اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا نہیں تھا مگر اس وعدہ کی وجہ سے جو اس نے اس سے کیا تھا، پھر جب اس کے لیے واضح ہوگیا کہ بے شک وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بے تعلق ہو گیا۔ بے شک ابراہیم یقینا بہت نرم دل، بڑا بردبار تھا۔[114]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَمَا
کَانَ
اسۡتِغۡفَارُ
اِبۡرٰہِیۡمَ
لِاَبِیۡہِ
اِلَّا
عَنۡ مَّوۡعِدَۃٍ
وَّعَدَہَاۤ
اِیَّاہُ
فَلَمَّا
تَبَیَّنَ
لَہٗۤ
اَنَّہٗ
عَدُوٌّ
لِّلّٰہِ
تَبَرَّاَ
مِنۡہُ
اِنَّ
اِبۡرٰہِیۡمَ
لَاَوَّاہٌ
حَلِیۡمٌ
اور نہ
تھا
استغفار کرنا
ابراہیم کا
اپنے باپ کے لیے
مگر
ایک وعدے کی وجہ سے
اس نے وعدہ کیا اس کا
اس سے
پھر جب
ظاہر ہوگیا
اس کے لیے
کہ بیشک وہ
دشمن ہے
اللہ کا
وہ بےزار ہوگیا
اس سے
بیشک
ابراہیم
البتہ بہت آہ و زاری کرنے والا
بہت برد بار تھا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَمَا
کَانَ
اسۡتِغۡفَارُ
اِبۡرٰہِیۡمَ
لِاَبِیۡہِ
اِلَّا
عَنۡ مَّوۡعِدَۃٍ
وَّعَدَہَاۤ
اِیَّاہُ
فَلَمَّا
تَبَیَّنَ
لَہٗۤ
اَنَّہٗ
عَدُوٌّ
لِّلّٰہِ
تَبَرَّاَ
مِنۡہُ
اِنَّ
اِبۡرٰہِیۡمَ
لَاَوَّاہٌ
حَلِیۡمٌ
اور نہیں
تھا
بخشش مانگنا
ابراہیم کا
اپنے باپ کے لیے
مگر
وعدہ کے سبب
وعدہ کیا اس نے
اس(باپ)سے
چنانچہ جب
واضح ہو گیا
اس کے لیے
یقیناً وہ
دشمن ہے
اللہ کا
بے تعلق ہو گیا
اس(آزر)سے
یقیناً
ابراہیم
یقیناً بڑا نرم دل
بردبار تھا
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَمَا كَانَ
اسْتِغْفَارُ
اِبْرٰهِيْمَ
لِاَبِيْهِ اِلَّا
عَنْ مَّوْعِدَةٍ
وَّعَدَھَآ
اِيَّاهُ
فَلَمَّا
تَبَيَّنَ
لَهٗٓ
اَنَّهٗ
عَدُوٌّ لِّلّٰهِ
تَبَرَّاَ
مِنْهُ
اِنَّ
اِبْرٰهِيْمَ
لَاَوَّاهٌ
حَلِيْمٌ
اور نہ تھا
بخشش چاہنا
ابراہیم
اپنے باپ کے لئے مگر
ایک وعدہ کے سبب
جو اس نے وعدہ کیا
اس سے
پھر جب
ظاہر ہوگیا
اس پر
کہ وہ
اللہ کا دشمن
وہ بیزار ہوگیا
اس سے
بیشک
ابراہیم
نرم دل
بردبار
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]