یہ اس لیے کہ اللہ کبھی وہ نعمت بدلنے والا نہیں جو اس نے کسی قوم پر کی ہو، یہاں تک کہ وہ بدل دیں جو ان کے دلوں میں ہے اور اس لیے کہ اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔[53]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
ذٰلِکَ
بِاَنَّ
اللّٰہَ
لَمۡ
یَکُ
مُغَیِّرًا
نِّعۡمَۃً
اَنۡعَمَہَا
عَلٰی قَوۡمٍ
حَتّٰی
یُغَیِّرُوۡا
مَا
بِاَنۡفُسِہِمۡ
وَاَنَّ
اللّٰہَ
سَمِیۡعٌ
عَلِیۡمٌ
یہ
بوجہ اس کے کہ
اللہ تعالی
نہیں
ہے وہ
تبدیل کرنے والا
کسی نعمت کو
اس نے انعام کیاہو جسے
کسی قوم پر
یہاں تک کہ
وہ تبدیل کردیں
اسے جو
ان کے نفسوں میں ہے
اور بےشک
اللہ تعالی
خوب سننے والا ہے
خوب جاننے والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
ذٰلِکَ
بِاَنَّ
اللّٰہَ
لَمۡ یَکُ
مُغَیِّرًا
نِّعۡمَۃً
اَنۡعَمَہَا
عَلٰی قَوۡمٍ
حَتّٰی
یُغَیِّرُوۡا
مَا
بِاَنۡفُسِہِمۡ
وَاَنَّ
اللّٰہَ
سَمِیۡعٌ
عَلِیۡمٌ
یہ
اس وجہ سے کہ یقیناً
اللہ تعالیٰ
کبھی نہیں ہے
تبدیل کرنے والا
کسی نعمت کو
جو عطا کی اُس نے
کسی قوم پر
یہاں تک کہ
وہ بدل دیں
اس کوجو
اُن کے دلوں میں ہے
اور یقیناً
اللہ تعالیٰ
سب کچھ سننے والا ہے
سب کچھ جاننے والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
ذٰلِكَ
بِاَنَّ
اللّٰهَ
لَمْ يَكُ
مُغَيِّرًا
نِّعْمَةً
اَنْعَمَهَا
عَلٰي قَوْمٍ
حَتّٰي
يُغَيِّرُوْا
مَا
بِاَنْفُسِهِمْ
وَاَنَّ
اللّٰهَ
سَمِيْعٌ
عَلِيْمٌ
یہ
اس لیے کہ
اللہ
نہیں ہے
بدلنے والا
کوئی نعمت
اسے دی
کسی قوم کو
جب تک
وہ بدلیں
جو
ان کے دلوں میں
اور یہ کہ
اللہ
سننے والا
جاننے والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]