اور جب اللہ تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کر رہا تھا کہ وہ تمھارے لیے ہو گا اور تم چاہتے تھے کہ جو کانٹے والا نہیں وہ تمھیں مل جائے اور اللہ چاہتا تھا کہ حق کو اپنی باتوں کے ساتھ سچا کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔[7]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاِذۡ
یَعِدُکُمُ
اللّٰہُ
اِحۡدَی
الطَّآئِفَتَیۡنِ
اَنَّہَا
لَکُمۡ
وَتَوَدُّوۡنَ
اَنَّ
غَیۡرَ
ذَاتِ الشَّوۡکَۃِ
تَکُوۡنُ
لَکُمۡ
وَ یُرِیۡدُ
اللّٰہُ
اَنۡ
یُّحِقَّ
الۡحَقَّ
بِکَلِمٰتِہٖ
وَیَقۡطَعَ
دَابِرَ
الۡکٰفِرِیۡنَ
اور جب
وعدہ کررہا تھا تم سے
اللہ
ایک کا
دو گروہوں میں سے
بیشک وہ
تمہارے لیے ہے
اور تم چاہتے تھے
بیشک
بغیر
ہتھیار والا
ہوجائے
تمہارے لیے
اور چاہتا تھا
اللہ
کہ
وہ ثابت کردے
حق کو
اپنے کلمات سے
اور وہ کاٹ ڈالے
جڑ
کافروں کی
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاِذۡ
یَعِدُکُمُ
اللّٰہُ
اِحۡدَی
الطَّآئِفَتَیۡنِ
اَنَّہَا
لَکُمۡ
وَتَوَدُّوۡنَ
اَنَّ
غَیۡرَ
ذَاتِ الشَّوۡکَۃِ
تَکُوۡنُ
لَکُمۡ
وَ یُرِیۡدُ
اللّٰہُ
اَنۡ
یُّحِقَّ
الۡحَقَّ
بِکَلِمٰتِہٖ
وَیَقۡطَعَ
دَابِرَ
الۡکٰفِرِیۡنَ
اور جب
وعدہ کر رہا تھا تم سے
اللہ تعالیٰ
ایک کا
دو گروہوں میں سے
یقیناً وہ
تمہارے لیے ہے
اور تم چاہتے تھے
یقیناً
بغیر
کا نٹے والا ( غیر مسلح گروہ )
ہو
تمہارے لئے
اور ارادہ کر چکا تھا
اللہ تعالیٰ
یہ کہ
وہ حق کر دکھا ئے
حق کو
ساتھ اپنی باتوں کے
اور وہ کاٹ دے
جڑ
کافروں کی
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاِذْ
يَعِدُكُمُ
اللّٰهُ
اِحْدَى
الطَّآئِفَتَيْنِ
اَنَّهَا
لَكُمْ
وَتَوَدُّوْنَ
اَنَّ
غَيْرَ
ذَاتِ الشَّوْكَةِ
تَكُوْنُ
لَكُمْ
وَ
يُرِيْدُ
اللّٰهُ
اَنْ
يُّحِقَّ
الْحَقَّ
بِكَلِمٰتِهٖ
وَيَقْطَعَ
دَابِرَ
الْكٰفِرِيْنَ
اور جب
تمہیں وعدہ دیتا تھا
اللہ
ایک کا
دو گروہ
کہ وہ
تمہارے لیے
اور چاہتے تھے
کہ
بغیر
کانٹے والا
ہو
تمہارے لیے
اور
چاہتا تھا
اللہ
کہ
ثابت کردے
حق
اپنے کلمات سے
اور کاٹ دے
جڑ
کافر (جمع)
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]