اور انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی، جو اس کی قدر کا حق تھا، جب انھوں نے کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کوئی چیز نہیں اتاری۔ کہہ وہ کتاب کس نے اتاری جو موسیٰ لے کر آیا؟ جو لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی، تم اسے چند ورق بناتے ہو، جنھیں ظاہر کرتے ہو اور بہت سے چھپاتے ہو اور تمھیں وہ علم دیا گیا جو نہ تم نے جانا اور نہ تمھارے باپ دادا نے۔ کہہ اللہ نے، پھر انھیں چھوڑ دے، اپنی (فضول) بحث میں کھیلتے رہیں۔[91]
ڈاکٹر فرحت ہاشمی حفظها الله
وَمَا
قَدَرُوا
اللّٰہَ
حَقَّ
قَدۡرِہٖۤ
اِذۡ
قَالُوۡا
مَاۤ
اَنۡزَلَ
اللّٰہُ
عَلٰی بَشَرٍ
مِّنۡ شَیۡءٍ
قُلۡ
مَنۡ
اَنۡزَلَ
الۡکِتٰبَ
الَّذِیۡ
جَآءَ
بِہٖ
مُوۡسٰی
نُوۡرًا
وَّ ہُدًی
لِّلنَّاسِ
تَجۡعَلُوۡنَہٗ
قَرَاطِیۡسَ
تُبۡدُوۡنَہَا
وَتُخۡفُوۡنَ
کَثِیۡرًا
وَعُلِّمۡتُمۡ
مَّا
لَمۡ
تَعۡلَمُوۡۤا
اَنۡتُمۡ
وَلَاۤ
اٰبَآؤُکُمۡ
قُلِ
اللّٰہُ
ثُمَّ
ذَرۡہُمۡ
فِیۡ خَوۡضِہِمۡ
یَلۡعَبُوۡنَ
اور نہیں
انہوں نے قدر کی
اللہ کی
جس طرح حق ہے
اس کی قدر کرنے کا
جب
انہوں نے کہا
نہیں
نازل کی
اللہ نے
کسی انسان پر
کوئی چیز
کہہ دیجیے
کس نے
نازل کی
کتاب
وہ جو
لائے
اسے
موسی
نور
اور ہدایت تھی
لوگوں کے لیے
تم بنا دیتے ہو اسے
ورق ورق
تم ظاہر کرتے ہو اسے
اور تم چھپاتے ہو
بہت سا
اور سکھائے گئےہو تم
جو
نہیں
تم جانتے تھے
تم
اور نہ
ابائو اجداد تمہارے
کہہ دیجیے
اللہ نے (اتارا ہے)
پھر
چھوڑ دیجیے انہیں
اپنی بحث میں
وہ کھیلتے پھریں
ڈاکٹر نگہت ہاشمی حفظها الله
وَمَا
قَدَرُوا
اللّٰہَ
حَقَّ
قَدۡرِہٖۤ
اِذۡ
قَالُوۡا
مَاۤ
اَنۡزَلَ
اللّٰہُ
عَلٰی بَشَرٍ
مِّنۡ شَیۡءٍ
قُلۡ
مَنۡ
اَنۡزَلَ
الۡکِتٰبَ
الَّذِیۡ
جَآءَ
بِہٖ
مُوۡسٰی
نُوۡرًا
وَّ ہُدًی
لِّلنَّاسِ
تَجۡعَلُوۡنَہٗ
قَرَاطِیۡسَ
تُبۡدُوۡنَہَا
وَتُخۡفُوۡنَ
کَثِیۡرًا
وَعُلِّمۡتُمۡ
مَّا
لَمۡ تَعۡلَمُوۡۤا
اَنۡتُمۡ
وَلَاۤ
اٰبَآؤُکُمۡ
قُلِ
اللّٰہُ
ثُمَّ
ذَرۡہُمۡ
فِیۡ خَوۡضِہِمۡ
یَلۡعَبُوۡنَ
اور نہیں
انہوں نے قدر پہچانی
اللہ تعالیٰ کی
حق ہے
اسکی قدر کا
جب
انہوں نے کہا
نہیں
نازل کیا
اللہ تعالیٰ نے
کسی انسان پر
کچھ بھی
آپ کہہ دیں
کس نے
اُتاری تھی
کتاب
جو
لے کر آئے تھے
اس کو
موسیٰؑ
روشنی تھی
اور ہدایت
انسانوں کے لیے
تم بناتے ہواس کو
چند ورق
تم ظاہرکرتے ہو اس کو
اور تم چھپاتے ہو
بہت کچھ
اور سکھائے گئے ہو تم
جسے
نہیں تم جانتے
تم
اور نہ
باپ دادا تمہارے
آپ کہہ دیں
اللہ تعالیٰ ہی نے
پھر
آپ چھوڑ دو اُن کو
ان کی فضول بحثوں میں
وہ کھیلتے ہیں
حافظ نذر احمد حفظه الله
وَمَا
قَدَرُوا
اللّٰهَ
حَقَّ
قَدْرِهٖٓ
اِذْ قَالُوْا
مَآ
اَنْزَلَ
اللّٰهُ
عَلٰي
بَشَرٍ
مِّنْ شَيْءٍ
قُلْ
مَنْ
اَنْزَلَ
الْكِتٰبَ
الَّذِيْ
جَآءَ بِهٖ
مُوْسٰي
نُوْرًا
وَّهُدًى
لِّلنَّاسِ
تَجْعَلُوْنَهٗ
قَرَاطِيْسَ
تُبْدُوْنَهَا
وَتُخْفُوْنَ
كَثِيْرًا
وَعُلِّمْتُمْ
مَّا
لَمْ تَعْلَمُوْٓا
اَنْتُمْ
وَلَآ
اٰبَآؤُكُمْ
قُلِ
اللّٰهُ
ثُمَّ
ذَرْهُمْ
فِيْ
خَوْضِهِمْ
يَلْعَبُوْنَ
اور نہیں
انہوں نے قدر جانی
اللہ
حق
اس کی قدر
جب انہوں نے کہا
نہیں
اتاری
اللہ
پر
کوئی انسان
کوئی چیز
آپ کہ دیں
کس
اتاری
کتاب
وہ جو
لائے اس کو
موسیٰ
روشنی
اور ہدایت
لوگوں کے لیے
تم نے کردیا اس کو
ورق ورق
تم ظاہر کرتے ہو اس کو
اور تم چھپاتے ہو
اکثر
اور سکھایا تمہیں
جو
تم نہ جانتے تھے
تم
اور نہ
تمہارے باپ دادا
آپ کہ دیں
اللہ
پھر
انہیں چھوڑ دیں
میں
اپنے بیہودہ شغل
وہ کھیلتے رہیں
لفظ / روٹ
[ترجمہ] / [مترادفات] / [مصباح القرآن لفظ کی اردو میں استعمال کی وضاحت]
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔
قَدَّرَ:وہ قوانین فطرت ہے جو اللہ تعالی نے اپنے علم و حکمت سے مقرر کر رکھے ہیں اور یہ مستحق الدلائل ہوتے ہیں اور قَدَّرَ ایسے قوانین پر مبنی اندازہ کو کہتے ہیں۔