھاؤ اور پیو، اس کے عوض جو تم کیا کرتے تھے۔
ابن کثیر ↑
44
إنا كذلك نجزي المحسنين
یقینا ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔
ابن کثیر ↑
45
ويل يومئذ للمكذبين
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
ابن کثیر ↑
46
كلوا وتمتعوا قليلا إنكم مجرمون
(اے جھٹلانے والو!) کھالو اور تھوڑا سا فائدہ اٹھا لو، یقینا تم مجرم ہو۔
ابن کثیر ↑
47
ويل يومئذ للمكذبين
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
ابن کثیر ↑
48
وإذا قيل لهم اركعوا لا يركعون
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جھک جاؤ تو وہ نہیں جھکتے۔
ابن کثیر ↑
49
ويل يومئذ للمكذبين
اس دن جھٹلانے والوں کے لیے بڑی ہلاکت ہے۔
ابن کثیر ↑
50
فبأي حديث بعده يؤمنون
پھر اس کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے؟
ابن کثیر ↑