اور کسی بشر کے لیے ممکن نہیںکہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے، یا پردے کے پیچھے سے، یا یہ کہ وہ کوئی رسول بھیجے، پھر اپنے حکم کے ساتھ وحی کرے جو چاہے، بے شک وہ بے حد بلند، کمال حکمت والا ہے۔[51]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَمَا
کَانَ
لِبَشَرٍ
اَنۡ
یُّکَلِّمَہُ
اللّٰہُ
اِلَّا
وَحۡیًا
اَوۡ
مِنۡ وَّرَآیِٔ
حِجَابٍ
اَوۡ
یُرۡسِلَ
رَسُوۡلًا
فَیُوۡحِیَ
بِاِذۡنِہٖ
مَا
یَشَآءُ
اِنَّہٗ
عَلِیٌّ
حَکِیۡمٌ
اور نہیں
ہے
کسی انسان کے لیے
کہ
کلام کرے اس سے
اللہ
مگر
وحی کے طور پر
یا
پیچھے سے
پردے کے
یا
وہ بھیجے
کوئی رسول(فرشتہ)
تو وہ وحی پہنچاتا ہے
اس کے اذن سے
جو
وہ چاہتا ہے
یقیناً وہ
بہت بلند ہے
خوب حکمت والا ہے
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَمَا کَانَ
لِبَشَرٍ
اَنۡ
یُّکَلِّمَہُ
اللّٰہُ
اِلَّا
وَحۡیًا
اَوۡ
مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ
اَوۡیُرۡسِلَ
رَسُوۡلًا
فَیُوۡحِیَ
بِاِذۡنِہٖ
مَا
یَشَآءُ
اِنَّہٗ
عَلِیٌّ
حَکِیۡمٌ
اورنہیں ہے
کسی انسان کے لیے
یہ کہ
کلام کرے اس سے
اللہ تعالیٰ
مگر
وحی سے
یا
پردے کے پیچھے سے
یاوہ بھیجے
کوئی رسول
پھروحی کرے
اپنے حکم سے
جو
وہ چاہے
یقیناًوہ
بے حدبلند
کمال حکمت والاہے
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَمَا كَانَ
لِبَشَرٍ
اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ
اِلَّا وَحْيًا
اَوْ مِنْ
وَّرَآئِ حِجَابٍ
اَوْ يُرْسِلَ
رَسُوْلًا
فَيُوْحِيَ
بِاِذْنِهٖ
مَا يَشَآءُ
اِنَّهٗ
عَلِيٌّ حَكِيْمٌ
اور نہیں ہے
کسی بشر کے لیے
کہ کلام کرے اس سے اللہ
مگر وحی کے طور پر
یا، سے
پردے کے پیچھے سے
یا وہ بھیجتے
کوئی پہنچانے والا
تو وہ وحی کرے
ساتھ اس کے اذن کے
جو وہ چاہے
یقینا وہ
بلند ہے، حکمت والا ہے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]