پس اگر اللہ تجھے ان میں سے کسی گروہ کی طرف واپس لے آئے، پھر وہ تجھ سے (جنگ کے لیے) نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دے تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکلو گے اور میرے ساتھ مل کر کبھی کسی دشمن سے نہیں لڑو گے۔ بے شک تم پہلی مرتبہ بیٹھ رہنے پر خوش ہوئے، سو پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔[83]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
فَاِنۡ
رَّجَعَکَ
اللّٰہُ
اِلٰی طَآئِفَۃٍ
مِّنۡہُمۡ
فَاسۡتَاۡذَنُوۡکَ
لِلۡخُرُوۡجِ
فَقُلۡ
لَّنۡ
تَخۡرُجُوۡا
مَعِیَ
اَبَدًا
وَّلَنۡ
تُقَاتِلُوۡا
مَعِیَ
عَدُوًّا
اِنَّکُمۡ
رَضِیۡتُمۡ
بِالۡقُعُوۡدِ
اَوَّلَ مَرَّۃٍ
فَاقۡعُدُوۡا
مَعَ الۡخٰلِفِیۡنَ
پھر اگر
واپس لوٹالائےآپ کو
اللہ
طرف ایک گروہ کے
ان میں سے
پھر وہ اجازت طلاب کریں آپ سے
نکلنے کے لیے
پس کہہ دیجیے
ہر گز نہ
تم نکلو گے
ساتھ میرے
کبھی بھی
اور ہرگز نہ
تم جنگ کرو گے
میرے ساتھ
دشمن کے
بےشک تم
راضی ہوگئے تم
بیٹھنے پر
پہلی بار
پس بیٹھے رہو
ساتھ پیچھے رہنے والوں کے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
فَاِنۡ
رَّجَعَکَ
اللّٰہُ
اِلٰی
طَآئِفَۃٍ
مِّنۡہُمۡ
فَاسۡتَاۡذَنُوۡکَ
لِلۡخُرُوۡجِ
فَقُلۡ
لَّنۡ
تَخۡرُجُوۡا
مَعِیَ
اَبَدًا
وَّلَنۡ
تُقَاتِلُوۡا
مَعِیَ
عَدُوًّا
اِنَّکُمۡ
رَضِیۡتُمۡ
بِالۡقُعُوۡدِ
اَوَّلَ مَرَّۃٍ
فَاقۡعُدُوۡا
مَعَ
الۡخٰلِفِیۡنَ
چنانچہ اگر
واپس لے آئے آپ کو
اللہ تعالیٰ
طرف
کسی گروہ کی
اُن میں سے
پھر وہ اجازت مانگیں آپ سے
نکلنے کے لیے
تو آپ کہہ دیں
ہرگز نہیں
تم نکلو گے
ساتھ میرے
کبھی بھی
اور ہرگز نہیں
تم لڑ سکتے
ساتھ میرے
کسی دشمن سے
بلاشبہ تم
خوش ہوئے تم
بیٹھ رہنے پر
پہلی بار
چنانچہ تم بیٹھے رہو
ساتھ
پیچھے رہنے والوں کے
حافظ نذر احمد حفظه الله
فَاِنْ
رَّجَعَكَ
اللّٰهُ
اِلٰى
طَآئِفَةٍ
مِّنْهُمْ
فَاسْتَاْذَنُوْكَ
لِلْخُرُوْجِ
فَقُلْ
لَّنْ تَخْرُجُوْا
مَعِيَ
اَبَدًا
وَّ
لَنْ تُقَاتِلُوْا
مَعِيَ
عَدُوًّا
اِنَّكُمْ
رَضِيْتُمْ
بِالْقُعُوْدِ
اَوَّلَ
مَرَّةٍ
فَاقْعُدُوْا
مَعَ
الْخٰلِفِيْنَ
پھر اگر
وہ آپ کو واپس لے جائے
اللہ
طرف
کسی گروہ
ان سے
پھر وہ آپ سے اجازت مانگیں
نکلنے کے لیے
تو آپ کہ دیں
تم ہرگز نہ نکلو گے
میرے ساتھ
کبھی بھی
اور
ہرگز نہ لڑوگے
میرے ساتھ
دشمن
بیشک تم
تم نے پسند کیا
بیٹھ رہنے کو
پہلی
بار
سو تم بیٹھو
ساتھ
پیچھے رہ جانے والے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]