تم نے گمان نہ کیاتھا کہ وہ نکل جائیں گے اور انھوں نے سمجھ رکھا تھا کہ یقینا ان کے قلعے انھیں اللہ سے بچانے والے ہیں۔ تو اللہ ان کے پاس آیا جہاں سے انھوں نے گمان نہیں کیا تھا اور اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا، وہ اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں اور مومنوں کے ہاتھوں کے ساتھ برباد کر رہے تھے، پس عبرت حاصل کرو اے آنکھوں والو![2]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
ہُوَ
الَّذِیۡۤ
اَخۡرَجَ
الَّذِیۡنَ
کَفَرُوۡا
مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ
مِنۡ دِیَارِہِمۡ
لِاَوَّلِ الۡحَشۡرِ
مَا
ظَنَنۡتُمۡ
اَنۡ
یَّخۡرُجُوۡا
وَظَنُّوۡۤا
اَنَّہُمۡ
مَّانِعَتُہُمۡ
حُصُوۡنُہُمۡ
مِّنَ اللّٰہِ
فَاَتٰىہُمُ
اللّٰہُ
مِنۡ حَیۡثُ
لَمۡ
یَحۡتَسِبُوۡا
وَ قَذَفَ
فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ
الرُّعۡبَ
یُخۡرِبُوۡنَ
بُیُوۡتَہُمۡ
بِاَیۡدِیۡہِمۡ
وَاَیۡدِی
الۡمُؤۡمِنِیۡنَ
فَاعۡتَبِرُوۡا
یٰۤاُولِی الۡاَبۡصَارِ
وہی ہے
جس نے
نکال دیا
ان لوگوں کو جنہوں نے
کفر کیا
اہل کتاب میں سے
ان کے گھروں سے
پہلے حشر/اکٹھ میں
نہیں
گمان کیا تم نے
کہ
وہ نکل جائیں گے
اور وہ سمجھ رہے تھے
کہ بےشک وہ
بچانے والے ہیں انہیں
قلعے ان کے
اللہ سے
پس آیا ان کے پاس
اللہ
جہاں سے
نہیں
انہوں نے گمان کیا
اور اس نے ڈال دیا
ان کے دلوں میں
رعب
وہ برباد کررہے تھے
اپنے گھروں کو
اپنے ہاتھوں سے
اور ہاتھوں سے
مومنوں کے
پس عبرت پکڑو
اے آنکھوں والو
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
ہُوَ
الَّذِیۡۤ
اَخۡرَجَ
الَّذِیۡنَ
کَفَرُوۡا
مِنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ
مِنۡ دِیَارِہِمۡ
لِاَوَّلِ الۡحَشۡرِ
مَا
ظَنَنۡتُمۡ
اَنۡ
یَّخۡرُجُوۡا
وَظَنُّوۡۤا
اَنَّہُمۡ
مَّانِعَتُہُمۡ
حُصُوۡنُہُمۡ
مِّنَ اللّٰہِ
فَاَتٰىہُمُ
اللّٰہُ
مِنۡ حَیۡثُ
لَمۡ یَحۡتَسِبُوۡا
وَ قَذَفَ
فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ
الرُّعۡبَ
یُخۡرِبُوۡنَ
بُیُوۡتَہُمۡ
بِاَیۡدِیۡہِمۡ
وَاَیۡدِی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ
فَاعۡتَبِرُوۡا
یٰۤاُولِی الۡاَبۡصَارِ
وہی ہے
جس نے
نکال دیا
ان لوگوں کو
جنہوں نے کفرکیا
اہل کتاب سے
ان کے گھروں سے
پہلے اکٹھ میں
نہ
تم نے گمان کیا
یہ کہ
وہ نکلیں گے
اورسمجھاتھاانہوں نے
یقیناًان کو
بچانے والے ہیں
قلعے ان کے
اﷲتعالیٰ سے
توآیاان پر
اﷲتعالیٰ
جہاں سے
نہیں انہیں خیال تھا
اوراس نے ڈال دیا
ان کے دلوں میں
رعب
وہ بربادکررہے تھے
اپنے گھروں کو
اپنے ہاتھوں سے
اورمومنوں کے ہاتھوں سے
سب عبرت حاصل کرو
اے آنکھوں والو!
حافظ نذر احمد حفظه الله
هُوَ
الَّذِيْٓ
اَخْرَجَ
الَّذِيْنَ
كَفَرُوْا
مِنْ
اَهْلِ الْكِتٰبِ
مِنْ دِيَارِهِمْ
لِاَوَّلِ الْحَشْرِ ڼ
مَا ظَنَنْتُمْ
اَنْ يَّخْرُجُوْا
وَظَنُّوْٓا
اَنَّهُمْ
مَّانِعَتُهُمْ
حُصُوْنُهُمْ
مِّنَ اللّٰهِ
فَاَتٰىهُمُ
اللّٰهُ
مِنْ حَيْثُ
لَمْ يَحْتَسِبُوْا ۤ
وَقَذَفَ
فِيْ قُلُوْبِهِمُ
الرُّعْبَ
يُخْرِبُوْنَ
بُيُوْتَهُمْ
بِاَيْدِيْهِمْ
وَاَيْدِي
الْمُؤْمِنِيْنَ ۤ
فَاعْتَبِرُوْا
يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ
وہی ہے
جس نے
نکالا
جن لوگوں نے
کفر کیا
سے، کے
اہل کتاب
ان کے گھروں سے
پہلے اجتماع (لشکر) پر
تمہیں گمان نہ تھا
کہ وہ نکلیں گے
اور وہ خیال کرتے تھے
کہ وہ
انہیں بچالیں گے
ان کے قلعے
اللہ سے
تو ان پر آیا
اللہ
جہاں سے
انہیں گمان نہ تھا
اور اس نے ڈالا
ان کے دلوں میں
رعب
وہ برباد کرنے لگے
اپنے گھر
اپنے ہاتھوں سے
اور ہاتھوں
مومنوں
تو تم عبرت پکڑو
اے نگاہ والو
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]