اور جب تو انھیں دیکھے تجھے ان کے جسم اچھے لگیں گے اور اگر وہ بات کریں تو تو ان کی بات پر کان لگائے گا، گویا وہ ٹیک لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں، ہر بلند آواز کو اپنے خلاف گمان کرتے ہیں۔ یہی اصل دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہ۔ اللہ انھیں ہلاک کرے، کہاں بہکائے جا رہے ہیں۔[4]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَاِذَا
رَاَیۡتَہُمۡ
تُعۡجِبُکَ
اَجۡسَامُہُمۡ
وَاِنۡ
یَّقُوۡلُوۡا
تَسۡمَعۡ
لِقَوۡلِہِمۡ
کَاَنَّہُمۡ
خُشُبٌ
مُّسَنَّدَۃٌ
یَحۡسَبُوۡنَ
کُلَّ
صَیۡحَۃٍ
عَلَیۡہِمۡ
ہُمُ
الۡعَدُوُّ
فَاحۡذَرۡہُمۡ
قٰتَلَہُمُ
اللّٰہُ
اَنّٰی
یُؤۡفَکُوۡنَ
اور جب
دیکھیں آپ انہیں
اچھےلگیں گے آپ کو
جسم ان کے
اور اگر
وہ بات کریں
آپ سنتے رہ جائیں
ان کی بات کو
گویا کہ وہ
لکڑیاں ہیں
ٹیک لگائی ہوئیں
وہ گمان کرتے ہیں
ہر
بلند آواز کو
اپنے اوپر
وہی
دشمن ہیں
پس آپ محتاط رہیے ان سے
غارت کرے انہیں
اللہہ
کہاں سے
وہ پھیرے جاتے ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَاِذَا
رَاَیۡتَہُمۡ
تُعۡجِبُکَ
اَجۡسَامُہُمۡ
وَاِنۡ
یَّقُوۡلُوۡا
تَسۡمَعۡ
لِقَوۡلِہِمۡ
کَاَنَّہُمۡ
خُشُبٌ
مُّسَنَّدَۃٌ
یَحۡسَبُوۡنَ
کُلَّ
صَیۡحَۃٍ
عَلَیۡہِمۡ
ہُمُ
الۡعَدُوُّ
فَاحۡذَرۡہُمۡ
قٰتَلَہُمُ
اللّٰہُ
اَنّٰی
یُؤۡفَکُوۡنَ
اورجب
آپ انہیں دیکھیں
اچھے لگے اآپ کو
جسم ان کے
اور اگر
وہ کہیں
تم سنتے رہ جاؤگے
ان کی باتیں
گویاکہ وہ
لکڑیاں ہیں
ٹیک لگائی ہوئی
وہ سمجھتے ہیں
ہر
بلندآوازکو
اپنے خلاف
وہی
اصل دشمن ہیں
چنانچہ آپ ان سے چوکنے رہیں
ہلاک کرے انہیں
اﷲتعالیٰ
کہاں سے
وہ بہکائے جارہے ہیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَاِذَا
رَاَيْتَهُمْ
تُعْجِبُكَ
اَجْسَامُهُمْ
وَاِنْ يَّقُوْلُوْا
تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْ
كَاَنَّهُمْ
خُشُبٌ
مُّسَنَّدَةٌ
يَحْسَبُوْنَ
كُلَّ صَيْحَةٍ
عَلَيْهِمْ
هُمُ
الْعَدُوُّ
فَاحْذَرْهُمْ
قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ
اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ
پھر جب
تم دیکھو ان کو
اچھے لگیں گے تم کو
ان کے جسم
اور اگر وہ بات کریں
تم سنتے جاؤ ان کی بات کو
گویا کہ وہ
لکڑیاں ہیں
تختہ لگائی ہوئیں
وہ سمجھتے ہیں
ہر سخت آواز کو
اپنے اوپر
وہ
دشمن ہیں
پس ڈرو ان سے۔ بچو ان سے
غارت کرے ان کو اللہ
کہاں سے وہ پھرے جاتے ہیں
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]