کیا تو نے موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل کے سرداروں کو نہیں دیکھا، جب انھوں نے اپنے ایک نبی سے کہا ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر کہ ہم اللہ کے راستے میں لڑیں۔ اس نے کہا یقینا تم قریب ہو کہ اگر تم پر لڑنا فرض کر دیا جائے تو تم نہ لڑو۔ انھوں نے کہا اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ کے راستے میں نہ لڑیں، حالانکہ ہمیں ہمارے گھروں اور ہمارے بیٹوں سے نکال دیا گیا ہے۔ پھر جب ان پر لڑنا فرض کر دیا گیا تو ان میں سے بہت تھوڑے لوگوں کے سوا سب پھر گئے اور اللہ ان ظالموں کو خوب جاننے والا ہے۔[246]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
اَلَمۡ
تَرَ
اِلَی
الۡمَلَاِ
مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ
مِنۡۢ بَعۡدِ
مُوۡسٰی
اِذۡ
قَالُوۡا
لِنَبِیٍّ
لَّہُمُ
ابۡعَثۡ
لَنَا
مَلِکًا
نُّقَاتِلۡ
فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ
قَالَ
ہَلۡ
عَسَیۡتُمۡ
اِنۡ
کُتِبَ
عَلَیۡکُمُ
الۡقِتَالُ
اَلَّا
تُقَاتِلُوۡا
قَالُوۡا
وَمَا
لَنَاۤ
اَلَّا
نُقَاتِلَ
فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ
وَقَدۡ
اُخۡرِجۡنَا
مِنۡ دِیَارِنَا
وَ اَبۡنَآئِنَا
فَلَمَّا
کُتِبَ
عَلَیۡہِمُ
الۡقِتَالُ
تَوَلَّوۡا
اِلَّا
قَلِیۡلًا
مِّنۡہُمۡ
وَاللّٰہُ
عَلِیۡمٌۢ
بِالظّٰلِمِیۡنَ
کیا نہیں
آپ نے دیکھا
طرف
سرداروں کے
بنی اسرائیل میں سے
بعد
موسیٰ کے
جب
انہوں نے کہا
نبی کے لیے
اپنے
مقرر کر
ہمارے لیے
ایک بادشاہ
ہم لڑیں
اللہ کے راستے میں
اس نے کہا
کیا
امید ہے تم سے
اگر
لکھ دیا جائے
تم پر
جنگ کرنا
کہ نہ
تم لڑو
انہوں نے کہا
اور کیا ہے
ہمیں
کہ نہ
ہم لڑیں
اللہ کے راستے میں
حالانکہ تحقیق
نکالے گئے ہم
اپنے گھروں سے
اور اپنے بیٹوں سے
پھر جب
لکھ دیا گیا
ان پر
لڑنا
تو وہ پھر گئے
مگر
تھوڑے سے
ان میں سے
اور اللہ
خوب جاننے والا ہے
ظالموں کو
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
اَلَمۡ
تَرَ
اِلَی الۡمَلَاِ
مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ
مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰی
اِذۡ
قَالُوۡا
لِنَبِیٍّ لَّہُمُ
ابۡعَثۡ
لَنَا
مَلِکًا
نُّقَاتِلۡ
فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ
قَالَ
ہَلۡ عَسَیۡتُمۡ
اِنۡ
کُتِبَ
عَلَیۡکُمُ
الۡقِتَالُ
اَلَّا
تُقَاتِلُوۡا
قَالُوۡا
وَمَا
لَنَاۤ
اَلَّا
نُقَاتِلَ
فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ
وَقَدۡ
اُخۡرِجۡنَا
مِنۡ دِیَارِنَا
وَ اَبۡنَآئِنَا
فَلَمَّا
کُتِبَ
عَلَیۡہِمُ
الۡقِتَالُ
تَوَلَّوۡا
اِلَّا
قَلِیۡلًا
مِّنۡہُمۡ
وَاللّٰہُ
عَلِیۡمٌۢ
بِالظّٰلِمِیۡنَ
کیا نہیں
آپ نے دیکھا
سرداروں کی طرف
بنی اسرائیل کے
موسیٰ کے بعد
جب
انہوں نے کہا
اپنے نبی کے لئے
آپ بنا دیں
ہمارے لیے
بادشاہ
ہم جنگ کریں
اللہ تعا لی کے راستے میں
اس نے کہا
یقینا قر یب ہو تم
اگر
فر ض کر دی جا ئے
تم پر
جنگ
یہ کہ نہ
تم قتا ل کر و
انہوں نے کہا
اور کیا ہے
ہمارے لیے
یہ کہ نہ
ہم جنگ کریں
اللہ تعا لٰی کی راہ میں
حا لا نکہ یقیناً
نکالاگیا ہے ہمیں
ہما رےگھروں سے
اورہما رے بیٹوں سے
پھر جب
فر ض کر دی گئی
ان پر
جنگ
وہ پھر گئے
علا وہ
تھوڑی سی تعد اد کے
ان میں سے
اور اللہ تعا لٰی
خو ب جاننے والا ہے
ظالموں کو
حافظ نذر احمد حفظه الله
اَلَمْ تَرَ
اِلَى
الْمَلَاِ
مِنْ
بَنِىْٓ اِسْرَآءِ يْلَ
مِنْ
بَعْدِ
مُوْسٰى
اِذْ
قَالُوْا
لِنَبِىٍّ لَّهُمُ
ابْعَثْ
لَنَا
مَلِكًا
نُّقَاتِلْ
فِيْ
سَبِيْلِ اللّٰهِ
قَالَ
ھَلْ
عَسَيْتُمْ
اِنْ
كُتِبَ عَلَيْكُمُ
الْقِتَالُ
اَلَّا تُقَاتِلُوْا
قَالُوْا
وَمَا لَنَآ
اَلَّا
نُقَاتِلَ
فِيْ
سَبِيْلِ اللّٰهِ
وَقَدْ
اُخْرِجْنَا
مِنْ
دِيَارِنَا
وَاَبْنَآئِنَا
فَلَمَّا
كُتِبَ عَلَيْهِمُ
الْقِتَالُ
تَوَلَّوْا
اِلَّا
قَلِيْلًا
مِّنْهُمْ
وَاللّٰهُ
عَلِيْمٌ
بِالظّٰلِمِيْنَ
کیا تم نے نہیں دیکھا
طرف
جماعت
سے
بنی اسرائیل
سے
بعد
موسیٰ
جب
انہوں نے
اپنے نبی سے
مقرر کردیں
ہمارے لیے
ایک بادشاہ
ہم لڑیں
میں
اللہ کا راستہ
اس نے کہا
کیا
ہوسکتا ہے تم
اگر
تم پر فرض کی جائے
جنگ
کہ تم نہ لڑو
وہ کہنے لگے
اور ہمیں کیا
کہ نہ
ہم لڑیں گے
میں
اللہ کی راہ
اور البتہ
ہم نکالے گئے
سے
اپنے گھر
اور اپنی آل اولاد
پھر جب
ان پر فرض کی گئی
جنگ
وہ پھرگئے
سوائے
چند
ان میں سے
اور اللہ
جاننے والا
ظالموں کو
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]