اور انھوں نے سمجھا کہ کوئی فتنہ واقع نہ ہوگا تو وہ اندھے ہوگئے اور بہرے ہوگئے، پھر اللہ ان پر مہربان ہوگیا، پھر ان میں بہت سے اندھے ہو گئے اور بہرے ہوگئے اور اللہ خوب دیکھنے والا ہے جو وہ کرتے ہیں۔[71]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَحَسِبُوۡۤا
اَلَّا
تَکُوۡنَ
فِتۡنَۃٌ
فَعَمُوۡا
وَصَمُّوۡا
ثُمَّ
تَابَ
اللّٰہُ
عَلَیۡہِمۡ
ثُمَّ
عَمُوۡا
وَصَمُّوۡا
کَثِیۡرٌ
مِّنۡہُمۡ
وَاللّٰہُ
بَصِیۡرٌۢ
بِمَا
یَعۡمَلُوۡنَ
اور انہوں نے سمجھا
کہ نہ
ہوگا
کوئی فتنہ
تو وہ اندھے ہو گئے
اور وہ بہرے ہوگئے
پھر
مہربان ہوا
اللہ
ان پر
پھر
وہ اندھے ہو گئے
اور بہرے ہوگئے
اکثر
ان میں سے
اور اللہ
خوب دیکھنے والا ہے
اس کو جو
وہ عمل کرتے ہیں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَحَسِبُوۡۤا
اَلَّا
تَکُوۡنَ
فِتۡنَۃٌ
فَعَمُوۡا
وَصَمُّوۡا
ثُمَّ
تَابَ
اللّٰہُ
عَلَیۡہِمۡ
ثُمَّ
عَمُوۡا
وَصَمُّوۡا
کَثِیۡرٌ
مِّنۡہُمۡ
وَاللّٰہُ
بَصِیۡرٌۢ
بِمَا
یَعۡمَلُوۡنَ
اور انہوں نے سمجھ لیا تھا
یہ کہ نہ
ہو گی
کوئی پکڑ
تو وہ اندھے ہو گئے
اوروہ بہرے بن گئے
پھر
مہربان ہوا
اللہ تعالیٰ
ان پر
پھر
وہ اندھے ہو گئے
اور بہرے ہوگئے
بہت سے
ان میں سے
اور اللہ تعالیٰ
سب کچھ دیکھنے والا ہے
اس کو جو
وہ عمل کرتے ہیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَ
حَسِبُوْٓا
اَلَّا تَكُوْنَ
فِتْنَةٌ
فَعَمُوْا
وَ
صَمُّوْا
ثُمَّ
تَابَ
اللّٰهُ
عَلَيْهِمْ
ثُمَّ
عَمُوْا
وَصَمُّوْا
كَثِيْرٌ
مِّنْهُمْ
وَاللّٰهُ
بَصِيْرٌ
بِمَا
يَعْمَلُوْنَ
اور
انہوں نے گمان کیا
کہ نہ ہوگی
کوئی خرابی
سو وہ اندھے ہوئے
اور
بہرے ہوگئے
تو
توبہ قبول کی
اللہ
ان کی
پھر
اندھے ہوگئے
اور بہرے ہوگئے
اکثر
ان سے
اور اللہ
دیکھ رہا ہے
جو
وہ کرتے ہیں
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
فَتَنَ:بذات خود سخت مگر دل کشی سے ہوتی ہے۔ یعنی بالعموم ایسی چیزوں سے ہوتی ہے جن سے انسان کا دلی لگاؤ ہو۔ دوسرے تو کیا بسا اوقات خود مفتون کو بھی اس آزمائش کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ اس میں مبتلا ہے۔