وہ آسمان سے زمین تک (ہر) معاملے کی تدبیر کرتا ہے، پھر وہ (معاملہ) اس کی طرف ایسے دن میں اوپر جاتا ہے جس کی مقدار ہزار سال ہے، اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو۔[5]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
یُدَبِّرُ
الۡاَمۡرَ
مِنَ السَّمَآءِ
اِلَی الۡاَرۡضِ
ثُمَّ
یَعۡرُجُ
اِلَیۡہِ
فِیۡ یَوۡمٍ
کَانَ
مِقۡدَارُہٗۤ
اَلۡفَ
سَنَۃٍ
مِّمَّا
تَعُدُّوۡنَ
وہ تدبیر کرتا ہے
ہر معاملے کی
آسمان سے
زمین تک
پھر
وہ چڑھتا ہے
طرف اس کے
ایک دن میں
ہے
حساب/اندازہ اس کا
ہزار
سال
اس میں سے جو
تم شمار کرتے ہو
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
یُدَبِّرُ
الۡاَمۡرَ
مِنَ السَّمَآءِ
اِلَی
الۡاَرۡضِ
ثُمَّ
یَعۡرُجُ
اِلَیۡہِ
فِیۡ یَوۡمٍ
کَانَ
مِقۡدَارُہٗۤ
اَلۡفَ
سَنَۃٍ
مِّمَّا
تَعُدُّوۡنَ
وہ تدبیرکرتاہے
ہر کام کی
آسمان سے
تک
زمین
پھر
اوپر جاتاہے
طرف اس کی
ایک دن میں
ہے
مقدار اس کی
ہزار
برس
اس میں سے جو
تم شمار کرتے ہو
حافظ نذر احمد حفظه الله
يُدَبِّرُ
الْاَمْرَ
مِنَ
السَّمَآءِ
اِلَى الْاَرْضِ
ثُمَّ
يَعْرُجُ
اِلَيْهِ
فِيْ يَوْمٍ
كَانَ
مِقْدَارُهٗٓ
اَلْفَ سَنَةٍ
مِّمَّا
تَعُدُّوْنَ
وہ تدبیر کرتا ہے
تمام کام
سے
آسمان
زمین تک
پھر
وہ رجوع کرے گا
اس کی طرف
ایک دن میں
ہے
اس کی مقدار
ایک ہزار سال
اس سے جو
تم شمار کرتے ہو
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