اس سے کہا گیا اس محل میں داخل ہو جا۔ تو جب اس نے اسے دیکھا تو اسے گہرا پانی سمجھا اور اپنی دونوں پنڈلیوں سے کپڑا اٹھا لیا۔ اس نے کہا یہ توشیشوں کا ملائم بنایا ہوا فرش ہے۔ اس (ملکہ) نے کہا اے میرے رب! بے شک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کے لیے فرماں بردار ہو گئی۔[44]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
قِیۡلَ
لَہَا
ادۡخُلِی
الصَّرۡحَ
فَلَمَّا
رَاَتۡہُ
حَسِبَتۡہُ
لُجَّۃً
وَّکَشَفَتۡ
عَنۡ سَاقَیۡہَا
قَالَ
اِنَّہٗ
صَرۡحٌ
مُّمَرَّدٌ
مِّنۡ قَوَارِیۡرَ
قَالَتۡ
رَبِّ
اِنِّیۡ
ظَلَمۡتُ
نَفۡسِیۡ
وَاَسۡلَمۡتُ
مَعَ
سُلَیۡمٰنَ
لِلّٰہِ
رَبِّ
الۡعٰلَمِیۡنَ
کہا گیا
اسے
داخل ہو جاؤ
محل میں
تو جب
اس نے دیکھا اسے
وہ سمجھی اسے
گہرا پانی
اور اس نے کھول دیں
پنڈلیاں اپنی
اس نے کہا
بےشک وہ
محل ہے
چکنا
ـبنایا گیاـشیشوں سے
وہ کہنے لگی
اے میرے رب
بےشک میں
ظلم کیا میں نے
اپنی جان پر
اور اسلام لے آئی میں
ساتھ
سلیمان کے
اللہ کے لیے
جو رب ہے
تمام جہانوں کا
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
قِیۡلَ
لَہَا
ادۡخُلِی
الصَّرۡحَ
فَلَمَّا
رَاَتۡہُ
حَسِبَتۡہُ
لُجَّۃً
وَّکَشَفَتۡ
عَنۡ سَاقَیۡہَا
قَالَ
اِنَّہٗ
صَرۡحٌ
مُّمَرَّدٌ
مِّنۡ قَوَارِیۡرَ
قَالَتۡ
رَبِّ
اِنِّیۡ
ظَلَمۡتُ
نَفۡسِیۡ
وَاَسۡلَمۡتُ
مَعَ
سُلَیۡمٰنَ
لِلّٰہِ
رَبِّ
الۡعٰلَمِیۡنَ
کہا گیا
اس سے
داخل ہو جاؤ
محل میں
پھر جب
دیکھا اسے
اس نے خیال کیا اُس کو
گہرا پانی
اور اس نے کھول دیں
اپنی پنڈلیوں سے
سلیمان نے کہا
یقیناًوہ
محل ہے
جڑا ہوا
شیشوں سے
ملکہ نے کہا
اے میرے رب
یقیناً میں نے
ظلم کیا
اپنی جان پر
اور میں فرمابردار ہوئی
ساتھ
سلیمان کے
اللہ تعالیٰ کے لیے
رب ہے
تمام جہانوں کا
حافظ نذر احمد حفظه الله
قِيْلَ
لَهَا
ادْخُلِي
الصَّرْحَ
فَلَمَّا
رَاَتْهُ
حَسِبَتْهُ
لُجَّةً
وَّكَشَفَتْ
عَنْ
سَاقَيْهَا
قَالَ
اِنَّهٗ
صَرْحٌ
مُّمَرَّدٌ
مِّنْ
قَوَارِيْرَ
قَالَتْ
رَبِّ
اِنِّىْ ظَلَمْتُ
نَفْسِيْ
وَاَسْلَمْتُ
مَعَ
سُلَيْمٰنَ
لِلّٰهِ
رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ
کہا گیا
اس سے
تو داخل ہو
محل
پس جب
اس نے اس کو دیکھا
اسے سمجھا
گہرا پانی
اور کھول دیں
سے
اپنی پنڈلیاں
اس نے کہا
بیشک یہ
محل
جڑا ہوا
سے
شیشے (جمع)
وہ بولی
اے میرے رب
بیشک میں نے ظلم کیا
اپنی جان
اور میں ایمان لائی
ساتھ
سلیمان
اللہ کے لیے
تمام جہانوں کا رب
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]