سو تو اسی کی طرف پھر دعوت دے اور مضبوطی سے قائم رہ، جیسے تجھے حکم دیاگیا ہے اور ان کی خواہشوں کی پیروی مت کر اور کہہ دے کہ اللہ نے جو بھی کتاب نازل فرمائی میں اس پر ایمان لایا اور مجھے حکم دیاگیا ہے کہ میںتمھارے درمیان انصاف کروں۔ اللہ ہی ہمارا رب اور تمھارا رب ہے، ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔ ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں، اللہ ہمیں آپس میں جمع کرے گا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔[15]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
فَلِذٰلِکَ
فَادۡعُ
وَاسۡتَقِمۡ
کَمَاۤ
اُمِرۡتَ
وَلَا
تَتَّبِعۡ
اَہۡوَآءَہُمۡ
وَقُلۡ
اٰمَنۡتُ
بِمَاۤ
اَنۡزَلَ
اللّٰہُ
مِنۡ کِتٰبٍ
وَاُمِرۡتُ
لِاَعۡدِلَ
بَیۡنَکُمۡ
اَللّٰہُ
رَبُّنَا
وَرَبُّکُمۡ
لَنَاۤ
اَعۡمَالُنَا
وَلَکُمۡ
اَعۡمَالُکُمۡ
لَاحُجَّۃَ
بَیۡنَنَا
وَبَیۡنَکُمۡ
اَللّٰہُ
یَجۡمَعُ
بَیۡنَنَا
وَاِلَیۡہِ
الۡمَصِیۡرُ
تو اسی(دین)کے لیے
پس دعوت دیجیے
اور قائم رہیے
جیسا کہ
حکم دیئے گئے آپ
اور نہ
آپ پیروی کیجیے
ان کی خواہشات کی
اور کہہ دیجیے
ایمان لایا میں
اس پر جو
نازل کیا
اللہ نے
کتاب سے
اور حکم دیا گیا مجھے
کہ میں عدل کروں
درمیان تمہارے
اللہ ہی
رب ہے ہمارا
اور رب تمہارا
ہمارے لیے
اعمال ہمارے
اور تمہارے لیے
اعمال تمہارے
نہیں کوئی جھگڑا
درمیان ہمارے
اور درمیان تمہارے
اللہ
وہ جمع کر دے گا
ہمیں آپس میں
اور طرف اسی کے
لوٹنا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
فَلِذٰلِکَ
فَادۡعُ
وَاسۡتَقِمۡ
کَمَاۤ
اُمِرۡتَ
وَلَا
تَتَّبِعۡ
اَہۡوَآءَہُمۡ
وَقُلۡ
اٰمَنۡتُ
بِمَاۤ
اَنۡزَلَ
اللّٰہُ
مِنۡ کِتٰبٍ
وَاُمِرۡتُ
لِاَعۡدِلَ
بَیۡنَکُمۡ
اَللّٰہُ
رَبُّنَا
وَرَبُّکُمۡ
لَنَاۤ
اَعۡمَالُنَا
وَلَکُمۡ
اَعۡمَالُکُمۡ
لَاحُجَّۃَ
بَیۡنَنَا
وَبَیۡنَکُمۡ
اَللّٰہُ
یَجۡمَعُ
بَیۡنَنَا
وَاِلَیۡہِ
الۡمَصِیۡرُ
چنانچہ اسی کی طرف
آپ دعوت دیں
اورآپ مضبوطی سے قائم رہیں
جیسے
آپ کوحکم دیاگیا
اورنہ
آپ پیروی کریں
اُن کی خواہشات کی
اورآپ کہہ دیں
میں ایمان لایا
ساتھ اُس کے جو
نازل کی
اللہ تعالیٰ نے
کتاب سے
اورمجھے حکم دیاگیاہے
کہ میں انصاف کروں
تمہارے درمیان
اللہ تعالیٰ
ہمارارب ہے
اورتمہارارب بھی
ہمارے لیے
ہمارے اعمال ہیں
اورتمہارے لیے
تمہارے اعمال
نہیں کوئی جھگڑا
ہمارے درمیان
اورتمہارے درمیان
اللہ تعالیٰ
جمع کرےگا
ہمیں آپس میں
اوراُسی کی طرف
سب کوپلٹناہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
فَلِذٰلِكَ
فَادْعُ
وَاسْتَقِمْ
كَمَآ اُمِرْتَ
وَلَا تَتَّبِعْ
اَهْوَآءَهُمْ
وَقُلْ
اٰمَنْتُ
بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ
مِنْ كِتٰبٍ
وَاُمِرْتُ
لِاَعْدِلَ بَيْنَكُمْ
اَللّٰهُ
رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ
لَنَآ اَعْمَالُنَا
وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ
ۭلَا حُجَّةَ
بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ
اَللّٰهُ
يَجْمَعُ بَيْنَنَا
وَاِلَيْهِ الْمَصِيْرُ
پس اس لیے
پس بلاؤ۔ دعوت دو
اور قائم رہو
جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا
اور نہ تم پیروی کرو
ان کی خواہشات کی
اور کہہ دیجئے
میں ایمان لایا
ساتھ اس کے جو نازل کیا اللہ نے
کتاب میں سے
اور مجھے حکم دیا گیا ہے
کہ میں عدل کروں تمہارے درمیان
اللہ تعالیٰ
ہمارا رب ہے اور تمہارا رب
ہمارے لیے ہمارے اعمال
اور تمہارے لیے تمہارے اعمال
نہیں کوئی جھگڑا
ہمارے درمیان اور تمہارے درمیان
اللہ تعالیٰ
جمع کردے گا ہمارے درمیان
اور اسی کی طرف لوٹنا ہے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
عَدْل:دوسرے کو اس کا پورا پورا حق یا اس کی مالیت کے برابر اس کا عوض دینا اور تناسب اور مساوات کو ملحوظ رکھنا اور اس کا استعمال ظاہری اور باطنی اموار میں عام ہیں۔