کہا اے ہمارے باپ! بے شک ہم دوڑ میں ایک دوسرے سے آگے نکلتے چلے گئے اور ہم نے یوسف کو اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تو اسے کوئی بھیڑیا کھا گیا اور تو ہر گز ہمارا اعتبار کرنے والا نہیں، خواہ ہم سچے ہوں۔[17]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
قَالُوۡا
یٰۤاَبَانَاۤ
اِنَّا
ذَہَبۡنَا
نَسۡتَبِقُ
وَتَرَکۡنَا
یُوۡسُفَ
عِنۡدَ
مَتَاعِنَا
فَاَکَلَہُ
الذِّئۡبُ
وَمَاۤ
اَنۡتَ
بِمُؤۡمِنٍ
لَّنَا
وَلَوۡ
کُنَّا
صٰدِقِیۡنَ
کہنے لگے
اے ہمارے ابا جان
بےشک ہم
چلے گئے ہم
دوڑ کا مقابلہ کرتے ہوئے
اور چھوڑ گئے ہم
یوسف کو
پاس
اپنے سامان کے
پھر کھا گیا اسے
بھیڑیا
اور نہیں
آپ
یقین کرنے والے
ہم پر
اور اگرچہ
ہوں ہم
سچ بولنے والے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
قَالُوۡا
یٰۤاَبَانَاۤ
اِنَّا
ذَہَبۡنَا
نَسۡتَبِقُ
وَتَرَکۡنَا
یُوۡسُفَ
عِنۡدَ
مَتَاعِنَا
فَاَکَلَہُ
الذِّئۡبُ
وَمَاۤ
اَنۡتَ
بِمُؤۡمِنٍ
لَّنَا
وَلَوۡ
کُنَّا
صٰدِقِیۡنَ
انہوں نے کہا
اے ہمارے ابا جان
بے شک ہم
ہم چلے گئے
آگے نکلتے تھے
اور چھوڑ دیا ہم نے
یوسف کو
پاس
اپنے سامان کے
سوکھا گیا اس کو
بھیڑیا
اور ہر گز نہیں
آپ
یقین کرنے والے
ہمار ا
اور خواہ
ہوں ہم
سچے
حافظ نذر احمد حفظه الله
قَالُوْا
يٰٓاَبَانَآ
اِنَّا
ذَهَبْنَا
نَسْتَبِقُ
وَتَرَكْنَا
يُوْسُفَ
عِنْدَ
مَتَاعِنَا
فَاَكَلَهُ
الذِّئْبُ
وَمَآ
اَنْتَ
بِمُؤْمِنٍ
لَّنَا
وَلَوْ كُنَّا
صٰدِقِيْنَ
وہ بولے
اے ابا جان
ہم
دوڑنے گئے
آگے نکلنے
اور ہم نے چھوڑ دیا
یوسف
پاس
اپنا اسباب
تو اسے کھا گیا
بھیڑیا
اور نہیں
تو
باور کرنے والا
ہم پر
اور خواہ ہوں ہم
سچے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]