اور ان سے ان کے نبی نے کہا بے شک اللہ نے تمھارے لیے طالوت کو بادشاہ مقرر کیا ہے۔ انھوں نے کہا اس کی حکومت ہم پر کیسے ہو سکتی ہے، جبکہ ہم حکومت کے اس سے زیادہ حق دار ہیں اور اسے مال کی کوئی وسعت بھی نہیں دی گئی؟ فرمایا بے شک اللہ نے اسے تم پر چن لیا ہے اور اسے علم اور جسم میں زیادہ فراخی عطا فرمائی ہے اور اللہ اپنی حکومت جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ وسعت والا،سب کچھ جاننے والا ہے۔[247]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَقَالَ
لَہُمۡ
نَبِیُّہُمۡ
اِنَّ
اللّٰہَ
قَدۡ
بَعَثَ
لَکُمۡ
طَالُوۡتَ
مَلِکًا
قَالُوۡۤا
اَنّٰی
یَکُوۡنُ
لَہُ
الۡمُلۡکُ
عَلَیۡنَا
وَنَحۡنُ
اَحَقُّ
بِالۡمُلۡکِ
مِنۡہُ
وَلَمۡ
یُؤۡتَ
سَعَۃً
مِّنَ الۡمَالِ
قَالَ
اِنَّ
اللّٰہَ
اصۡطَفٰىہُ
عَلَیۡکُمۡ
وَزَادَہٗ
بَسۡطَۃً
فِی الۡعِلۡمِ
وَالۡجِسۡمِ
وَاللّٰہُ
یُؤۡتِیۡ
مُلۡکَہٗ
مَنۡ
یَّشَآءُ
وَاللّٰہُ
وَاسِعٌ
عَلِیۡمٌ
اور کہا
انہیں
ان کے نبی نے
بیشک
اللہ
تحقیق
مقرر کردیا ہے
تمہارے لیے
طالوت کو
بادشاہ
انہوں نے کہا
کیسے
ہوسکتی ہے
اس کے لیے
بادشاہت
ہم پر
حالانکہ ہم
زیادہ حق دار ہیں
بادشاہت کے
اس سے
اور نہیں
وہ دیا گیا
وسعت
مال سے
اس نے کہا
بیشک
اللہ نے
چن لیا ہے اسے
تم پر
اور نے زیادہ دی ہے اسے
وسعت
علم میں
اور جسم میں
اور اللہ
دیتا ہے
بادشاہت اپنی
جسے
وہ چاہتا ہے
اور اللہ
وسعت والا ہے
خوب جاننے والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَقَالَ
لَہُمۡ
نَبِیُّہُمۡ
اِنَّ
اللّٰہَ
قَدۡ
بَعَثَ
لَکُمۡ
طَالُوۡتَ
مَلِکًا
قَالُوۡۤا
اَنّٰی
یَکُوۡنُ
لَہُ
الۡمُلۡکُ
عَلَیۡنَا
وَنَحۡنُ
اَحَقُّ
بِالۡمُلۡکِ
مِنۡہُ
وَلَمۡ
یُؤۡتَ
سَعَۃً
مِّنَ الۡمَالِ
قَالَ
اِنَّ
اللّٰہَ
اصۡطَفٰىہُ
عَلَیۡکُمۡ
وَزَادَہٗ
بَسۡطَۃً
فِی الۡعِلۡمِ
وَالۡجِسۡمِ
وَاللّٰہُ
یُؤۡتِیۡ
مُلۡکَہٗ
مَنۡ
یَّشَآءُ
وَاللّٰہُ
وَاسِعٌ
عَلِیۡمٌ
اور کہا
ان کے لیے
ان کے نبی نے
بلا شبہ
اللہ تعا لٰی نے
یقیناً
مقرر کیا ہے
تمہارے لیے
طالوت کو
بادشاہ
انہوں نے کہا
کیسے
ہوسکتی ہے
اس کی
حکو مت
ہم پر
حالانکہ ہم
زیادہ حق دار ہیں
بادشاہت کے
اس سے
اور نہیں
اسےدی گئی
کشا ئش
مال سے
اس نے کہا
بلا شبہ
اللہ تعا لٰی نے
چنا ہے اسے
تم پر
اور زیادہ دی ہے اسے
فراخی
علم میں
اور جسم میں
اور اللہ تعا لٰی
عطا کر تا ہے
بادشاہت اپنی
جس کو
وہ چاہتا ہے
اور اللہ تعا لٰی
وسعت والا
سب کچھ جاننے والا ہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَقَالَ
لَهُمْ
نَبِيُّهُمْ
اِنَّ
اللّٰهَ
قَدْ بَعَثَ
لَكُمْ
طَالُوْتَ
مَلِكًا
قَالُوْٓا
اَنّٰى
يَكُوْنُ
لَهُ
الْمُلْكُ
عَلَيْنَا
وَنَحْنُ
اَحَقُّ
بِالْمُلْكِ
مِنْهُ
وَلَمْ يُؤْتَ
سَعَةً
مِّنَ
الْمَالِ
قَالَ
اِنَّ
اللّٰهَ
اصْطَفٰىهُ
عَلَيْكُمْ
وَزَادَهٗ
بَسْطَةً
فِي
الْعِلْمِ
وَالْجِسْمِ
وَاللّٰهُ
يُؤْتِيْ
مُلْكَهٗ
مَنْ
يَّشَآءُ
وَاللّٰهُ
وَاسِعٌ
عَلِيْمٌ
اور کہا
انہیں
ان کا نبی
بیشک
اللہ
مقرر کردیا ہے
تمہارے لیے
طالوت
بادشاہ
وہ بولے
کیسے
ہوسکتی ہے
اس کے لیے
بادشاہت
ہم پر
اور ہم
زیادہ حقدار
بادشاہت کے
اس سے
اور نہیں دی گئی
وسعت
سے
مال
اس نے کہا
بیشک
اللہ
اسے چن لیا
تم پر
اور اسے زیادہ دی
وسعت
میں
علم
اور جسم
اور اللہ
دیتا ہے
اپنا بادشاہ
جسے
چاہتا ہے
اور اللہ
وسعت والا
جاننے والا
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]