صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔[60]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
اِنَّمَا
الصَّدَقٰتُ
لِلۡفُقَرَآءِ
وَالۡمَسٰکِیۡنِ
وَالۡعٰمِلِیۡنَ
عَلَیۡہَا
وَالۡمُؤَلَّفَۃِ
قُلُوۡبُہُمۡ
وَفِی الرِّقَابِ
وَالۡغٰرِمِیۡنَ
وَفِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ
وَابۡنِ السَّبِیۡلِ
فَرِیۡضَۃً
مِّنَ اللّٰہِ
وَاللّٰہُ
عَلِیۡمٌ
حَکِیۡمٌ
بےشک
صدقات تو
فقراء کے لیے ہیں
اور مسکینوں کے لیے
اور جو کام کرنے والے ہیں
ان پر
اور الفت دلائے گئے
دل جن کے
اور (گردنوں)کے آزاد کرنے میں
اور قرض دار وں(کے لیے)
اور اللہ کے راستے میں
اور مسافر / راہ گیر (کے لیے)
فریضہ ہے
اللہ کی طرف سے
اور اللہ
خوب علم والا ہے
خوب حکمت والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
اِنَّمَا
الصَّدَقٰتُ
لِلۡفُقَرَآءِ
وَالۡمَسٰکِیۡنِ
وَالۡعٰمِلِیۡنَ
عَلَیۡہَا
وَالۡمُؤَلَّفَۃِ
قُلُوۡبُہُمۡ
وَفِی الرِّقَابِ
وَالۡغٰرِمِیۡنَ
وَفِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ
وَابۡنِ السَّبِیۡلِ
فَرِیۡضَۃً
مِّنَ اللّٰہِ
وَاللّٰہُ
عَلِیۡمٌ
حَکِیۡمٌ
بلاشبہ
صدقات ہے
فقیروں کے لئے
اور مسکینوں کے لیے
اور کام کر نے والوں کے لیے
اس پر
اور الفت ڈالی گئی ہے
ان کے دلوں میں
اور گر دنوں کے چھڑانے میں
اور تاوان بھرنے والوں میں
اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں
اور مسافروں میں
فرض ہے
اللہ تعالیٰ کی طرف سے
اور اللہ تعالیٰ
سب کچھ جاننے والا ہے
کمال حکمت والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
اِنَّمَا
الصَّدَقٰتُ
لِلْفُقَرَآءِ
وَالْمَسٰكِيْنِ
وَالْعٰمِلِيْنَ
عَلَيْهَا
وَالْمُؤَلَّفَةِ
قُلُوْبُهُمْ
وَفِي
الرِّقَابِ
وَالْغٰرِمِيْنَ
وَفِيْ
سَبِيْلِ اللّٰهِ
وَابْنِ السَّبِيْلِ
فَرِيْضَةً
مِّنَ
اللّٰهِ
وَاللّٰهُ
عَلِيْمٌ
حَكِيْمٌ
صرف
زکوۃ
مفلس (جمع)
مسکین (جمع) محتاج
اور کام کرنے والے
اس پر
اور الفت دی جائے
ان کے دل
اور میں
گردنوں (کے چھڑانے)
اور تاوان بھرنے والے، قرضدار
اور میں
اللہ کی راہ
اور مسافر
فریضہ (ٹھہرایا ہوا)
سے
اللہ
اور اللہ
علم والا
حکمت والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]