ایمان والوں کی بات، جب وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں، تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، اس کے سوا نہیں ہوتی کہ وہ کہتے ہیں ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔[51]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
اِنَّمَا
کَانَ
قَوۡلَ
الۡمُؤۡمِنِیۡنَ
اِذَا
دُعُوۡۤا
اِلَی اللّٰہِ
وَرَسُوۡلِہٖ
لِیَحۡکُمَ
بَیۡنَہُمۡ
اَنۡ
یَّقُوۡلُوۡا
سَمِعۡنَا
وَاَطَعۡنَا
وَاُولٰٓئِکَ
ہُمُ
الۡمُفۡلِحُوۡنَ
بےشک
ہے
قول
مومنوں کا
جب
وہ بلائے جاتے ہیں
طرف اللہ کے
اور اس کے رسول کے
کہ وہ فیصلہ کرے
درمیان ان کے
کہ
وہ کہتے ہیں
سن لیا ہم نے
اور اطاعت کی ہم نے
اور یہی لوگ ہیں
وہ
جو فلاح پانے والے ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
اِنَّمَا
کَانَ
قَوۡلَ
الۡمُؤۡمِنِیۡنَ
اِذَا
دُعُوۡۤا
اِلَی اللّٰہِ
وَرَسُوۡلِہٖ
لِیَحۡکُمَ
بَیۡنَہُمۡ
اَنۡ
یَّقُوۡلُوۡا
سَمِعۡنَا
وَاَطَعۡنَا
وَاُولٰٓئِکَ
ہُمُ
الۡمُفۡلِحُوۡنَ
در حقیقت
ہوتی ہے
بات
مومنوں کی
جب
انہیں بلایا جاتا ہے
اللہ تعالیٰ کی طرف
اور اس کے رسول کی
تاکہ وہ فیصلہ کردے
درمیان اُن کے
یہ کہ
وہ کہتے ہیں
ہم نے سنا
اور ہم نے فرمانبرداری کی
اور یہ لوگ
یہی
فلاح پانے والے ہیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
اِنَّمَا
كَانَ
قَوْلَ
الْمُؤْمِنِيْنَ
اِذَا
دُعُوْٓا
اِلَى اللّٰهِ
وَرَسُوْلِهٖ
لِيَحْكُمَ
بَيْنَهُمْ
اَنْ
يَّقُوْلُوْا
سَمِعْنَا
وَاَطَعْنَا
وَاُولٰٓئِكَ
هُمُ
الْمُفْلِحُوْنَ
اس کے سوا نہیں
ہے
بات
مومن (جمع)
جب
وہ بلائے جاتے ہیں
اللہ کی طرف
اور اس کا رسول
تاکہ وہ فیصلہ کردیں
ان کے درمیان
کہ۔ تو
وہ کہتے ہیں
ہم نے سنا
اور ہم نے اطاعت کی
اور وہ
وہی
فلاح پانے والے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]