قرآنی آیات
قرآن پاک لفظ
الْبَحْرِ
کے تحت آنے والی قرآنی آیات
نمبر |
لفظ |
آیت |
1 |
الْبَحْرِ |
إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَاءٍ فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيَاحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ [2-البقرة:164]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
آسمانوں اور زمین کی پیدائش، رات دن کا ہیر پھیر، کشتیوں کا لوگوں کو نفع دینے والی چیزوں کو لئے ہوئے سمندروں میں چلنا، آسمان سے پانی اتار کر، مرده زمین کو زنده کردینا، اس میں ہر قسم کے جانوروں کو پھیلا دینا، ہواؤں کے رخ بدلنا، اور بادل، جو آسمان اور زمین کے درمیان مسخر ہیں، ان میں عقلمندوں کے لئے قدرت الٰہی کی نشانیاں ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
بےشک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں اور جہازوں میں جو دریا میں لوگوں کے فائدے کی چیزیں لے کر رواں ہیں اور مینہ میں جس کو خدا آسمان سے برساتا اور اس سے زمین کو مرنے کے بعد زندہ (یعنی خشک ہوئے پیچھے سرسبز) کردیتا ہے اور زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلانے میں اور ہواؤں کے چلانےمیں اور بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان گھرے رہتے ہیں۔ عقلمندوں کے لئے (خدا کی قدرت کی) نشانیاں ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو لوگوں کو نفع دیتی ہیں اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا، پھر اس کے ساتھ زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیا اور اس میں ہر قسم کے جانور پھیلا دیے اور ہوائوں کے بدلنے میں اور اس بادل میں جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر کیا ہوا ہے، ان لوگوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں جو سمجھتے ہیں۔
|
2 |
الْبَحْرِ |
أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ مَتَاعًا لَكُمْ وَلِلسَّيَّارَةِ وَحُرِّمَ عَلَيْكُمْ صَيْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ [5-المائدة:96]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
تمہارے لئے دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے۔ تمہارے فائده کے واسطے اور مسافروں کے واسطے اور خشکی کا شکار پکڑنا تمہارے لئے حرام کیا گیا ہے جب تک تم حالت احرام میں رہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس کے پاس جمع کئے جاؤ گے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
تمہارے لیے دریا (کی چیزوں) کا شکار اور ان کا کھانا حلال کر دیا گیا ہے (یعنی) تمہارے اور مسافروں کے فائدے کے لیے اور جنگل (کی چیزوں) کا شکار جب تک تم احرام کی حالت میں رہو تم پر حرام ہے اور خدا سے جس کے پاس تم (سب) جمع کئے جاؤ گے ڈرتے رہو
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
تمھارے لیے سمندر کا شکار حلال کر دیا گیا اور اس کا کھانا بھی، اس حال میں کہ تمھارے لیے سامان زندگی ہے اور قافلے کے لیے اور تم پر خشکی کا شکار حرام کر دیا گیا ہے، جب تک تم احرام والے رہو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔
|
3 |
الْبَحْرِ |
وَاسْأَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَيَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ لَا تَأْتِيهِمْ كَذَلِكَ نَبْلُوهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ [7-الأعراف:163]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور آپ ان لوگوں سے، اس بستی والوں کا جو کہ دریائے (شور) کے قریب آباد تھے اس وقت کا حال پوچھئے! جب کہ وه ہفتہ کے بارے میں حد سے نکل رہے تھے جب کہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان کی مچھلیاں ﻇاہر ہو ہو کر ان کے سامنے آتی تھیں، اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں، ہم ان کی اس طرح پر آزمائش کرتے تھے اس سبب سے کہ وه بےحکمی کیا کرتے تھے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جب لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان کے ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور ان سے اس بستی کے بارے پوچھ جو سمندر کے کنارے پر تھی، جب وہ ہفتے کے دن میں حد سے تجاوز کرتے تھے، جب ان کی مچھلیاں ان کے ہفتے کے دن سر اٹھائے ہوئے ان کے پاس آتیں اور جس دن ان کا ہفتہ نہ ہوتا وہ ان کے پاس نہ آتی تھیں، اس طرح ہم ان کی آزمائش کرتے تھے، اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔
|
4 |
الْبَحْرِ |
اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِيَ فِي الْبَحْرِ بِأَمْرِهِ وَسَخَّرَ لَكُمُ الْأَنْهَارَ [14-إبراهيم:32]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اللہ وه ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور آسمانوں سے بارش برسا کر اس کے ذریعے سے تمہاری روزی کے لیے پھل نکالے ہیں اور کشتیوں کو تمہارے بس میں کردیا ہے کہ دریاؤں میں اس کے حکم سے چلیں پھریں۔ اسی نے ندیاں اور نہریں تمہارے اختیار میں کردی ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
خدا ہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے مینہ برسایا پھر اس سے تمہارے کھانے کے لیے پھل پیدا کئے۔ اور کشتیوں (اور جہازوں) کو تمہارے زیر فرمان کیا تاکہ دریا (اور سمندر) میں اس کے حکم سے چلیں۔ اور نہروں کو بھی تمہارے زیر فرمان کیا
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر اس کے ساتھ تمھارے لیے پھلوں میں سے کچھ رزق نکالا اور تمھارے لیے کشتیوں کو مسخر کیا، تاکہ وہ سمندر میں اس کے حکم سے چلیں اور تمھاری خاطر دریاؤں کو مسخر کر دیا۔
