جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے قسمیں کھائیں گے جس طرح تمھارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز پر (قائم) ہیں، سن لو! یقینا وہی اصل جھوٹے ہیں ۔[18]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
یَوۡمَ
یَبۡعَثُہُمُ
اللّٰہُ
جَمِیۡعًا
فَیَحۡلِفُوۡنَ
لَہٗ
کَمَا
یَحۡلِفُوۡنَ
لَکُمۡ
وَیَحۡسَبُوۡنَ
اَنَّہُمۡ
عَلٰی
شَیۡءٍ
اَلَاۤ
اِنَّہُمۡ
ہُمُ
الۡکٰذِبُوۡنَ
جس دن
اٹھائے گا انہیں
اللہ
سب کے سب کو
پھر وہ قسمیں کھائیں گے
اس کے سامنے
جیسا کہ
وہ قسمیں کھاتےہیں
تمہارے سامنے
اور وہ سمجھتے ہیں
بےشک وہ
اوپر
ایک چیز کے ہیں
خبردار
بےشک وہ
وہی
جھوٹے ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
یَوۡمَ
یَبۡعَثُہُمُ
اللّٰہُ
جَمِیۡعًا
فَیَحۡلِفُوۡنَ
لَہٗ
کَمَا
یَحۡلِفُوۡنَ
لَکُمۡ
وَیَحۡسَبُوۡنَ
اَنَّہُمۡ
عَلٰی شَیۡءٍ
اَلَاۤ
اِنَّہُمۡ
ہُمُ
الۡکٰذِبُوۡنَ
جس دن
اٹھائے گاان کو
اللہ تعالیٰ
سب کو
تووہ قسمیں کھائیں گے
اس کے لیے
جیساکہ
وہ قسمیں کھاتے ہیں
تمہارے لیے
اوروہ گمان کریں گے
یقیناًوہ
کسی چیزپرہیں
سن لو
بلاشبہ وہ
وہی
جھوٹے ہیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
يَوْمَ
يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ
جَمِيْعًا
فَيَحْلِفُوْنَ
لَهٗ
كَمَا
يَحْلِفُوْنَ
لَكُمْ
وَيَحْسَبُوْنَ
اَنَّهُمْ
عَلٰي شَيْءٍ ۭ
اَلَآ
اِنَّهُمْ
هُمُ
الْكٰذِبُوْنَ
جس دن
انہیں اٹھائے گا اللہ
سب
تو وہ قسمیں کھائینگے
اس کے لئے
جیسے
وہ قسمیں کھاتے ہیں
تمہارے لئے، سامنے
اور وہ گمان کرتے ہیں
کہ وہ
کسی شے پر
یاد رکھو
بیشک وہ
وہی
جھوٹے
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]