عنقریب تم کچھ اور لوگ پائو گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں، وہ جب بھی فتنے کی طرف لوٹائے جاتے ہیں اس میں الٹا دیے جاتے ہیں، تو اگر وہ نہ تم سے الگ رہیں اور نہ صلح کا پیغام بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھ روکیں تو انھیں پکڑو اور انھیں قتل کرو جہاں انھیں پائو اور یہی لوگ ہیں جن کے خلاف ہم نے تمھارے لیے واضح دلیل بنا دی ہے۔[91]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
سَتَجِدُوۡنَ
اٰخَرِیۡنَ
یُرِیۡدُوۡنَ
اَنۡ
یَّاۡمَنُوۡکُمۡ
وَیَاۡمَنُوۡا
قَوۡمَہُمۡ
کُلَّمَا
رُدُّوۡۤا
اِلَی الۡفِتۡنَۃِ
اُرۡکِسُوۡا
فِیۡہَا
فَاِنۡ
لَّمۡ
یَعۡتَزِلُوۡکُمۡ
وَیُلۡقُوۡۤا
اِلَیۡکُمُ
السَّلَمَ
وَیَکُفُّوۡۤا
اَیۡدِیَہُمۡ
فَخُذُوۡہُمۡ
وَاقۡتُلُوۡہُمۡ
حَیۡثُ
ثَقِفۡتُمُوۡہُمۡ
وَاُولٰٓئِکُمۡ
جَعَلۡنَا
لَکُمۡ
عَلَیۡہِمۡ
سُلۡطٰنًا
مُّبِیۡنًا
عنقریب تم پاؤ گے
کچھ دوسروں کو
وہ چاہتے ہیں
کہ
وہ امن میں رہیں تم سے
اور وہ امن میں رہیں
اپنی قوم سے
جب کبھی
وہ لوٹائے جاتے ہیں
طرف فتنے کے
وہ الٹا دئیے جاتے ہیں
اس میں
پھر اگر
نہ
وہ الگ رہیں تم سے
اور (نہ )وہ ڈالیں
طرف تمہارے
صلح کو
اور نہ وہ روکیں
اپنے ہاتھوں کو
تو پکڑو انہیں
اور قتل کرو انہیں
جہاں کہیں
پاؤ ا تم نہیں
اور یہی وہ لوگ ہیں
بنایا ہم نے
تمہارے لیے
جن پر
غلبہ
واضح
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
سَتَجِدُوۡنَ
اٰخَرِیۡنَ
یُرِیۡدُوۡنَ
اَنۡ
یَّاۡمَنُوۡکُمۡ
وَیَاۡمَنُوۡا
قَوۡمَہُمۡ
کُلَّمَا
رُدُّوۡۤا
اِلَی الۡفِتۡنَۃِ
اُرۡکِسُوۡا
فِیۡہَا
فَاِنۡ
لَّمۡ یَعۡتَزِلُوۡکُمۡ
وَیُلۡقُوۡۤا
اِلَیۡکُمُ
السَّلَمَ
وَیَکُفُّوۡۤا
اَیۡدِیَہُمۡ
فَخُذُوۡہُمۡ
وَاقۡتُلُوۡہُمۡ
حَیۡثُ
ثَقِفۡتُمُوۡہُمۡ
وَاُولٰٓئِکُمۡ
جَعَلۡنَا
لَکُمۡ
عَلَیۡہِمۡ
سُلۡطٰنًا
مُّبِیۡنًا
جلد ہی تم پاؤ گے
کچھ دوسرے لوگوں کو
وہ ارادہ رکھتے ہیں
یہ کہ
وہ امن میں رہیں تم سے
اور وہ امن میں رہیں
اپنی قوم سے
جب کبھی
انہیں لوٹایا جاتا ہے
فتنے کی طرف
وہ اوندھے ڈال دیے جاتے ہیں
اس میں
چنانچہ اگر
نہ وہ الگ رہیں تم سے
اور(نہ)وہ پیش کریں
طرف تمہاری
صلح
اور(نہ)وہ روکے رکھیں
اپنے ہاتھ
تو تم پکڑو ان کو
اور تم قتل کرو ان کو
جہاں بھی
تم پاؤ ان کو
اور یہی لوگ ہیں
بنا دی ہے ہم نے
تمہارے لیے
خلاف ان کے
دلیل
واضح
حافظ نذر احمد حفظه الله
سَتَجِدُوْنَ
اٰخَرِيْنَ
يُرِيْدُوْنَ
اَنْ يَّاْمَنُوْكُمْ
وَ
يَاْمَنُوْا
قَوْمَھُمْ
كُلَّمَا
رُدُّوْٓا
اِلَى الْفِتْنَةِ
اُرْكِسُوْا
فِيْھَا
فَاِنْ
لَّمْ يَعْتَزِلُوْكُمْ
وَيُلْقُوْٓا
اِلَيْكُمُ
السَّلَمَ
وَيَكُفُّوْٓا
اَيْدِيَھُمْ
فَخُذُوْھُمْ
وَاقْتُلُوْھُمْ
حَيْثُ
ثَقِفْتُمُوْھُمْ
وَاُولٰٓئِكُمْ
جَعَلْنَا
لَكُمْ
عَلَيْهِمْ
سُلْطٰنًا
مُّبِيْنًا
اب تم پاؤ گے
اور لوگ
وہ چاہتے ہیں
کہ تم سے امن میں رہیں
اور
امن میں رہیں
اپنی قوم
جب کبھی
لوٹائے (بلائے جاتے ہیں)
فتنہ کی طرف
پلٹ جاتے ہیں
اس میں
پس اگر
تم سے کنارہ کشی نہ کریں
اور (نہ) ڈالیں وہ
تمہاری طرف
صلح
اور روکیں
اپنے ہاتھ
تو انہیں پکڑو
اور انہیں قتل کرو
جہاں کہیں
تم انہیں پاؤ
اور یہی لوگ
ہم نے دی
تمہارے لیے
ان پر
سند (حجت)
کھلی
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
فَتَنَ:بذات خود سخت مگر دل کشی سے ہوتی ہے۔ یعنی بالعموم ایسی چیزوں سے ہوتی ہے جن سے انسان کا دلی لگاؤ ہو۔ دوسرے تو کیا بسا اوقات خود مفتون کو بھی اس آزمائش کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ اس میں مبتلا ہے۔