|
5 |
الْبَحْرِ |
رَبُّكُمُ الَّذِي يُزْجِي لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ إِنَّهُ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا [17-الإسراء:66]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
تمہارا پروردگار وه ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ وه تمہارے اوپر بہت ہی مہربان ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کے فضل سے (روزی) تلاش کرو۔ بےشک وہ تم پر مہربان ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
تمھارا رب وہی ہے جو تمھارے لیے سمندر میں کشتیاں چلاتا ہے، تا کہ تم اس کا کچھ نہ کچھ فضل تلاش کرو۔ یقینا وہ ہمیشہ سے تم پر بے حد مہربان ہے۔
|
6 |
الْبَحْرِ |
وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّاكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الْإِنْسَانُ كَفُورًا [17-الإسراء:67]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور سمندروں میں مصیبت پہنچتے ہی جنہیں تم پکارتے تھے سب گم ہوجاتے ہیں صرف وہی اللہ باقی ره جاتا ہے۔ پھر جب وه تمہیں خشکی کی طرف بچا ﻻتا ہے تو تم منھ پھیر لیتے ہو اور انسان بڑا ہی ناشکرا ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے) تو جن کو تم پکارا کرتے ہو سب اس (پروردگار) کے سوا گم ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو (ڈوبنے سے) بچا کر خشکی پر لے جاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی ناشکرا
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور جب تمھیں سمندر میں تکلیف پہنچتی ہے تو اس کے سوا تم جنھیں پکارتے ہو گم ہوجاتے ہیں، پھر جب وہ تمھیں بچا کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہمیشہ سے بہت ناشکرا ہے۔
|
7 |
الْبَحْرِ |
فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَيْنِهِمَا نَسِيَا حُوتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا [18-الكهف:61]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
جب وه دونوں دریا کے سنگم پر پہنچے، وہاں اپنی مچھلی بھول گئے جس نے دریا میں سرنگ جیسا اپنا راستہ بنالیا
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
جب ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنالیا
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
تو جب وہ دونوں ان کے آپس میں ملنے کے مقام پر پہنچے تو وہ دونوں اپنی مچھلی بھول گئے، تو اس نے اپنا راستہ دریا میں سرنگ کی صورت بنالیا۔
|
8 |
الْبَحْرِ |
قَالَ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا [18-الكهف:63]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اس نے جواب دیا کہ کیا آپ نے دیکھا بھی؟ جب کہ ہم پتھر سے ٹیک لگا کر آرام کر رہے تھے وہیں میں مچھلی بھول گیا تھا، دراصل شیطان نے ہی مجھے بھلا دیا کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں۔ اس مچھلی نے ایک انوکھے طور پر دریا میں اپنا راستہ بنالیا
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
(اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا۔ اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اس نے کہا کیا تو نے دیکھا جب ہم اس چٹان کے پاس جاکر ٹھہرے تھے تو بے شک میں مچھلی بھول گیا اور مجھے وہ نہیں بھلائی مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں اور اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح سے بنالیا۔
|
9 |
الْبَحْرِ |
أَمَّا السَّفِينَةُ فَكَانَتْ لِمَسَاكِينَ يَعْمَلُونَ فِي الْبَحْرِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَعِيبَهَا وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا [18-الكهف:79]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
کشتی تو چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں کام کاج کرتے تھے۔ میں نے اس میں کچھ توڑ پھوڑ کرنے کا اراده کر لیا کیونکہ ان کے آگے ایک بادشاه تھا جو ہر ایک (صحیح سالم) کشتی کو جبراً ضبط کر لیتا تھا
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
(کہ وہ جو) کشتی (تھی) غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کرکے یعنی کشتیاں چلا کر گذارہ) کرتے تھے۔ اور ان کے سامنے (کی طرف) ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں (تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے)
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
رہی کشتی تو وہ چند مسکینوں کی تھی، جو دریا میں کام کرتے تھے، تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی چھین کر لے لیتا تھا۔
|
10 |
الْبَحْرِ |
وَلَقَدْ أَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقًا فِي الْبَحْرِ يَبَسًا لَا تَخَافُ دَرَكًا وَلَا تَخْشَى [20-طه:77]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی نازل فرمائی کہ تو راتوں رات میرے بندوں کو لے چل، اور ان کے لئے دریا میں خشک راستہ بنا لے، پھر نہ تجھے کسی کے آپکڑنے کا خطره ہوگا نہ ڈر
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ پھر ان کے لئے دریا میں (لاٹھی مار کر) خشک رستہ بنا دو پھر تم کو نہ تو (فرعون کے) آپکڑنے کا خوف ہوگا اور نہ (غرق ہونے کا) ڈر
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے جا، پس ان کے لیے سمندر میں ایک خشک راستہ بنا، نہ توپکڑے جانے سے خوف کھائے گا اور نہ ڈرے گا۔
|